جی ہاں، شیکسپیئر ہم جنس پرست بھی تھے: تحقیق

 شیکسپیئر کا جنسی میلان برسوں تک محققین کے لیے دلچسپی کا ذریعہ رہا ہے اور ایک نئی تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کے مرد اور عورتوں دونوں کے ساتھ تعلقات تھے۔

لندن کی نیشنل پورٹریٹ گیلری میں ولیم شیکسپیئر کی  پورٹریٹ (کریٹیو کامنز  / پبلک ڈومین)

محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ معروف برطانوی ڈراما نگار ولیم شیکسپیئر کے سونیٹس (نظموں) کے تازہ تجزیے سے یہ ثبوت ملا ہے کہ وہ حقیقت میں مرد اور عورت دونوں کی طرف جنسی میلان رکھتے تھے۔

نئے تحقیقی نتائج اس سال کے آخر میں کتابی شکل میں شائع کیے جائیں گے۔ بظاہر ان نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ این ہیتھوے کے ساتھ 34 سالہ شادی شدہ زندگی کے دوران شیکسپیئر کے مردوں اور عورتوں دونوں کے ساتھ تعلقات قائم تھے۔

اخبار دا ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق پروفیسر سر سٹینلی ویلز اور ڈاکٹر پال ایڈمنڈسن نے 1609 ایڈیشنز میں سے شیکسپیئر کی 154 سونیٹس کو اس ترتیب کے ساتھ مرتب کیا جس میں غالب امکان ہے وہ لکھے گئے تھے۔

ان کے ڈراموں میں موجود سونیٹس کے اضافے کے بعد محققین کے پاس ان نظموں کی تعداد 182 ہو گئی ہے۔ ان سونیٹس کا تعلق 1578 اور اس کے بعد کے دور سے ہے۔

محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ طویل عرصے سے چلنے والے نظریات کہ شیکپیئر کے حواس پر 'فیئریوتھ' چھایا ہوا تھا اور 'ڈارک لیڈی' نے انہیں گمراہ کیا غلط ہیں اور اس کی بجائے ان محققین کا دعویٰ ہے کہ یہ کردار بہت سے لوگوں کی طرف اشارے کے لیے استعمال کیے گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر ایڈمڈنسن کہتے ہیں: 'ان کے بعض سونیٹس جن میں یقیناً مرد فاعل کو مخاطب کیا گیا ان میں جنس کے اعتبار سے جو زبان استعمال کی اس سے ہمیں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ شیکپیئر مرد اور عورت دونوں کی طرف جنسی میلان رکھتے تھے۔

'1980 کی دہائی سے یہ خیال فیشن بن گیا ہے ہے کہ شیکپیئر ہم جنس پرست تھے۔ لیکن بات یہ ہے وہ شادی شدہ اور بال بچے دار تھے۔ ان سونیٹس میں کچھ میں خواتین اور دوسروں میں مردوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ اس لیے دو طرح کے جنسی میلان کی اصطلاح کا نیا دعویٰ کرنا خاصا درست معلوم ہوتا ہے۔'

 شیکسپیئر کا جنسی میلان میں برسوں تک محققین کے لیے دلچسپی کا ذریعہ رہا ہے۔ اس موضوع پر بحث کا آغاز 2014 میں ہوا اور پروفیسر ویلز ایک بار پھر اس طرف لگ گئے جنہوں نے برطانوی محقق سر برائن وکرز کے تبصرے کو چیلنج کیا تھا۔

وکرز یونیورسٹی کالج لندن میں وزیٹنگ پروفیسر ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ 'ٹائمز لٹریری سپلیمنٹ' کے کتابوں کے جائزے میں یہ کہنا غلط ہے کہ شیکسپیر کا سونیٹ 119 'بنیادی طور پر ہم جنسی پرستی کے پیرائے میں لکھا گیا تھا۔'

پروفیسر ویلز دلیل دیتے ہیں: 'جب ایک شاعر جن کا نام ولیم ہے وہ اذیت ناک اور بےشرمی پر مبنی جنسی بےتکلفی پر نظم لکھتے ہیں جس میں لفظ 'ول' کے ساتھ چٹکے بازی کی جاتی ہے جیسے (سونیٹ) نمبر 135 میں 13 مرتبہ ہوئی۔ تو ایسی صورت میں یہ نتیجہ نکالنا درست ہی ہے کہ ہو سکتا ہے انہوں نے ایسا اپنے تجربے کی گہرائی سے لکھا ہو۔'

کیمبرج یونیورسٹی پریس کی جانب سے شیکسپیئر کے تمام سونیٹ 10 ستمبر کو شائع کیے جائیں گے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ادب