اب چند روپوں میں 'روبوٹ' بن کر دنیا گھومیں

برطانیہ میں مقیم پاکستانی نوجوان زین خواجہ نے ایک ایسا روبوٹ تیار کیا ہے جو آپ کو  گھر بیٹھے دنیا کے کسی بھی مقام کی سیر کراسکتا ہے۔

برطانیہ میں مقیم پاکستانی نوجوان زین خواجہ نے ایک ایسا روبوٹ تیار کیا ہے جو آپ کو  گھر بیٹھے دنیا کے کسی بھی مقام کی سیر کراسکتا ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ کووڈ19کے زمانے میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا کافی مشکل ہے اور پروازوں پر کرونا ایس او پیز فالو کرنا اور سماجی فاصلوں کے اصول پر عمل پیرا ہونے کے باوجود اس وبا سے بچنے کی ضمانت نہیں۔

'ان حالات میں مجھے ورچوئل سیاحت کا خیال آیا اورمیں نے 'چلاؤ'کے نام سے روبوٹ تیار کیا، جس کے ذریعے  دنیا میں کہیں بھی تفریحی مقام پر جائے  بغیر محض موبائل ایپ کے ذریعے ورچوئل سیاحت ممکن ہوگی۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ اس سال کے آخر تک یہ روبوٹ دنیا بیشتر تفریحی اور اہم تاریخی مقامات پر نصب کر دیے جائیں گے۔'اس جدید طرز سیاحت سے گھر بیٹھے روبوٹ کے ذریعے وہاں پر موجود لوگوں سے بات چیت ہوسکے گی اور ان کے ساتھ تصاویر بنانا بھی ممکن ہوگا۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ اس روبوٹ میں مطلوبہ مقام سے متعلقہ آگاہی بھی موجود ہوگی جو آپشن استعمال کر کے لی جاسکے گی۔'پہلے مرحلے میں اسے استعمال کرنے کی سو روپے فی گھنٹہ فیس مقرر کر رہے ہیں، لیکن بعد میں اسے مفت کردیاجائے گا۔'

زین  کے مطابق یہ روبوٹ پاکستان میں چڑیاگھروں، عجائب گھروں، باغات سمیت تفریحی مقامات اور پارکس میں نصب ہوں گے اور دنیا میں کوئی بھی پاکستان آئے بغیر یہاں کی سیر کر سکے گا۔

زین نے بتایاکہ آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے 2016میں ایک کمپنی بنائی جس نے 'سیلف ڈرائیو' یعنی ڈرائیور کے بغیر چلنے والی کار متعارف کرائی تھی، اب انہوں نے ورچوئل سیاحت کو فروغ دینے کے لیے روبوٹ تیار کیے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا