لوئی ویٹوں کی جانب سے ڈیڑھ لاکھ کا فیس ماسک

فرانس کی مشہور فیشن کمپنی لوئی ویٹوں کی جانب سے سونے کی کیلوں سے مزین فیس شیلڈ متعارف کروائی جا رہی ہے۔

لوئی ویٹوں نے اس شیلڈ کے بارے میں کہا کہ یہ ’ایک پرکشش ہیڈگیئر ہے جو سٹائلش بھی ہے اور تحفظ بھی دیتا ہے۔‘(تصویر: لوئی ویٹوں)

مشہور فیشن کمپنی لوئی ویٹوں ایک لگژری فیس شیلڈ متعارف کروا رہی ہے جو کرونا (کورونا) وائرس سے تحفظ کے روایتی اور مقصدی طریقوں (جنہیں پی پی ای کہا جاتا ہے) کے مقابلے میں ایک فیشن ایبل متبادل ہے۔

اس کا نام ایل فی شیلڈ رکھا گیا ہے اور اسے بطور ٹوپی بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کی قیمت پونے آٹھ سو پاؤنڈ رکھی گئی ہے جو تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار پاکستانی روپے بنتی ہے۔

اسے 30 اکتوبر کو بطور حفاظتی وائزر دنیا بھر میں لانچ کیا جائے گا۔

ظاہر ہے یہ کوئی عام شیلڈ نہیں ہے۔ اس کے کناروں پر سونے کی کیلیں لگی ہے جن کے اوپر لوئی ویٹوں کا مشہورِ زمانہ لوگو کندہ ہے۔

اس کے علاوہ اس شیلڈ پر بھی لوئی ویٹوں کا مونوگرام پرنٹ کیا گیا ہے۔

ایک بیان میں لوئی ویٹوں نے اس شیلڈ کے بارے میں کہا کہ یہ ’ایک پرکشش ہیڈگیئر ہے جو سٹائلش بھی ہے اور تحفظ بھی دیتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لوئی ویٹوں واحد لگژری برانڈ نہیں ہے جو کرونا کی عالمگیر وبا کے دوران لوگوں کے تحفظ کے لیے اشیا بنا رہا ہے۔

اگست میں ایک اور مشہور فیشن برانڈ بربری نے اپنے مخصوص چیک پرنٹ میں ڈسپوزایبل اور طویل مدت تک استعمال ہونے والے فیس ماسک متعارف کروائے تھے۔

یہ ماسک صرف آن لائن خریدے جا سکتے ہیں اور ان میں بربری کے رنگوں کی دو دھاریاں ہیں، ایک خاکی رنگ کی اور دوسری ہلکی نیلی۔

بربری کا کہنا تھا کہ اس کے ماسک استعمال شدہ کاٹن کے کپڑے سے ماحولیات کے لیے پائیدار طریقے سے بنائے گئے ہیں، یہ ذرات کو فلٹر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں جراثیم کش ٹیکنالوجی سے مزید تقویت دی گئی ہے۔   

تاہم کمپنی نے اس ٹیکنالوجی کی طبی خصوصیات کی مزید تفصیل سے آگاہ نہیں کیا۔

اس کے علاوہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ لوئی ویٹوں نے کرونا وائرس کی وبا کے لیے کچھ کیا ہو۔

مارچ میں لوئی ویٹوں کی مالک کمپنی ایل وی ایم ایچ نے کہا تھا کہ وہ اپنی خوشبو کے کارخانوں میں ہینڈ سینیٹائزر بنائے گی تاکہ فرانس میں ان کی کمی دور کی جا سکے۔

اس وقت کمپنی نے کہا تھا کہ یہ جیل فرانس کے طبی اداروں اور ایک یونیورسٹی ہاسپیٹل ٹرسٹ اسستانس پبلیک ہاسپیٹو دے پیرس کو مفت فراہم کیا جائے گا۔

کمپنی نے ایک بیان میں کہا تھا، ’فرانس میں ہائیڈرو الکوحلک جیل کی قلت کے پیشِ نظر برنارد آرنو نے ہدایات دی ہیں کہ ایل وی ایم ایچ پرفیومز اینڈ کاسمیکٹس بزنس کے کارخانے بڑی مقدار میں سرکاری اداروں کے لیے ہائیڈرو الکوحلک جیل بنانا شروع کر دیں۔‘

’اس اقدام کے تحت ایل وی ایم ایچ اس جیل کی فرانس میں قلت کو دور کرنا چاہتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ وائرس سے خود کو بچا سکیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سٹائل