کشمیر: عسکریت پسندی 'گلوریفائی' کرنے کا الزام، 9 کرکٹر گرفتار

ضلع شوپیاں سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن اور طلبہ لیڈر سید تجمل عمران نے مبینہ طور پر اپنے بھائی سید روبان کی یاد میں ایک ٹورنامنٹ منعقد کیا تھا، جو گذشتہ برس جنوری میں سکیورٹی فورسز سے ایک تصادم کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔

ضلع شوپیاں کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس امرت سنگھ کے مطابق  کھلاڑی ہلاک عسکریت پسند کی قبر پر گئے ہیں اور وہاں اجتماعی طور پر فاتحہ پڑھی گئی(تصویر: سوشل میڈیا)

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیاں میں پولیس نے ایک عسکریت پسند کی یاد میں منعقد کیے جانے والے کرکٹ ٹورنامنٹ میں حصہ لینے پر مقامی کرکٹ ٹیم کے نو کھلاڑیوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

گرفتار شدگان کے خلاف پولیس تھانہ شوپیاں میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے حوالے سے قانون کی دفعہ 13 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں ان پر عسکریت پسندی کو 'گلوریفائی' کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

یہ ٹورنامنٹ مبینہ طور پر ضلع شوپیاں کے نازنین پورہ سے تعلق رکھنے والے سید تجمل عمران نامی طلبہ لیڈر و سماجی کارکن نے اپنے بھائی سید روبان کی یاد میں منعقد کیا تھا۔

البدر نامی عسکریت پسند تنظیم سے وابستہ سید روبان کو سکیورٹی فورسز نے گذشتہ برس جنوری میں ایک تصادم کے دوران ہلاک کیا تھا۔

ضلع شوپیاں کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) امرت پال سنگھ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: 'غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کی دفعہ 13 کے تحت مقدمہ نمبر 206 درج کرکے گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔'

انہوں نے مزید بتایا: 'سید تجمل عمران نے اپنے بھائی، جو ایک عسکریت پسند تھا، کی یاد میں کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا تھا۔ اس ٹورنامنٹ کے دوران عسکریت پسندی کو گلوریفائی کیا گیا ہے۔'

امرت سنگھ کے مطابق: 'ٹورنامنٹ کے ایک میچ میں عسکریت پسندی کے حق میں بیانات دیے گئے ہیں۔ کھلاڑیوں میں جرسیاں تقسیم کی گئی ہیں۔ کھلاڑی ہلاک عسکریت پسند کی قبر پر گئے ہیں اور وہاں اجتماعی طور پر فاتحہ پڑھی گئی ہے۔ غلط کام کریں گے تو مقدمہ درج ہوگا ہی۔'

ذرائع نے بتایا کہ یہ کرکٹ میچ 31 اگست کو کھیلا گیا تھا، جس میں نازنین پورہ اور ملحقہ دیہات سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔

سید تجمل عمران کے والد سید حسین نے بتایا کہ ان کے بیٹے کو پولیس نے 3 ستمبر کو سری نگر سے گرفتار کیا ہے جبکہ دیگر 8 کو یکم ستمبر کو گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا: 'میرا بیٹا سید تجمل ایک نجی کمپنی میں کام کرتا ہے اور ساتھ میں تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ کھلاڑیوں میں کھیل کود کا سامان تقسیم کرنا ان کا معمول ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ نوجوان اپنے ذہن کھیل کود اور دیگر اچھی سرگرمیوں میں ہی لگائیں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مزید کہنا تھا: 'جس جگہ پر بچوں نے کرکٹ کھیلی ہے وہاں قریب ہی ایک قبرستان میں میرا بیٹا روبان دفن ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ کھلاڑیوں نے روبان کی قبر پر فاتحہ پڑھی ہے۔ کسی نے اس موقع کی تصویر لے کر اسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیا ہے۔'

کرکٹ میچ کے بعد سید تجمل عمران نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا: 'میں نے شوپیاں کے ہونہار اور باصلاحیت 100 سے زائد کھلاڑیوں میں جرسیاں تقسیم کی ہیں تاکہ میں اپنے مرحوم بھائی کا خواب شرمندہ تعبیر کرسکوں جو بذات خود ضلع کا ایک ہونہار کرکٹر تھا۔'

ان کا مزید کہنا تھا: 'نوجوانوں کو چاہیے کہ صحت مند رہنے کے لیے وہ مختلف کھیل کھیلیں۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہمیشہ ہمارا مشن رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید کھلاڑیوں میں کھیل کود کا سامان تقسیم کروں گا۔'

گرفتار شدگان میں ضلع شوپیاں کے بابا نار نامی گاؤں کے رہائشی 24 سالہ سید شاہد بھی شامل ہیں، جنہوں نے اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی سے معاشیات میں پوسٹ گریجویشن کر رکھی ہے۔

ایک مقامی نیوز پورٹل 'دی کشمیر والا' نے سید شاہد کے بڑے بھائی سید عرفان کے حوالے سے لکھا: 'کیگام پولیس تھانے کے ایس ایچ او نے میرے چھوٹے بھائی شاہد کو یکم ستمبر کو تھانے پر طلب کیا۔ وہ اس وقت ایک شادی کی تقریب میں گئے ہوئے تھے، تاہم اطلاع موصول ہوتے ہی وہ سیدھے پولیس تھانے گئے کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔'

'لیکن انہیں وہاں گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس نے ہمیں بتایا کہ شاہد کو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ہمیں اب ضمانت ٹاڈا کورٹ سے حاصل کرنی ہے اور اس کا انحصار بھی پولیس کی رپورٹ پر ہے۔'

گرفتار کیے جانے والے ایک کھلاڑی سجاد احمد ڈار، جو انجینیئرنگ کے طالب علم ہیں، کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ سجاد کو بھی یکم ستمبر کو گرفتار کیا گیا ہے اور تب سے وہ کیگام پولیس تھانے میں بند ہیں۔

سجاد احمد کے بھائی معروف احمد ڈار نے کہا ہے: 'ایک جنگجو کا بھائی میدان میں آیا تھا اور کھلاڑیوں میں جرسیاں تقسیم کی تھیں جن پر اس کے بھائی کا نام لکھا تھا۔ جس نے بھی یہ جرسی پہنی ہے اس کو گرفتار کیا گیا ہے'۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کرکٹ کھلاڑیوں کی گرفتاری کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔

2017 میں بھی پولیس نے وسطی ضلع گاندربل میں ایک درجن سے زیادہ کرکٹ کھلاڑیوں کو گرفتار کیا تھا، جن پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک کرکٹ میچ کے دوران پاکستانی کرکٹ ٹیم کی جرسی پہنی تھی اور مقابلے سے قبل پاکستان کا قومی ترانہ گایا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا