کشمیری پانچ اگست کی ڈاکہ زنی کبھی نہیں بھول سکتے: محبوبہ مفتی

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کو اس بات کا اعادہ کرنا ہوگا کہ جو 'دلی دربار' نے پانچ اگست 2019 کو غیر آئینی، غیرجمہوری اور غیرقانونی طریقے سے ہم سے چھین لیا ہے اسے واپس حاصل کرنا ہوگا۔

'ہم میں سے کوئی بھی شخص پانچ اگست 2019 کی ڈاکہ زنی اور بے عزتی کو کبھی بھول نہیں سکتا ہے۔'

یہ بات بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے 14 ماہ کی نظر بندی کے خاتمے کے بعد سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک آڈیو بیان میں کہی ہے۔

کشمیر انتظامیہ نے منگل کی رات 61 سالہ محبوبہ مفتی پر عائد متنازع پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) منسوخ کرنے کا ایک حکم نامہ جاری کیا۔

انہیں اور دیگر سینکڑوں بھارت نواز و علیحدگی پسند کشمیری رہنمائوں کو گذشتہ برس پانچ اگست کو کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے سے ایک روز قبل جیلوں میں بند کیا گیا تھا۔

محبوبہ مفتی نے، جن کی جماعت 'پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی' نے کشمیر میں بھارت کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ مل کر ایک مخلوط حکومت قائم کی تھی، اپنے ایک منٹ اور 23 سیکنڈ طویل آڈیو بیان میں کئی باتیں کہی ہیں۔

وہ اپنی رہائی پر کہتی ہیں: 'میں آج ایک سال سے بھی زیادہ عرصے کے بعد رہا ہوئی ہوں۔ اس دوران پانچ اگست 2019 کے سیاہ دن کا سیاہ فیصلہ ہر پل میرے دل اور روح پر وار کرتا رہا۔ مجھے احساس ہے کہ یہی کیفیت جموں و کشمیر کے تمام لوگوں کی رہی ہوگی۔'

محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ کشمیریوں کو اس بات کا اعادہ کرنا ہوگا کہ جو 'دلی دربار' نے پانچ اگست 2019 کو غیر آئینی، غیرجمہوری اور غیرقانونی طریقے سے ہم سے چھین لیا ہے اسے واپس حاصل کرنا ہوگا۔

'بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر جس کی وجہ سے جموں و کشمیر میں ہزاروں لوگوں نے اپنی جانیں نچھاور کی ہیں اس کو حل کرنے کے لیے ہمیں اپنی جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔

'میں مانتی ہوں کہ یہ راہ قطعاً آسان نہیں ہوگی لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم سب کا حوصلہ اور عزم یہ دشوار راستہ طے کرنے میں ہمارا معاون ثابت ہوگا۔'

محبوبہ مفتی نے بھارت کی جیلوں میں بند کشمیری نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

'آج جبکہ مجھے رہا کیا گیا ہے میں چاہتی ہوں کہ جموں و کشمیر کے جتنے بھی لوگ بھارت کی مختلف جیلوں میں بند پڑے ہیں انہیں جلد از جلد رہا کیا جائے۔'

کشمیر کی تقریباً تمام بھارت نواز سیاسی جماعتوں نے محبوبہ مفتی کی رہائی کا خیرمقدم کیا ہے۔

کشمیر انتظامیہ نے محبوبہ مفتی کو رواں برس 7 اپریل کو سب جیل ٹرانسپورٹ یارڈ سری نگر سے اپنی رہائش واقع گپکار روڈ منتقل کیا تھا جسے سب جیل قرار دیا گیا تھا۔

اگرچہ انہیں چار اگست 2019 کو چشمہ شاہی کے گیسٹ ہاؤس میں نظر بند کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں گذشتہ برس نومبر کے وسط میں مولانا آزاد روڑ پر واقع سرکاری کوارٹر منتقل کیا گیا جہاں ان کے لیے سرما کے پیش نظر گرمی کا خاطر خواہ انتظام کیا گیا تھا۔

محبوبہ مفتی کو جس متنازع قانون پی ایس اے کے تحت نظر بند رکھا گیا تھا اسے نیشنل کانفرنس کے بانی اور سابق وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ نے جنگل سمگلروں کے لیے بنایا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس قانون کو انسانی حقوق کا عالمی نگراں ادارہ 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' ایک 'غیرقانونی قانون' قرار دے چکا ہے۔

کشمیر میں اس قانون کا اطلاق علیحدگی پسند رہنمائوں و کارکنوں اور آزادی حامی احتجاجی مظاہرین پر کیا جاتا ہے۔ جن پر اس قانون کا اطلاق کیا جاتا ہے اُن میں سے اکثر کو کشمیر سے باہر جیلوں میں بند کیا جاتا ہے۔

محبوبہ مفتی کون ہیں؟

محبوبہ مفتی سال 2016 میں کشمیر کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کے بطور مسند اقتدار پر براجمان ہوئیں لیکن یہ عہدہ ان کے لیے نیک شگون ثابت نہیں ہوا۔  

وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے روز اول سے ہی نہ صرف ان کی سیاسی ساکھ تنزل پذیر ہوئی بلکہ ان کی جماعت پی ڈی پی میں اندورنی خلفشار آہستہ آہستہ آتش فشاں کی صورت اختیار کرتا گیا جو بعد میں بی جے پی اور پی ڈی پی کی مخلوط حکومت کے ختم ہونے کے ساتھ ہی پھٹ گیا۔

محبوبہ مفتی سال 1996 میں کشمیر کے سیاسی افق پر جلوہ افروز ہوئیں اور اسی سال جموں و کشمیر میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں اپنے آبائی حلقہ انتخاب بجبہاڑہ سے کانگریس کی ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی۔

انہیں گذشتہ برس منعقد ہوئے بھارتی پارلیمان کے انتخابات میں اپنے پشتنی پارلیمانی حلقے 'اننت ناگ' سے پہلی بار شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے چند ماہ بعد جب بھارتی حکومت نے پانچ اگست 2019 کو کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 منسوخ کیں اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کیا تو علاقائی جماعتوں اور کانگریس کے درجنوں سیاسی لیڈران کو بند کیا گیا جن میں محبوبہ مفتی بھی شامل تھیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا