پشاور: بےنظیر یونیورسٹی طالبات کا آن لائن امتحان کا مطالبہ

اگر یونیورسٹی نے آن لائن امتحان لینا ہے تو پھر ہاسٹلز کو کھولیں اور 20 دن کا ٹائم بھی دے دیں تاکہ سٹوڈنٹس فزیکل امتحان کے لیے تیاریاں شروع کر دیں۔

بینظیر بھٹو وومن یونیورسٹی پشاور (ویب سائٹ)

شہید بےنظیر بھٹو وومن یونیورسٹی پشاور کی طالبات نے حکومت اور یونیورسٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے کرونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر ان کے امتحانات آن لائن ہی لیے جائیں۔

’بجائے اس کے کہ ہم یونیورسٹی میں جائیں اور سب کرونا کے شکار ہو جائیں ہم مطالبہ کرتے ہے کہ ہمیں اس سمسٹر میں پروموٹ کیا جائے تاکہ ہم اس وبا سے بچ جائیں۔ اگر پروموشن نہیں دیتے تو پھر آن لائن امتحان لیے جائیں۔‘ یہ باتیں سمیرا نامی ایک طالبہ کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ ان کے ساتھ بالکل بھی کوئی مشاورت نہیں کرتے اور صرف آرڈرز دیتی ہے۔ یونیورسٹی کو چاہیے کہ طالبات کو بھی سنے کیونکہ یہ ہمارا حق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی اگر یکطرفہ فیصلہ کرے گی تو اس کی نتائج بھی درست ثابت نہیں ہوگی۔

ایک اور طالبہ نے کہا کہ یونیورسٹی پہلے سمسٹر میں ایک کلاس میں سو طالبات کو داخلے دیتی ہے جس کی وجہ سے کلاس میں جگہ بھی نہیں ہوتی۔ ’یہ بالکل طالبات دشمن پالیسیاں ہے ہماری یونیورسٹی کی۔‘

(امبرین) فرضی نام نے کہا کہ اگر یونیورسٹی نے آن لائن امتحان لینا ہے تو پھر ہاسٹلز کو کھولیں اور 20 دن کا ٹائم بھی دے دیں تاکہ سٹوڈنٹس فزیکل امتحان کے لیے تیاریاں شروع کر دیں۔

’ہمیں کرونا وائرس سے بچنے کے لیے جو چیزیں ضروری ہیں وہ مہیا کریں اور ایک صحت کہ شعبہ سے وابستہ ٹیم کو یہاں پر طلب کریں۔ کرونا وائرس کی وجہ سے کسی بھی بات کی ساری ذمہ داری یونیورسٹی پر ہوگی۔‘ ان کا دعوی تھا کہ یہ مطالبات ساری طالبات اور ان کے والدین کے بھی ہیں۔

اس حوالے سے سماجی رابطوں کے ویب سائٹس پر ایک ٹرینڈ اس نام سے متعارف ہوا تھا کہ ’ہم آن لائن امتحان دینے کا مطالبہ کرتے ہیں‘ جس پر لوگوں نے کمنٹس بھی کیے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹیوٹر پر ایک طالبہ جویریہ نے ٹویٹ کرکے کہا کہ ’یونیورسٹی نے پوری چھ ماہ کلاسسز آن لائن لی ہیں اور امتحان فزیکل لے رہے ہے۔ یہ ہمارے مستقبل کے ساتھ گیم کھیل رہے ہیں ہمیں انصاف چاہیے۔‘

ایک اور طالبہ سیدرہ اصغر نے ٹویٹ کرکے کہا کہ ہم فزیکل امتحان دینے کو تیار نہیں ہے کیوں یونیورسٹی زور زبردستی کررہی ہے۔

اس حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ ’شہید بینظیر بھٹو وومن یونیورسٹی پشاور کا یکدم امتحانات کا اعلان تشویشناک ہے پہلے آن لائن اور بعد میں یونیورسٹی کے اندر امتحانات نے طالبات اور ان کے والدین کو پریشان کر دیا ہے۔ دور دراز کے علاقوں کے طالبات ہاسٹلز سے باہر رہے گے انتظامیہ کو ہوش کہ ناخن لینے ہوو گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صحافی طارق وردگ نے جب شہید بینظیر بھٹو وومن یونیورسٹی پشاور کی ترجمان سہرش ظفر سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس وہ سسٹم موجود نہیں ہے جس پہ آن لائن امتحان یونیورسٹیاں لیتی ہیں۔ ’ہم کوشش کرتے ہیں کہ اپنے سسٹم کو بہتر کریں۔ یہ ایل۔ایم۔ایس سسٹم ہوتا ہے جس سے ہر طالب علم کا پتہ چلتا ہے اور اس کے ٹائم کا کہ کب لاگ ان ہوا ہے۔‘

سہرش نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کی ویب سائٹس بہت اچھے طریقے سے ڈیزائن کی گئی ہے جس میں سب کچھ موجود ہے۔ ’طالبات کو چاہیے کہ وہ ویب سائٹ پر جائیں اور وہاں سے ساری معلومات حاصل کریں بجائے اس کے کہ یونیورسٹی پر تنقید کریں۔ وہاں پہ کمپلینٹ پورٹل بھی موجود ہے۔ طالبات وہاں پہ اپنی شکایت درج کرسکتے ہیں اور اس کا جواب سٹوڈنٹس کو اسی دن دیا جاتا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ طالبات کے ساتھ ہر ممکن تعاون کر رہی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے جو احکامات ہیں ان پر عمل کریں گے کیونکہ ہم طالبات کے بہتری کے لیے یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔‘

امتحان کے بعد کلاسسز کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی صرف امتحان کے لیے کھولی جائے گی۔ اس کے بعد کلاسسز آن لائن ہی ہوں گی۔ یونیورسٹی کی ترجمان نے کہا کہ طالبات کو چاہیے کہ وہ اپنی پڑھائی پر بھرپور توجہ دیں۔ یونیورسٹی طالبات کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس