'مودی کے ہوتے ہوئے پاکستان بھارت کرکٹ بحالی کا امکان نہیں'

2020 کی انڈین پریمیئر لیگ جو مارچ میں بھارت میں شروع ہونی تھی لیکن کووڈ 19 کی وجہ سے متحدہ عرب امارات میں ہو رہی ہے، پر تبصرہ کرتے ہوئے شاہدآفریدی نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑی ٹورنامنٹ کا حصہ نہ بن کر'بڑے موقعے'کی کمی محسوس کر رہے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور آل راؤنڈرشاہدآفریدی نے کہا ہے کہ جب تک بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اقتدار میں ہیں پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ کی بحالی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

انہوں نے اس ہفتے کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر عرب نیوز کو ایک تفصیلی انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کی حکومت ہمیشہ سے تیار ہے لیکن موجودہ بھارتی حکومت کی موجودگی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ سیریز کی بحالی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

شاہدآفریدی نے تسلیم کیا کہ کھیل دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے  ہیں۔ خاص طور پر کرکٹ کیونکہ یہ بھارت اور پاکستان کے شہریوں کے لیے'مذہب'کا درجہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا: 'میرا خیال ہے کہ سپورٹس ایسا معاملہ ہے جس سے تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔'

2020 کی انڈین پریمیئر لیگ جو مارچ میں بھارت میں شروع ہونی تھی لیکن کووڈ 19 کی وجہ سے متحدہ عرب امارات میں ہو رہی ہے، پر تبصرہ کرتے ہوئے شاہدآفریدی نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑی ٹورنامنٹ کا حصہ نہ بن کر'بڑے موقعے'کی کمی محسوس کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا: 'میں جانتا ہوں کہ کرکٹ کی دنیا میں آئی پی ایل ایک بڑا برینڈ ہے اور چاہے وہ بابراعظم ہوں یا دوسرے پاکستانی کھلاڑی ان کے لیے بھارت جا کر دباؤ میں کھیلنے اور ڈریسنگ روم شیئر کرنے کا شاندار موقع ہوتا ہے۔ اس لیے میری رائے میں پاکستانی کرکٹر ایک بڑے موقعے کی کمی محسوس کر رہے ہیں۔'

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدگی کا شکار ہیں۔ دنیا بھر میں کھیل کے میدان میں ایک دوسرے کے سخت حریف سمجھے جانے والے ملکوں کے درمیان کشمیر کا مسئلہ کشیدگی کا بنیادی سبب ہے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات خاص طور پر اس وقت خراب ہوئے جب گذشتہ سال وزیراعظم مودی کی حکومت نے اپنے زیرانتظام کشمیر کی خصوصی خودمختار حیثیت ختم کر کے اسے براہ راست وفاقی حکومت کی عمل داری میں دے دیا۔

اس سوال پر کہ ایک بار انہوں نے کہا  تھا کہ انہیں پاکستان کے مقابلے میں بھارت میں زیادہ محبت ملی۔ شاہدآفریدی نے کہا: 'اگران کی محبت سچی ہے تو کوئی اسے چھین نہیں سکتا چاہے حکومت کسی کی بھی ہو۔ محبت، محبت ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میں نے بھارت میں کرکٹ کا جس طرح لطف اٹھایا ہے، میں نے بھارت کے لوگوں کی طرف سے ملنے والی محبت اور احترام کو ہمیشہ سراہا ہے۔ جب میں سوشل میڈیا پر بات کرتا ہوں تو مجھے بھارت سے بہت سے پیغامات ملتے ہیں اور میں کئی لوگوں کو جواب دیتا ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ بھارت میں میرا تجربہ مجموعی طور پر شاندار رہا ہے۔'

وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے بارے میں بات کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ عمران خان کرکٹ کے مثالی کھلاڑی رہے ہیں جنہوں نے 1992 میں پاکستان کے لیے ورلڈ کپ جیتا لیکن بطور وزیراعظم کسی کو ان سے توقع نہیں ہونی چاہیے کہ وہ مسائل کی دہائیاں چند برس میں تبدیل کر دیں گے۔

انہوں نے کہا: 'عمران خان نے الیکشن کے موقعے پر جو وعدے کیے اب انہیں پورا کرنے کا وقت ہے۔ یہ عظیم موقع ہے۔ فوج آپ کے ساتھ ہے۔ عدلیہ موجود ہے۔ سب ایک پیج پر ہیں۔'

انہوں نے مزید کہا: 'کامیابی حاصل کرنے کے لیے عمران خان کو موزوں'گراؤنڈ اور پچ'میسر ہے۔ وزیراعظم کو ایک مضبوط ٹیم کی ضرورت ہے جو انہیں جیتنے میں مدد دے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

'عمران بھائی کو مضبوط ٹیم کے ساتھ کھیلنا ہو گا۔ انہیں دیانت دار اور صاف لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔ وہ لوگ جنہیں ہم عمران بھائی کے اردگرد دیکھتے ہیں انہیں ملک کے کام کرنا چاہیے تا کہ وہ وقت نہ آئے جب عمران بھائی بالکل اکیلے رہ جائیں۔'

اس ماہ موٹروے پر بچوں کے سامنے خاتون کے ریپ کے مجرموں کو سزا کے بارے میں سوال پر شاہدآفریدی نے کہا کہ انہیں سرعام پھانسی نہ دی جائے لیکن پھانسی دے کر مثال ضرور قائم کی جائے اور ایسا فوری طور پر کیا جائے۔

کرکٹ کے 40 سالہ کھلاڑی پاکستان بھر میں اپنے رفاہی کاموں کے لیے بھی شہرت رکھتے ہیں اور ماضی میں یونیسف اور ملکی تنظیموں کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے عرب نیوز نے بتایا کہ انہیں فلاحی کام شروع کرنے اور شاہدآفریدی فاؤنڈیشن قائم کرنے کی تحریک  والدین سے ملی۔ اس فاؤنڈیشن کا مقصد پاکستان کی محرومیوں کا شکار برادریوں کو تعلیم، صحت، پانی تک رسائی اور ان میں کھیلوں کی سرگرمیاں بحال کرنا ہے۔

شاہدآفریدی نے ضلع خیبر میں واقع آبائی قصبے تیرہ میں ہسپتال قائم کئے ہیں۔ ان کی فاؤنڈیشن نے پاکستان بھر میں 40 ہزار خاندانوں میں راشن تقسیم کیا اور 14 سکولوں کے مستحق بچوں کو مفت تعلیم کی پیش کش کی۔

انہوں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: 'ہمیں ان بچوں کو تعلیم دینی ہو گی۔ مجھے امید ہے کہ کرکٹ اکیڈمیاں ان علاقوں تک پہنچ جائیں گی۔'

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ