یونیکورن چور: برطانوی مصنفہ کا ایک ملین پاؤنڈ کا ریکارڈ معاہدہ

برطانوی مصفہ سٹیڈمین کو قاتل یونیکورن کے بارے میں بچوں کی کتابوں کی سیریز لکھنے پر ریکارڈ معاوضہ ملا ہے۔

 اینابل سٹیڈمین کو ملنے والا معاوضہ بچوں کے لیے لکھنے والے کسی بھی ادیب کا سب سے بڑا پیشگی معاوضہ ہے۔ (تصویر: سائمن اینڈ شوسٹر)

ایک 28 سالہ برطانوی ادیبہ نے اشاعتی ادارے کے ساتھ خونخوار یونیکورن گھوڑوں کے بارے میں کتاب لکھنے پر ’ایک ملین پاؤنڈ‘ کا معاہدہ طے کیا ہے۔

اس مصنفہ کا نام اینابل سٹیڈمین ہے اور وہ اے ایف سٹیڈمین کے نام سے لکھتی ہیں۔ ان کی تین کتابوں کی سیریز ’سکندر اور یونیکورن چور‘ پر تین پبلشروں کے درمیان بولی لگی۔

(یاد رہے کہ یونیکورن گھوڑے کی طرح کا افسانوی جانور ہے جس کے ماتھے پر سینگ ہوتا ہے اور یہ انڈوں سے نکلتا ہے۔ اسے عام طور پر نیک دلی کی علامت سمجھا جاتا ہے)

خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ معاوضہ بچوں کے لیے لکھنے والے کسی بھی ادیب کو ملنے والا سب سے بڑا معاوضہ ہے۔ مزید یہ کہ اس سیریز کے حقوق سونی پکچرز نے خرید لیے ہیں۔  

سٹیڈمین کی یہ سیریز ایک ایسی دنیا پر مبنی ہے جہاں یونیکورن مہلک ہیں اور انہیں صرف وہی شخص سدھا سکتا ہے جس نے ان کے انڈے توڑ کر اسے باہر نکالا ہو۔

سٹیڈمین کی کہانی سکندر سمتھ نامی کردار کے گرد گھومتی ہے۔ وہ یونیکورن سوار بننے کی تربیت لے رہا ہوتا ہے کہ اسی دوران دنیا کا سب سے طاقتور یونیکورن چوری ہو جاتا ہے۔

سیریز کی ابتدا میں سٹیڈمین لکھتی ہیں: ’یونیکورن پریوں کی کہانیوں کی نہیں، ڈراؤنے خوابوں کی مخلوق ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کتابوں کی اشاعت کی یہ جنگ سائمن اینڈ شوسٹر نے جیتی ہے۔ اس ادارے کے پبلشنگ ڈائریکٹر علی ڈگلس نے کہا کہ ’اس سیریز میں فوری اور کھولتا ہوا جوش و جذبہ ہے، جو میں نے پہلے کبھی نہیں محسوس کیا۔‘

سٹیڈمین نے گارڈین اخبار کو بتایا کہ جب انہوں نے اس ڈیل کی خبر سنی تو وہ اپنے بیڈ پر ڈھیر ہو گئیں۔ انہوں نے کہا، ’اس کے بعد میں ہوش و حواس سے بےگانہ ہو گئی۔ میں نے سوچا، یہ حقیقت نہیں ہے، حقیقت ہو ہی نہیں سکتی۔‘

سٹیڈمین نے ’یونیکورن کا چور‘ کا اصل خیال 2013 میں لکھا تھا مگر پھر وہ اسے طاق پر دھر کر وکالت کی تعلیم میں مصروف ہو گئیں۔

2017 میں انہوں نے وکالت چھوڑ کر کیمبرج یونیورسٹی سے تخلیقی لکھائی میں ماسٹرز کیا اور دوبارہ اپنی کہانی پر کام شروع کر دیا۔

انہوں نے کہا: ’ابھی میں مجھے یہ بھی یقین نہیں ہے کہ میں اس معاہدے کو پوری طرح گرفت میں لے پائی ہوں۔ یہ بہت اچھا ہے کہ میں صرف اسی پر توجہ مرکوز کر پاؤں گی اور جہاں تک ممکن ہو اتنی اچھی کتابیں لکھ پاؤں گی۔ میرے خواب سچ ہو گئے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ادب