اسرائیل اور متحدہ عرب امارات معاہدہ 15 ستمبر کو ہو گا: حکام

منگل کو دن ڈھلے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے ٹویٹ کیا کہ انہیں 'متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے صدر ٹرمپ کی دعوت پر اگلے ہفتے وائٹ ​​ہاؤس میں ہونے والی تاریخی تقریب میں شرکت کرنے پر فخر محسوس ہو رہا ہے۔'

(اےایف پی)

امریکی حکام کے مطابق اسرائیل اور متحدہ عرب امارات 15 ستمبر کو وائٹ ہاؤس کی ایک تقریب میں تعلقات کو معمول پر لانے  والے تاریخی معاہدے پر دستخط کریں گے۔

سینئر وفود کی قیادت اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نتن یاہو اور اماراتی وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان کریں گے۔

شیخ عبداللہ بن زید النہیان ابو ظہبی کے کراؤن پرنس شہزادہ محمد بن زید النہیان کے بھائی ہیں۔

امریکی حکام ، جنھیں اس معاملے پر عوامی طور پر تبادلہ خیال کرنے کی اجازت نہیں ہے، انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ یہ تقریب یا تو وائٹ ہاؤس کے جنوبی باغ روز گارڈن میں یا پھر موسم کے لحاظ سے اندر ہوگی۔

منگل کو دن ڈھلے نتن یاھو نے ٹویٹ کیا کہ انہیں 'متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے صدر ٹرمپ کی دعوت پر اگلے ہفتے وائٹ ​​ہاؤس میں ہونے والی تاریخی تقریب میں شرکت کرنے پر فخر محسوس ہو رہا ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

متحدہ عرب امارات کی سرکاری نیوز ایجنسی  کے مطابق شیخ عبد اللہ اماراتی وفد کی جانب سے  معاہدے پر دستخط کریں گے۔

شیخ محمد بن زاید النہیان بظاہر اس تقریب میں شریک نہیں ہوں گے۔ انہوں نے 2016 سے امریکہ کا سفر نہیں کیا۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان اس معاہدے کی یہ تقریب گزشتہ ماہ تیرہ اگست کو سفارتی تعلقات بحال کرنے کے اعلان کے ٹھیک ایک ماہ بعد رونما ہو گی۔

اس معاہدے نے امریکی صدر ٹرمپ کو خارجہ پالیسی کے حوالے سے اس وقت ایک اہم مدد فراہم کی جب وہ دوبارہ انتخاب کا سامنا کرنے والے ہیں۔

معاہدے کے بعد ہی دونوں ممالک کے مابین پہلی براہ راست تجارتی اڑان اور ٹیلیفون روابط کے قیام کا آغاز ہوا نیز متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی بائیکاٹ کے خاتمے کا بھی اعلان کیا۔ جس سے امارات اور اسرائیل کے مابین تیل، جواہرات، دوا ساز کمپنیوں اور جدید ٹیکنالوجی  کی تجارت بحال ہو سکتی ہے۔

فلسطینیوں نے اس معاہدے کو مسترد کردیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ اس معاہدے کے وقت  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے کو اپنا حصہ بنانے کے منصوبے کی معطلی کی ہامی بھری تھی تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو مصر ہیں کہ اس منصوبے پر 'غور' جاری ہے۔

متحدہ عرب امارات اس معاہدے کے بعد ایف -35 سٹیلتھ لڑاکا طیاروں جیسے جدید امریکی اسلحے کی خریداری کے امکانات کا جائزہ بھی لے رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا