پابندیوں کی شکار 15 بلاک بسٹر فلمیں

بعض ممالک میں ریمبو، ونڈر وومین اور ایسی ہی کئی مشہورِ زمانہ فلموں پر مضحکہ خیز وجوہات کی وجہ سے مکمل قدغن لگائی گئی یا ان کے بعض حصوں کو حذف کر دیا گیا۔

بعض ممالک میں ریمبو، ونڈر وومین اور ایسی ہی کئی مشہورِ زمانہ فلموں پر مضحکہ خیز وجوہات کی وجہ سے مکمل قدغن لگائی گئی یا ان کے بعض حصوں کو حذف کر دیا گیا۔

کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ ریمبو، ونڈر وومین اور ایسی ہی کئی مشہورِ زمانہ فلموں کو دنیا کے کسی نہ کسی خطے میں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا؟

بعض ممالک میں ان بلاک بسٹر فلموں پر مضحکہ خیز وجوہات کی وجہ سے مکمل قدغن لگائی گئی یا ان کے بعض حصوں کو حذف کر دیا گیا۔

پاکستان، چین، اسرائیل، ایران، خلیجی ریاستوں اور دیگر ممالک کے قوانین، متضاد عقائد اور دنیا بھر میں سنسر کے مختلف معیار ان پابندیوں کی وجہ بنے۔

یہاں ہم آپ کو ایسی ہی 15 فلموں کے بارے میں بتاتے ہیں جنہیں دنیا بھر میں شہرت اور کامیابی ملنے کے ساتھ ساتھ کچھ خطوں میں پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

امریکن سنائیپر

2015 میں ریلیز ہونے والی کلینٹ ایسٹ وڈ کی اس سپر ہٹ فلم پر ایران نے یہ کہہ کر پابندی لگا دی کہ عراق جنگ کے پسِ منظر میں بنی یہ فلم جارحانہ مواد کے باعث ایرانی عوام کے لیے دل شکن ثابت ہو سکتی ہے۔

بیوٹی اینڈ دی بیسٹ

خلیجی ملک کویت نے  ’بیوٹی اینڈ دی بیسٹ‘ کو ایک ہم جنس کردار کی وجہ سے سینما گھروں سے ہٹا لیا تھا۔ 2017 میں ریلیز ہونے والی اس ڈزنی فلم میں ولن کے کردار کو ہم جنس پرست دکھایا گیا۔ بعد میں اسے روس اور ملائیشیا میں بھی پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔

بین ہر

عیسائی عقیدے پر بننے والی اس فلم پر1959 میں چینی حکومت نے پابندی لگا دی تھی۔ چین میں پابندیوں کا سامنا کرنے والی معتدد فلموں پر بعد میں قدغن ہٹا لی گئی تھی مگر آسکر ایوارڈ یافتہ یہ فلم کبھی چینی سینما گھروں کی زینت نہ بن پائی۔

بروک بیک ماؤنٹین

دو ہم جنس پرست مردوں کے درمیان پروان چڑھتی محبت کی داستان پر لبنان کے علاوہ تمام عرب ممالک میں پابندی لگا دی گئی تھی۔لبنان میں بھی اِسے سنسر کی قینچی کا سامنا کرنا پڑا۔

آرگو

سچے واقعات سے ماخوذ بین ایفلک کی فلم پر ایرانی حکومت نے ملک کی بدنامی کا باعث قرار دے کر پابندی لگا دی تھی۔

دی ڈا وِنچی کوڈ

مبینہ مذہبی گستاخانہ مواد کے باعث اس فلم کو پاکستان، مصر، اردن، لبنان، صومالیہ سمیت متعدد اسلامی ممالک میں پابندی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ چین، فلپائن اور سولومن جزائر میں بھی اس فلم کی نمائش پر قدغن لگا دی گئی تھی۔

ڈیڈ پول

ڈیڈ پول بناتے ہوئے طے پایا تھا کہ اسے اس طرح ایڈیٹ نہیں کیا جائے گا جس سے کہانی بدل جانے کا اندیشہ ہو۔ چینی حکام نے ابتدائی طور پر بغیر ایڈٹ کیے فلم پر پابندی لگا دی تھی۔ ازبکستان نے اس کی پیروی یہ کہتے ہوئے کی کہ فلم نے ملک کے سماجی معیار کی خلاف ورزی کی ہے، جبکہ بھارت میں نمائش سے پہلے اس میں بھاری ایڈیٹنگ کی گئی۔

دی ڈیپارٹڈ

مارٹن سکورسیس کی فلم پر 2006 میں چین نے پابندی لگا دی اور وجہ بنی اس کا متنازعہ مکالمہ جس میں تایئوان پر ایٹمی حملے کی بات کی گئی تھی۔چین میں یہ پابندی تاحال قائم ہے۔

ففٹی شیڈز آف گرے

نازیبا اور ہیجان انگیز مواد کی وجہ سے اس فلم کو حسبِ توقع انڈونیشیا، ملائیشیا، کینیا، متحدہ عرب امارات اور دیگر اسلامی ممالک میں پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔

گولڈ فنگر

سر تھامس شان کونری کی بطور برطانوی جاسوس جیمز بانڈ تیسری فلم 1964 میں اسرائیل کے سوا دنیا بھر میں ریلیز کی گئی۔ اسرائیل میں پابندی کی وجہ اس کے اہم اداکاروں میں سے ایک گرٹ فروب کا نازیوں سے جڑا ہوا ماضی نکلا۔ چھ ہفتے بعد فلم پر اُس وقت پابندی ہٹائی گئی جب ہولوکاسٹ میں زندہ بچ جانے والا ایک خاندان فروب کی حمایت میں سامنے آیا۔

ماڈرن ٹائمز

چارلی چپلن کی کلاسک فلم ماڈرن ٹائمز کو 1936 میں نازی جرمنی میں اس کے کمیونزم یا اشتراکیت کی حمایت کرنے والے مواد کے باعث ممنوع قرار دیا گیا۔

پلپ فِکشن

ملائیشیا نے 1994 میں ریلیز ہونے والی پلپ فِکشن کو اس میں موجود عریانی، جنسی تشدد اور منشیات فروشی پر مشتمل مناظر کے باعث نمائش کی اجازت نہیں دی۔

ریمبو

2008 میں دنیا بھر میں تہلکہ مچانے والی سیلویسٹر سٹالون کی اس فلم کو برما کی حکومت نے قومی فوج کی غلط تشہیر کے باعث پابندی کا نشانہ بنایا۔

ونڈر وومین

پہلی خاتون سپر ہیرو کے طور پر دنیا بھر میں پہچان بنانے والی اس فلم کو لبنان، قطر اور تیونس میں نمائش کی اجازت نہیں دی گئی اور وجہ تھی اس میں مرکزی کردار ادا کرنے والی یہودی اداکارہ گیل گادوت کی اسرائیلی فوج میں خدمات۔

دی ڈینش گرل

ٹام ہوپر کی ایک خواجہ سرا مصور کی زندگی پر بنی اس فلم کو اخلاقی اقدار سے گِرا ہوا  کہہ کر قطر، متحدہ عرب امارات، اومان، بحرین، اردن، کویت اور ملائیشیا سمت کئی ممالک نے پابندی لگا دی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم