انتفاضہ کے سائے میں جوان ہونے والے فلسطینیوں کے خواب

فلسطینی نوجوان کہتے ہیں کہ وہ جنگ اور محاصرے سے باہر نکل کر تعلیم حاصل کرنا اور اپنے خواب پورے کرنا چاہتے ہیں۔

غزہ کے محمد فطوم انہی دنوں پیدا ہوئے جب مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر فلسطینیوں نے اسرائیل کے خلاف دوسرے انتفاضہ کا آغاز کیا۔

انتفاضہ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ظلم و ستم کے خلاف بغاوت یا مزاحمت کے ہیں۔

فلسطین میں1980 کی دہائی کے آخر میں اسرائیل کے خلاف پہلا انتفاضہ ہوا تھا، جس کا خاتمہ اس وقت ہوا جب 1993 میں اسرائیل نے فلسطین نیشنل اتھارٹی کو محدود خودمختاری دی، تاہم 2000 میں مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے واقعے کے بعد یہاں دوسرے انتفاضہ کا آغاز ہوا۔

محمد فطوم کہتے ہیں: 'میں دوسرے انتفاضہ کے شروع میں پیدا ہوا تھا۔ ہم نے ہمیشہ جنگ ہی دیکھی ہے، کوئی خوبصورت دن نہیں دیکھا۔ جب سے پیدا ہوئے ہیں، ہمیشہ محاصرے میں رہے ہیں۔ ہماری زندگی چار جنگوں میں گزری ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ میرا ملک کھل جائے اور میں نوکری کروں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ پڑھائی مکمل کرنے کے بعد بھی انہیں نوکری نہیں ملی۔

ایک اور فلسطینی نوجوان شروق موسیٰ بھی اس ساری صورت حال سے مایوس نظر آتی ہیں۔ انہوں نے بتایا: 'محاصرے اور جنگ میں انہیں کوئی امید نظر نہیں آتی۔ ہر کسی کے خواب ہوتے ہیں، میرے بھی ہیں۔ مجھے تعلیم مکمل کرنی ہے اور نوکری کرنی ہے۔'

ستمبر 2000کے انتفاضہ کے سائے میں جوان ہونے والی فلسطینیوں کی نسل کو اب امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی۔

چاہے وہ اسرائیلی افواج کے ہاتھوں ہلاک ہوں یا جیل میں بند کر دیے جائیں، گذشتہ برسوں میں ان کا وجود دھندلاتا جا رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل