امریکی جج کا قطری امیر کے بھائی کے خلاف مقدمہ خارج کرنے سے انکار

شیخ خالد بن حماد بن خلیفہ الثانی کی امریکی ریسنگ نیٹ ورک کمپنی  کے لیے کام کرنے والے چھ امریکی کنٹریکٹرز نے ان کے خلاف یہ مقدمہ دائر کر رکھا ہے، جس میں منشیات، جنسی زیادتی اور تشدد جیسے خوفناک الزامات شامل ہیں۔

شیخ خالد کے وکلا کا استدلال تھا کہ فلوریڈا میں نہ تو الثانی اور نہ ہی الانابی ریسنگ یو ایس ایل ایل سی کی کوئی قانونی موجودگی ہے، اس لیے یہ وفاقی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا  (تصویر: فیس بک)

امریکی وفاقی جج نے قطری امیر تمیم بن حماد الثانی کے بھائی شیخ خالد بن حماد بن خلیفہ الثانی پر متعدد غیر قانونی کاموں میں ملوث ہونے پر قائم مقدمات کو خارج کرنے کی درخواستوں کو مسترد کردیا ہے۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے بعد شیخ خالد بن حماد بن خلیفہ الثانی اور ان کی امریکی ریسنگ نیٹ ورک کمپنی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا سکے گی۔ شیخ خالد اور ان کی کمپنی کے لیے کام کرنے والے چھ امریکی کنٹریکٹرز نے ان کے خلاف یہ مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔

مقدمے میں شامل مدعی نے الزام عائد کیا کہ شیخ خالد نے ایک ایسے بھارتی ملازم کا قتل کیا جو ان کی بیوی کے ڈرائیور کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔ اس کے علاوہ بھی ان پر ریسنگ کے اپنے متعدد حریفوں کو قتل کرانے کا حکم دینے اور امریکہ اور اس کے باہر وسیع پیمانے پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزمات عائد کیے گئے ہیں۔

ابتدائی طور پر فلوریڈا کی ایک وفاقی عدالت میں شیخ خالد اور ان کی دو کمپنیوں جی ای او سٹریٹجک ڈیفنس سولیوشن ایل ایل سی اور کے ایچ ہولڈنگز ایل ایل سی کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔

تاہم جب انہوں نے عدالت کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا اور وکلا نے بھی ان کی نمائندگی نہیں کی تو مدعی نے پانچ نومبر 2019 کو اس مقدمے میں توسیع کرتے ہوئے ان کی ایک اور کمپنی الانابی ریسنگ یو ایس اے ایل ایل سی، جس کے دفاتر فلوریڈا میں ہیں، کے خلاف بھی مقدمہ دائر کر دیا۔

الانابی ریسنگ یو ایس اے ایل ایل سی  اور الثانی کے وکیلوں نے آخرکار اس مقدمے کا جواب دیا اور فیڈرل کورٹ کے جج تھامس پی نائی سے استدعا کی کہ اس مقدمے کو برخاست کر دیا جائے۔

شیخ خالد کے وکلا کا استدلال تھا کہ فلوریڈا میں نہ تو الثانی اور نہ ہی الانابی ریسنگ یو ایس ایل ایل سی کی کوئی قانونی موجودگی ہے، اس لیے یہ وفاقی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

جون 2020 میں میساچوسٹس میں ان کی کمپنی الانابی ریسنگ یو ایس ایل ایل سی کے خلاف دوبارہ مقدمہ دائر کیا گیا تو ان کے آٹھ وکلا نے اس مقدمے کی برخاستگی کے لیے درخواستیں داخل کروا دیں۔

شیخ خالد اور الانابی ریسنگ یو ایس اے، ایل ایل سی کے علاوہ اس مقدمے میں مدعا علیہان کی چار دیگر کمپنوں کے نام شامل ہیں، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ بھی شیخ خالد کی ملکیت ہیں۔

وفاقی عدالت کے جج رچرڈ جی سٹیرنز نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’80 سے زیادہ الگ الگ لیگل درخواستوں میں عائد کیے گئے الزامات اور ان کے جوابات اتنے پیچیدہ تھے کہ ان کو حل کرنا تقریباً ناممکن تھا، اس لیے عدالت فریقین کو اپنے کیسز یکجا کرنے کی ہدایت کرتی ہے اور مدعی کی وکیل ریبیکا کیسٹینیڈا کو ہدایت کرتی ہے کہ کیسز یکجا کرکے دو ہفتوں کے اندر انہیں دوبارہ دائر کریں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جج نے لکھا: ’عدالت مدعا علیہان کے مقدمے کو برخاست کرنے کی درخواستوں کو بغیر کسی تعصب کے رد کرتی ہے اور مدعا علیہان کو مزید واضح بیان دائر کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ مدعی 30 اکتوبر 2020 تک ایک ترمیم شدہ شکایت درج کرایں جس میں غیر ضروری الزامات کو ختم کیا جائے اور حقائق کو آسان طریقے سے بیان کیا جائے اور اس بات کی نشاندہی کی جائے کہ کسی شخص پر جو بھی الزامات ہیں وہ قابل فہم ہیں، ورنہ اس کیس کو خارج کردیا جائے گا۔‘

مقدمے میں چھ سابقہ کنٹریکٹرز نے شیخ خالد پر 29 الگ الگ الزامات عائد کیے تھے جن میں ان پر منشیات، جنسی زیادتی اور تشدد جیسے خوفناک الزامات شامل ہیں۔

مقدمے میں ریبیکا کیسٹینیڈا نے دعویٰ کیا کہ شیخ خالد نے ’دشمنی کا ماحول پیدا کیا، ملازمین کو غلط طور پر قید میں رکھا، انہیں ذاتی نقصان پہنچایا، ان پر حملہ کیا اور ملازمین کو زدوکوب کیا، انہیں جذباتی تکلیف دی، انتقامی کارروائی میں مصروف رہے اور جان بوجھ کر کاروباری تعلقات میں مداخلت کی۔‘

شیخ خالد بن حماد خلیفہ الثانی ایک بااثر پلے بوائے اور ریس کار ڈرائیور ہیں جنہوں نے مقدمے کے مطابق ’دو سابق کنٹریکٹرز آلندے اور پِٹارڈ کو دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے ان کے دشمنوں کو قتل نہ کیا تو انہیں اس کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔‘

اس مقدمے کا باعث بننے والی سرخیوں سے شیخ خالد بن حماد خلیفہ الثانی کے بھائی، جو قطر کے امیر بھی ہیں، کی سبکی ہوئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا