پہلی امریکی صدارتی بحث کا معیار، ’کیا مزید مباحثے ہونے چاہییں؟‘

ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن نے 2020 میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب کے پہلے دوبدو مباحثے میں ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کیے اور ایک دوسرے کے لیے ’احمق‘ اور ’مسخرے‘ جیسے الفاظ کا استعمال کیا۔

اس  90 منٹ طویل مباحثے کے دوران کوئی اشتہار نشر نہیں کیا جاتا (اے ایف پی)

ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن نے 2020 میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب کے پہلے دوبدو مباحثے میں ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے کیے اور ایک دوسرے کے لیے ’احمق‘ اور ’مسخرے‘ جیسے الفاظ کا استعمال کیا۔

صدر ٹرمپ کو ٹیکس گوشواروں کے حوالے سے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا جب کہ مباحثے کے دوران ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن نے اپنے ایئر پیس کی جانچ کے مطالبے سے انکار کر دیا اور نشریات کے دوران ایک سے زیادہ بار وقفے کا مطالبہ کرتے رہے۔

بحث سے قبل دونوں امیدواروں نے بحث کے قواعد پر اتفاق کیا تھا لیکن میزبان کرس والس کو بار بار انہیں یہ یاد دلانا پڑا کہ دوسرے کو بغیر کسی روک ٹوک کے بولنے کا موقع دینا چاہیے۔

بحث کے بعد ایک آن لائن پول میں حصہ لینے والے تقریباً 70 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ مباحثے سے مطمئن نہیں ہیں۔

فاکس نیوز پر جاری مباحثے میں میزبان کرس والس نے صدر ٹرمپ سے ان کے مالیاتی ریکارڈ، سپریم کورٹ تنازعات، کووڈ 19 اور معیشت کے بارے میں سخت سوالات کیے۔

امریکہ میں صدارتی انتخاب تین نومبر کو ہونے جا رہے ہیں۔ انتخابی روایت کے مطابق یہ تین مباحثوں میں سے پہلا مباحثہ تھا۔ لیکن بحث کے معیار کو دیکھتے ہوئے کئی امریکی سوال کر رہے ہیں کہ کیا مزید دو مباحثوں کی ضرورت ہے؟

بعض مبصرین کے مطابق پہلی بحث ماضی پر مرکوز رہی اور اس بارے میں زیادہ بات نہیں ہوئی کہ مستقبل میں امیدواروں کی پالیسیاں کیا ہوں گی۔ اگلی صدارتی بحث میں ان پر توجہ دی جانی چاہیے۔

90 منٹ طویل مباحثے کے دوران کوئی اشتہار نشر نہیں کیا جاتا۔ دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن نے اس دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’جھوٹا‘ قرار دیا اور انہیں ’شٹ اپ‘ یعنی خاموش رہنے کو کہا۔

بائیڈن نے کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ وہ اب تک جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں وہ محض ایک جھوٹ ہے۔ میں ان کے جھوٹ پکڑنے نہیں آیا ہوں۔ ہر شخص جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔‘

مباحثے کے ابتدائی لمحات سے ہی تناؤ واضح تھا۔ ایک دوسرے کو بار بار ٹوکنے کے بعد بائیڈن ایک موقعے پر کھڑے ہو گئے اور کہا ’کیا آپ اپنی بکواس بند کریں گے۔‘

اس پر ٹرمپ نے بائیڈن سے کہا: ’آپ اتنے بھی سمجھدار نہیں ہو۔‘

جو بائیڈن نے صدارتی گرما گرم مباحثے میں ٹرمپ کو دو لاکھ امریکیوں کی کرونا وائرس کے باعث ہونے والی ’موت‘ کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ٹرمپ کی بڑی ریلیوں نے کرونا وائرس کے ذریعے زندگیوں کو خطرے میں ڈالا ہے۔‘

انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ملامت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’گھبرائے ہوئے ہیں اور ان کے پاس امریکیوں کو اس بحران سے نکالنے کے لیے کبھی کوئی منصوبہ تھا ہی نہیں۔‘

بائیڈن نے ٹرمپ پر اس موسم گرما کے حوالے سے بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ وہی ہیں جس کی وجہ سے دو لاکھ امریکی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ صدر کے پاس اس سے بچنے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں تھا۔‘

صدر ٹرمپ نے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق بھی سائنس سے اتفاق کا اعتراف نہیں کیا اور کہا کہ کیلیفونیا کے جنگلات میں آگ بہتر انتظام نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے سفید فام نسل پرست گروپوں کی مذمت بھی نہیں کی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بائیڈن نے اپنے صدارتی حریف کو ’نسل پرست‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ امریکہ کا بدترین صدر ثابت ہوئے ہیں۔‘

بائیڈن کا کہنا تھا: ’انہیں امریکی عوام کی زندگیوں کی بجائے سٹاک مارکیٹ میں زیادہ دلچسپی تھی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹرمپ نے بائیڈن کی جانب سے ’سمارٹ‘ کا لفظ استعمال کرنے پر اعتراض کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا: ’آپ نے اپنی کلاس میں سب سے کم یا کم ترین نمبروں سے گریجویشن کی ہے۔ میرے ساتھ سمارٹ کا لفظ کبھی استعمال نہ کریں۔ کبھی بھی یہ لفظ استعمال نہ کریں۔‘

انہوں نے وبائی مرض کے حوالے سے خود پر لگنے والے الزامات کا جواب اور اپنے نقطہ نظر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ اس کے علاوہ میں آپ سے کہتا ہوں جو کام ہم نے کیا ہے وہ آپ کبھی بھی نہیں کرسکتے تھے۔ ایسا کرنا آپ کے خون میں ہی شامل نہیں ہے۔‘

دو روز قبل نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے 2016 اور 2017 میں فیڈرل انکم ٹیکس میں محض 750 ڈالر کی ادائیگی کی تھی۔

ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے بارے میں پوچھے جانے والے سوال پر کہا: ’میں نے لاکھوں ڈالر ٹیکس ادا کیے۔ لاکھوں ڈالر انکم ٹیکس بھی ادا کیے ہیں۔‘

مباحثے میں شامل دونوں امیدواروں نے مصافحہ نہیں کیا کیونکہ وہ کرونا وائرس کی وجہ سے سماجی دوری کے پروٹوکول پر عمل کر رہے تھے۔

77 سالہ بائیڈن کو حالیہ ’نیشنل اوپینین پول‘ میں 74 سالہ ٹرمپ پر برتری حاصل ہے  تاہم دوسرے سروے میں کہا گیا ہے کہ انتخابات کا مقابلہ سخت ہو گا۔

دی اٹلانٹک کے کام نگار جیمز فالوز نے ’جمہوریت کے لیے گھناؤنی رات‘ کے عنوان سے مضمون میں میزبان کے بارے میں لکھا کہ ’یہ پانچ منٹ میں واضح ہو گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی یہ تھی کہ وہ جتنی بار بھی ہو سکے، رکاوٹ ڈالیں، چیخیں اور توہین کریں۔ یہ ایک حکمت عملی ہے جو صرف اس صورت میں کام کر سکتی ہے جب کوئی اس کے راستے میں نہ آ جائے۔ اور کرس والس (میزبان) صرف اسے آگے بڑھنے دیں۔ ہوسکتا ہے کہ والس کو حیرت کا سامنا کرنا پڑا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ