کرونا وائرس سے دوسری بار متاثر ہونے کا پہلا کیس

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے دوسری بار متاثر ہونے والا دنیا کا پہلا مریض سامنے آیا ہے جس پیش رفت سے وائرس کے خلاف فطری امیونٹی اور ویکسین تیار کرنے کی امیدوں پر شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

بھارتی شہر  کولکتہ میں ایک شہری کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ کیا جا رہا ہے (اے ایف پی)

کرونا (کورونا) وائرس سے دوسری بار متاثر ہونے والا دنیا کا پہلا مریض سامنے آیا ہے جس پیش رفت سے کرونا وائرس کے خلاف فطری امیونٹی اور ویکسین تیار کرنے کی امیدوں پر شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ہانگ کانگ یونیورسٹی کے شعبہ مائیکروبیالوجی کے ری سرچرز کا کہنا ہے کہ وائرس کی جیناتی ساخت سے سامنے آیا ہے کہ ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص کچھ مہینوں کے وقفے سے وائرس کے دو مختلف ورثنز سے متاثر ہوا ہے۔

تحقیقاتی مقالے کے مطابق یہ 33 سالہ شخص جب پہلی بار کووڈ 19 سے متاثر ہوئے تو وہ بالکل صحت مند تھے۔ انہیں تین دن تک کھانسی، گلہ خراب، بخار اور سر درد محسوس ہوا تو انہوں نے کرونا ٹیسٹ کروایا جو مثبت آنے کے بعد انہیں 29 مارچ کو ہسپتال میں داخل کر لیا گیا۔

انہیں 14 اپریل کو دو مرتبہ ٹیسٹ منفی آنے کے بعد ہسپتال سے ڈس چارج کر دیا گیا تھا۔

ساڑھے چار مہینے بعد جب 15 اگست کو وہ سپین سے براستہ برطانیہ ہانگ کانگ واپس آئے تو داخلے پر سکریننگ کے دوران کا کرونا ٹیسٹ دوبارہ مثبت آ گیا۔ انہیں ایک بار پھر ہسپتال داخل کیا گیا لیکن ان میں کوئی علامات ظاہر نہ ہوئیں۔

ماہرین نے ایک کیس کی بنیاد پر نتائج اخذ کرنے میں جلدی کرنے سے منع کیا ہے لیکن ان کے مطابق اس بات کی تصدیق ہونا تشویش ناک ہے۔

اس بات کا اعلان کرتے ہوئے ہانگ کانگ یونیورسٹی کا کہنا تھا: 'ایک نوجوان اور صحت مند مریض کو کرونا کے دوسرے دور کا سامنا ہے جو کہ پہلی بار متاثر ہونے کے ساڑھے چار مہینے بعد ہوا ہے۔'

یہ کیس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک بار کرونا سے صحت یاب ہونے کے بعد یہ کچھ مہینے بعد اسی فرد کو دوبارہ متاثر کر سکتا ہے۔ ہماری تحقیق کے مطابق سارس کو وی 2 عالمی طور پر انسانی آبادی میں دوسرے کرونا وائرس سے تعلق رکھنے والے عام زکام کی طرح باقی رہ سکتا ہے حتی کہ اگر مریض نے اس وائرس کے خلاف فطری طور پر امیونٹی بھی حاصل کر لی ہو۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

''چونکہ یہ امیونٹی فطری انفیکشن کے بعد مختصر مدت کے لیے ہو سکتی ہے اس لیے ان افراد کے لیے بھی ویکسین کا سوچنا چاہیے جو ایک بار اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ وائرس سے متاثر ہونے والے مریضوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ وائرس کے ماہرین کی طرف سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر کی پیروری کریں اور ماسک اور سماجی دوری پر عمل کرتے رہیں۔'

اگر 'کلینکل انفیکشیس ڈزیزز' نامی طبی مجلے میں شائع ہونی والی تحقیق درست ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ ویکسین اس وائرس کے خلاف مستقل حفاظت نہیں کر سکتی اور لوگ ایک بار وائرس سے صحت یاب ہونے کے بعد امیون ہونے پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔

یونیورسٹی آف ایکسٹر کے ڈاکٹر ڈیوڈ سٹرین کا کہنا ہے: 'یہ کئی وجوہات کی بنیاد پر ایک پریشان کن بات ہے۔ پہلی وجہ جیسے کہ مقالے میں بیان کی گئی ہے کہ پچھلی بار متاثر ہونے کے بعد بھی آپ محفوظ نہیں ہیں۔ دوسری یہ کہ شاید ویکسین اس قسم کی حفاظت فراہم نہ کر سکے جس کا ہم انتظار کر رہے ہیں۔ ویکسین جسم میں موجود وائرس کی نقل کر کے کام کرتی ہے جس کی وجہ سے وہ جسم کو اینٹی باڈیز تیار کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ہمیں ایک ایسی حکمت عملی کی جانب جانا ہو گا جو معمول کی زندگی کی جانب آتے ہوئے وائرس کو تقریباً مکمل طور پر ختم کر دے۔'

ایسی کئی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں کہ مریض دوبارہ وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں لیکن یہ اس بیماری کی کلینکل خصوصیات کی وجہ سے ہے۔ ایسی صورت حال میں سائنسدان وائرس کی مختلف اشکال کو الگ کرنے کے لیے اس کی جیناتی ساخت کا تجزیہ کر رہے ہیں۔

دا ویلکم سانگر انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر جیفری بیرٹ زور دیتے ہیں کہ اس اطلاع پر نتائج اخذ کرنا کافی مشکل ہے جب تک مکمل ری سرچ شائع نہیں ہو جاتی۔

ان کا کہنا تھا: 'یہ یقینی طور پر ایک وائرس سے دوبارہ متاثر ہونے کا ایک مضبوط ثبوت ہے کیونکہ اس سے قبل سامنے آنے والی رپورٹس میں وائرس کی دو قسموں کو الگ کرنے کے لیے جینوم استعمال کیا گیا تھا۔ اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ یہ مریض وائرس کی دو مختلف اقسام سے متاثر ہوا ہے بجائے ایک ہی قسم کے وائرس سے دوبارہ متاثر ہونے کے۔ اس کیس کا اہم نکتہ جس کا اس پریس ریلیزمیں ذکر نہیں کیا جا رہا وہ یہ ہے کہ دوسری بار بیماری علامات کے بغیر ہے۔ یہ ہانگ کانگ ائیرپورٹ پر سکریننگ ٹیسٹ میں سامنے آیا ہے اور اس مریض نے دوبارہ متاثر ہونے کے بعد کسی قسم کی علامات ظاہر نہیں کیں۔'

ان کا کہنا ہے کہ وائرس کے عالمی کیسز کو دیکھتے ہوئے دوبارہ متاثر ہونے کا ایک کیس حیران کن نہیں ہے۔

انہوں نے انتباہ کیا کہ ایک کیس کی بنیاد پر اس حوالے سے ری سرچ میں 'اثرات' کی بات کرنا ابھی بہت عمومی بات ہو گی۔ 'یہ شاید بہت نایاب ہو اور ہو سکتا ہے یہ دوسرا وائرس ہو۔ جب یہ ہوتے ہیں تو یہ زیادہ سنگین نہیں ہوتے۔( گو کہ ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص دوسرے دور میں وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔)'

یونیورسٹی آف ریڈنگ کے سیلولر مائیکروبیالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر سائمن کلارک کہتے ہیں: 'یہ اہم بات ہے کہ کسی مسخ شدہ قسم سے متاثر ہونے کے امکانات دوبارہ اسی وائرس سے متاثر ہونے سے زیادہ ہیں کیونکہ اس وائرس سے مکمل طور پر جان نہیں چھڑائی جا سکی جیسا کہ کچھ افراد کی جانب سے بتایا جا رہا تھا۔ کسی مسخ شدہ قسم کی دریافت کوئی حیرت یا اچھنبے کی بات نہیں۔ یہ زیادہ دلچسپ ہوتا اگر کوئی مسخ شدہ اقسام موجود نہ ہوتیں۔'

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت