جنرل فیض حمید نے ضمانت روکنے کے لیے عدلیہ پر دباؤ ڈالا: نواز

مسلم لیگ ن کے سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو حال ہی میں ریمارکس دیئے اس کے بعد کیسے یقین کریں کہ انصاف ملے گا؟‘

سابق وزیراعظم نواز شریف (تصویر: مسلم لیگ ن  آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ)

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ان کی اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی ضمانت کی منظوری روکنے کے لیے عدلیہ پر دباؤ ڈالا تھا۔

مسلم لیگ ن کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب میں نواز شریف نے دعویٰ کیا: ’جب (اسلام آباد ہائی کورٹ کے) جسٹس شوکت عزیز نہ مانے تو وہ (جنرل فیض حمید) چیف جسٹس کے پاس چلے گئے اور ان پر دباؤ ڈالا کہ جسٹس شوکت کو بینچ میں نہ رکھا جائے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا: ’یہ مداخلت نہیں؟ جنرل فیض حمید کس کی ہدایت پر کام کرتے ہیں؟ مان لیا وہ خود کرتے ہیں تو آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے سینیٹر مولانا غفور حیدری کو کیوں کہا کہ نواز شریف کے خلاف جو ہم کر رہے ہیں اس کے بیچ نہ آئیں تو پھر یہ کیا ہے؟ کیا یہ مداخلت نہیں؟‘

اپنے خطاب میں نواز شریف نے مزید کہا کہ ’ایک وزیر اعظم کے خلاف جے آئی ٹی بنا کر آئی ایس آئی اور ایم آئی کا نمائندہ شامل کر دیا، پھر بھی کچھ نہ نکلا تو اقامہ پر نااہل کروادیا، ریفرنس بنوائے اور سزائیں دلوا دیں۔ ہمیں ہرایا گیا، جیتی ہوئی سیٹیں مخالفوں کو دلوائی گئیں، ہم گونگے بہرے نہیں ہیں ہمارا ضمیر بھی جاگ رہا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ساتھ ہی انہوں نے شکوہ کیا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو حال ہی میں ریمارکس دیئے اس کے بعد کیسے یقین کریں کہ انصاف ملے گا؟ اس سے پہلے بھی احتساب عدالتوں سے کیا انصاف ملا؟‘

نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ’جنرل عاصم باجوہ نے اربوں کے اثاثے پندرہ بیس سالوں میں امریکہ میں بنائے، بچوں کی الگ داستان ہے، جب بات کھل کر آتی ہے تو باہمی سمجھوتے سے استعفی دیے جاتے ہیں لیکن وزیر اعظم انہیں ایماندار مان کر استعفی واپس کرتے ہیں کہ آپ ایماندار ہیں۔ یہ معیار ہے جبکہ جو سیاست دار مالدار خاندان سے ہو، اسے کرپٹ کہا جاتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ معیار نہیں چلے گا۔ ایسے دوہرے معیار پر میں خاموش نہیں رہوں گا، کوئی خاموش کرانے کی کوشش بھی نہ کرے۔‘

سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ’ملکی بدحالی کی ذمہ داری عمران خان پر تو عائد ہوتی ہے لیکن اصل ذمہ دار ان کو لانے والے ہیں۔ بے روزگاری، معاشی بگاڑ اور بد امنی کے ذمہ دار وزیراعظم کو لانے والے ہیں اور انہیں جواب دینا ہوگا۔‘

نواز شریف کے ان دعوؤں کے حوالے سے آئی ایس آئی سربراہ کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

’نواز شریف نے خود کو بچانے کے لیے اداروں پر تنقید کی‘

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے نواز شریف کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور عمران خان کی ایک ہی ڈیمانڈ ہے کہ آپ صرف دو سوالوں کے جوابات دیں کہ یہ اثاثے آپ نے کیسے بنائے اور پیسہ باہر کیسے لے کر گئے۔‘

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ’صرف اپنی ذات، اپنے خاندان اور اپنے پیسوں کو بچانے کے لیے انہوں نے ملک کے تمام اداروں پر تنقید کی، جبکہ وہ ملک کے تین مرتبہ وزیراعظم رہ چکے ہیں۔‘

انہوں نے نواز شریف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’جب آپ نے سوالات کا جواب نہیں دینا تو آپ ایسے ہی سیاسی بیانات دیں گے۔ جب آپ اقتدار میں تھے تو ادارے ٹھیک تھے۔ اب آپ کی حکومت نہیں تو ادارے خراب ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان