مائیں کام چھوڑ کر گھر پر کیوں بیٹھیں؟

’یہ خواتین کی مرضی پر منحصر ہونا چاہیے کہ وہ پیدائش کے بعد بچوں کی دیکھ بھال کے لیے نوکری چھوڑیں یا گھر چلانے کے لیے ملازمت جاری رکھیں۔‘

مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والی خواتین جو مائیں بھی ہیں، اس ترمیمی بل کو خوش آئند قرار دے رہی ہیں۔ اے ایف پی فائل فوٹو

سعدیہ ادریس کی شادی تین سال پہلے ہوئی، شادی سے پہلے 30 سالہ سعدیہ ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتی تھیں جسے انہوں نے شادی کے بعد بھی جاری رکھا۔ شادی کے ڈیڑھ سال بعد سعدیہ نے ایک بیٹے کو جنم دیا اور 45 دن کی چھٹی کے بعد دوبارہ کام پر آ گئیں۔

سعدیہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا ’بچے کی پیدائش کے بعد بہت چیزیں تبدیل ہوئیں، دفتر پہنچنے کے بعد دھیان ہر وقت گھر میں بچے کی طرف لگا رہتا جو میری امی اور ایک آیا کے ساتھ گھر پر ہوتا تھا۔ میں نے 45 دن کے بعد ہی اسے ڈبے کا دودھ  دینا شروع کر دیا، جس سے اس کے پیٹ میں ہر وقت کچھ نہ کچھ گڑ بڑ رہتی۔‘

سعدیہ نے بچے کی پیدائش کے چار ماہ بعد نوکری چھوڑ دی کیونکہ وہ بچے کو کام پر ساتھ نہیں لے جا سکتی تھیں۔ ’مجھے گھر سے ہر وقت فون آتے رہتے کہ بچہ رو رہا ہے، دودھ نہیں پی رہا، وغیرہ وغیرہ ۔ مجھے یوں لگتا تھا کہ جیسے دفتر میں میرے ارد گرد ساتھی ہر وقت میری خبر رکھے ہوئے ہیں، میرا مذاق اڑا رہے ہیں کہ یا تو کام کر لو یا بچہ پال لو۔ تم ایک عورت ہو بچے کے بعد گھر بیٹھو۔ بات ٹھیک بھی تھی کیونکہ میں کام پر سو فیصد دھیان نہیں دے پا رہی تھی۔‘

’میں نے اپنے افسر سے کہا کہ اس دفتر میں کوئی ایسا انتظام کیوں نہیں کہ میں اپنا بچہ ساتھ لا سکوں تو وہ ہنس پڑے اور کہنے لگے اس بات کا کبھی خیال ہی نہیں آیا اور نہ ہی پہلے کسی خاتون نے اس کا مطالبہ کیا۔‘

اب پنجاب اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی رکن حنا پرویز بٹ نے پنجاب ترمیمی بل برائے بہبود زچہ و بچہ 2019 جمع کروایا ہے، جس کے تحت پہلے سے موجود بہبود برائے زچہ و بچہ آرڈیننس 1958 میں ترامیم کی تجویز دی گئی ہے تاکہ نوکری کرنے والی خواتین کو مزید سہولیات دیے جانے کو یقینی بنایا جاسکے۔

حنا نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا اس ترمیمی بل کا منظور ہونا بہت ضروری ہے تاکہ تمام سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے لیے، اُن خواتین کو، جو مائیں ہیں، ان کی ضروریات کے مطابق سہولیات دینا لازم ہو۔‘

اس ترمیمی بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ ہر اس دفتر میں جہاں 50 سے زائد خواتین کام کر رہی ہیں اور انہیں ملازمت کرتے ہوئے چار ماہ ہوچکے ہیں، ان کے لیے دفتر میں ایک ڈے کیئر سینٹر لازمی بنایا جائے گا جہاں چھ سال تک کے بچے آسکیں گے۔

تجویز میں مزید کہا گیا: ہر ماں کو دن میں چار مرتبہ ڈے کیئر میں جاکر اپنے بچے کو دیکھنے کی اجازت ہو گی، دن میں دو مرتبہ خواتین کو اپنے ڈیڑھ سال تک کے بچوں کو دودھ پلانے کے لیے وقفہ دیا جائے گا۔

بل یہ بھی تجویز کرتا ہے کہ کوئی بھی آجر اگر اس قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو اسے پانچ لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ ہر خاتون کو بچے کی پیدائش پر 24 ہفتوں کی چھٹی دی جائے گی اور اگر خاتون کو دوران حمل کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اسے تنخواہ کے ساتھ 6 ہفتوں کی چھٹی دی جائے گی۔

لاہور میں چھ خواتین وکلاء کے ایک گروپ نے حنا پرویز بٹ کو بل میں ترمیم کی تجاویز دیں۔ اس گروپ کی ایک وکیل فاطمہ گوہر نے کہا یہ ایک حقیقت ہے کہ کام کرنے والی خواتین اور ماؤں کو برابر کے حقوق ملنے چاہییں اور یہ حقوق قانون سازی کے ذریعے ہی مہیا کیے جانے چاہییں۔

’ہم میں سے بہت سی خواتین مائیں ہیں اور ہمیں ایسا تجربہ ہوتا ہے کہ کوئی ایسا فریم ورک موجود نہیں جس کے ذریعے ہمیں یہ سہولیات مہیا کی جاسکیں۔ قانون سازی کے بغیر ایسے فوائد آجران کبھی بھی مہیا نہیں کریں گے۔‘

ایڈووکیٹ فاطمہ گوہر کا کہنا ہے ’اس قانون سازی کے ذریعے برابری اور معاشی آزادی بہتر میسر ہوگی کیونکہ ایسی صورتحال میں بچے ہونے کا مطلب سب چھوڑ چھاڑ کر گھر بیٹھ جانا نہیں۔‘

مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والی خواتین جو مائیں بھی ہیں، اس ترمیمی بل کو خوش آئند قرار دے رہی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بختاور خالد راجپوت ایک نجی سکول میں پڑھاتی ہیں۔ بختاور نے بتایا کہ انہیں گھر کی طرف سے بہت تعاون حاصل تھا اس لیے ڈے کیئر کی سہولت کا کبھی خیال نہیں آیا، البتہ زچگی کے وقت مجھے صرف 34 دن کی چھٹی ملی جو میرے لیے ناکافی تھی کیونکہ میں نے آپریشن کے ذریعے بچے کو جنم دیا تھا۔ اسی وجہ سے مجھے ڈپریشن کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ میرے خیال میں خواتین کی بہبود کے لیے پیش کیے گئے اس بل کو سرکاری و نجی اداروں میں فوری لاگو کرنا چاہیے۔

سارہ احمد دو بچوں کی والدہ ہیں اور ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتی تھیں، تاہم بچوں کی پیدائش کے بعد انہوں نے اپنی مرضی سے نوکری کو خیرآباد کہہ کر گھر پر رہنا مناسب سمجھا۔ ان کے خیال میں ماں کو بچے بڑے ہونے تک اپنی نوکری چھوڑ دینی چاہیے لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ ’میرے شوہر اچھا کما لیتے ہیں اس لیے اگر میں نے نوکری چھوڑ بھی دی تو اس سے مجھے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑا، ہاں البتہ بہت سی ملازمت پیشہ خواتین ایسی بھی ہیں جو کسی بھی وجہ سے گھر کی اکیلی کفیل ہیں، یا ان کے شوہر ان کے ساتھ نہیں اور بچہ چھوٹا ہے، ایسی خواتین کے لیے دفاتر میں مناسب سہولیات کا ہونا بہت ضروری ہے، جیسے کہ ڈے کیئر سینٹر یا خواتین کے اوقات کار میں لچک وغیرہ تاکہ ماں کام بھی کرتی رہے اور اس کا بچہ بھی اس کی نظر کے سامنے رہے۔‘

رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ کے مطابق یہ خواتین کی اپنی مرضی پر منحصر ہونا چاہیے کہ وہ پیدائش کے بعد بچوں کی دیکھ بھال کے لیے نوکری چھوڑنا چاہیں یا پیسہ کمانے یا شریک حیات کا ساتھ دینے کے لیے اپنی پیشہ وارانہ مصروفیات جاری رکھنا چاہیں۔ ’اس ترمیمی بل کا مقصد انہیں زچگی کے دوران اور بعد میں ہر طرح کی سہولت دینا ہے تاکہ ان کی نوکری چھوڑنے کی وجہ ان کے دفاتر میں سہولیات کا فقدان ہرگز نہ بنے۔‘

حنا کا کہنا ہے کہ موجودہ قانون برائے بہبود زچہ 1958 کے تحت محدود پیمانے پر صرف ان خواتین کوتحفظ  حاصل ہے جو کسی صنعت میں پیداواری عمل سے وابستہ ہوں جبکہ دیگر شعبوں میں کام کرنے والی خواتین کو یہ تحفظ حاصل نہیں ہے۔ دوسری طرف موجودہ قانون میں اس کے نفاذ اور اس کے فوائد کے حصول کا کوئی طریقہ کار بھی وضع نہیں کیا گیا بلکہ اس کی خلاف ورزی پر تین ہزار روپے کا ایک معمولی جرمانہ ہی عائد کیا جاسکتا ہے۔

رکن پنجاب اسمبلی حنا بٹ امید کرتی ہیں کہ ترمیمی بل ایوان میں اسمبلی کے اگلے اجلاس میں پیش ہو جائے گا اور انہیں یہ بھی یقین ہے کہ حکومتی بنچ ان کی تجویز کردہ ترامیم کو سیاسی مخالفت کا نشانہ نہیں بنائیں گے۔ دوسری جانب سعدیہ ادریس سوچتی ہیں کہ کاش یہ بل پہلے موجود ہوتا تو شاید وہ بھی زندگی کی گاڑی چلانے میں اپنے شوہر کی مدد گار ثابت ہو سکتیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی گھر