پلس سائز سیاہ فام خاتون کا انسٹاگرام کی برہنگی سے متعلق پالیسی کو چیلنج

انسٹاگرام نے پلس سائز سیاہ فام سوشل میڈیا انفلوئنسر نائومی نکولس ولیمز کی ایک تصویر ہٹا دی تھی جس میں وہ نیم برہنا تھیں جس کے بعد انہوں نے قواعد میں تبدیلی کے لیے ایک مہم چلائی۔

انسٹاگرام پر [email protected] کے نام اکاؤنٹ رکھنے والی نائومی نے اگست کے شروع میں ایک پوسٹ شیئر کی جس میں وہ سائکلنگ شورٹس میں کرسی پر بیٹھی ہیں، ان کے جسم کا بالائی حصہ برہنہ ہے لیکن انہوں نے اپنے سینے کو ہاتھوں سے ڈھانپ رکھا ہے۔(انسٹاگرام)

ایک پلس سائز سیاہ فام سوشل میڈیا انفلوئنسر نائومی نکولس ولیمز کی iwanttoseenyome# نامی کامیاب مہم کے بعد انسٹاگرام نیم عریانیت سے متعلق اپنی پالیسی پر نظر ثانی پر تیار ہو گیا ہے۔

انسٹاگرام پر [email protected] کے نام اکاؤنٹ رکھنے والی نائومی نے اگست کے شروع میں ایک پوسٹ شیئر کی جس میں وہ سائکلنگ شورٹس میں کرسی پر بیٹھی ہیں، ان کے جسم کا بالائی حصہ برہنہ ہے لیکن انہوں نے اپنے سینے کو ہاتھوں سے ڈھانپ رکھا ہے۔

یہ تصویر ایلکس کیمرون نامی فوٹوگرافر نے کھینچی تھی۔ انسٹاگرام نے عریانیت سے متعلق قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر یہ تصویر ہٹا دی اور ننائومی کو خبردار کیا گیا کہ یہ تصویر دوبارہ پوسٹ کرنے کی صورت میں ان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ معطل کیا جا سکتا ہے۔

چار اگست کو نے اپنے انسٹاگرام پر نائومی نے لکھا: 'میرے جسم کو ہمیشہ سینسر کیوں کیا جا رہا ہے؟ ایسا ہمیشہ بڑے جسم کی مالک سیاہ فام خواتین کے ساتھ ہوتا ہے۔ میں اس سے اکتا چکی ہوں۔ میں یہاں اپنا فن شیئر کرتی ہوں اور ہر قسم کے جسموں کو نارمل بنانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ ہر بار مجھے روک دیا جاتا ہے لیکن پریشان مت ہوں میں پھر بھی اپنا کام  جاری رکھوں گی۔'

انہوں نے بعد میں لکھا: 'سیاہ فام افراد اور ہمارے جسم سفید فاموں کے لیے نہیں ہیں!'

نائومی کی جانب سے سیاہ فام خواتین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی بحالی کے بار بار مطالبے کے بعد ایک پٹیشن شروع کی گئی جس میں انسٹاگرام پر زور دیا گیا کہ وہ 'موٹی سیاہ فام خواتین کو سینسر کرنا بند کر دے۔'

ایک ماہ سے کم عرصے میں اس پیٹیشن پر 15 ہزار افراد نے دستخط کیے۔

پٹیشن میں کہا گیا: 'حال ہی میں سامنے آیا ہے (اگرچہ یہ ایک بنیادی مسئلہ ہے) کہ انسٹاگرام موٹے اور خاص طور پر سیاہ فام افراد کے خلاف امتیازی کارروائی میں مصروف ہے چاہے وہ اپنی برادری کے قاعدے قانون کی خلاف ورزی نہ بھی کریں۔'

پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ دبلی پتلی سفید فام خواتین کی 'سماجی سطح پر زیادہ قبول کی جانے والی' تصاویر جیسے کہ پلے بوائے کے انسٹاگرام پر چھپی ہوتی ہیں انہیں نہیں چھیڑا جاتا۔

نائومی کہتی ہیں کہ اب انسٹاگرام نے ان کی تصویر ہٹانے پر معذرت کی ہے اور اسے بحال کر دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انسٹاگرام پر قواعد کی مبینہ خلاف ورزی کرنے والی تصاویر انسانی جائزے اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے ذریعے فلیگ کی جاتی ہیں۔ 

نائومی نے جمعے کو انسٹاگرام کی طرف سے کی گئی ایک ای میل کا سکرین شاٹ شیئر کیا ہے جس میں پالیسی کے اس حصے کی تفصیل دی گئی جس کے تحت تصویر کو فلیگ کیا گیا تھا۔

پالیسی میں لکھا تھا: 'ہم (تصاویر میں) بریسٹ کو دبانے کی اجازت نہیں دیتے کیونکہ اکثر اس کا تعلق پورنوگرافک مواد سے ہوتا ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ جس طرح پالیسی نافذ کی گئی اس میں ہم سے غلطیاں ہوئیں۔'

'اس مسئلے کے حل میں مدد کے لیے ہم نے جائزہ لینے والی اپنی ٹیم کے ساتھ نئی گائیڈلائنز شیئر کی ہیں تا کہ وہ بریسٹ کو دبانے اور صرف پکڑنے یا چھپانے کے عمل میں بہتر طریقے سے امتیاز کر سکے۔'

نائومی نے اپنے سکرین شاٹ کے نیچے لکھا: 'یہ ایک پالیسی تبدیل کروانے والی کا چہرہ ہے۔ انسٹاگرام نے اس بات پر نظرثانی شروع کر دی ہے کہ وہ نیم عریاں تصاویر کا جائزہ کس طرح لیں۔ ہم نے اس تبدیلی کے لیے بہت شور مچایا۔'

'میری ابھی ابھی انسٹاگرام سے فون پر بات ہوئی ہے۔ تبدیلیاں کردی جائیں گی لیکن ابھی بہت سا کام کرنا باقی ہے کیونکہ یہ گائیڈ لائنز ان کی جائزہ ٹیم کے لیے ہیں۔ میں اس بات کو یقینی بناؤں گی کہ معاملہ آگے بڑھے اور پالیسی مکمل طور پر تبدیل کی جائے۔ یہ پہلا قدم ہے لیکن دیکھیں کہ میں نے یہ اٹھا لیا ہے۔ سیاہ فام پلس سائز جسم کہیں نہیں جا رہے!'

انہوں نے ایک اور سیاہ فام  پلس سائز انفلوئنس سٹیفنی ییوبا کا بھی شکریہ کیا جنہوں نے 20 اگست کو انسٹاگرام کے ساتھ ملاقات کی اور یہ مسئلہ اٹھایا۔

ییوبا نے ایک ٹوئٹر پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو بتایا: 'میں نے بتایا کہ موٹے جسم انتہائی شدید جنسی کشش کا سبب ہوتے ہیں اور یہ کہ معاشرہ بڑے جسموں کو کس طرح دیکھتا ہے اس کی قیمت ہمیں آرٹ کو سامنے رکھتے ہوئے ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔'

ییوبا کی ٹویٹ میں مزید کہا گیا: 'انہوں نے میرے ساتھ اتفاق کیا اور [email protected] کے بہت نمایاں ہونے اور انہیں ملنے والی بڑے پیمانے پر حمایت کی بدولت انسٹاگرام نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کی جب کہ بڑے جسموں اور عریانیت کے معاملے میں  عملے کو اس کی جگہ پر برقرار رکھا جا رہا ہے۔'

انسٹاگرام کی مالک فیس بک کے ترجمان نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: 'ہماری پالیسیاں اس انداز میں بنائی جاتی ہیں کہ جن کے تحت یہ یقینی ہو کہ مختلف قسم کی عالمی برادری کی طرف سے خیالات کے اظہار کے لیے انسٹاگرام  پر پوسٹ کیا جانے والا مواد ایسے لوگوں کے لیے مناسب ہو جن کی عمر 13 برس جتنی کم۔ '

'اس طرح کا توازن پیدا کرنا مشکل ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے مواقعے آتے ہیں جب ہماری پالیسیاں ناکافی ثابت ہوتی ہیں۔ ہم بریسٹ کو دبانے کی اجازت نہیں دیتے کیونکہ ایسا اکثر پورنوگرافک مواد کے ساتھ جڑا ہوتا ہے لیکن ہم جانتے ہیں اس پالیسی کے نفاذ میں ہم سے کیا غلطیاں ہوئی ہیں۔'

'ہم انسٹاگرام پر اس کمیونٹی کی قدر کرتے ہیں اور کبھی ہماری نیت یہ نہیں رہی کہ ان کی آواز یا جسموں کو خاموش کر دیا جائے۔'

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل