کشمیر میں نیا سیاسی اتحاد ’پیپلز الائنس‘کامیاب ہوگا؟

انڈپینڈنٹ اردو کی کشمیری تجزیہ نگار نعیمہ احمد مہجور سے بات چیت۔

(اے ایف پی)

چار اگست 2019 کو نیشنل کانفرنس کے سربراہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ گپکار پر بھارت نواز سیاسی جماعتوں کا اجلاس ہوا۔ یہ 70 سالہ تاریخ میں مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں کا اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس تھا، جس میں سوائے بھارتیہ جنتا پارٹی کے جموں و کشمیر میں وجود رکھنے والی سبھی سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا۔

لیکن پھر پانچ اگست رونما ہوا اور سب کشمیری رہنما نظر بند کر دیے گئے۔

اب ایک سال کی بندش کے بعد ایک ایک کر کے ان رہنماؤں کو رہا کیا گیا تو انہوں نے گپکار ڈیکلریشن کے تحت نیا سیاسی اتحاد ’پیپلز الائنس‘ تشکیل دے دیا جس کا مقصد کشمیر کو واپس چار اگست والی پوزیشن میں لانا اور مسئلے کو حل کروانا ہے۔

 

اس اتحاد کے تشکیل پانے کے محض تین روز بعد بھارتی تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے اس کے سربراہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو ایک پرانے کیس میں اچانک طلب کر کے ان سے سات گھنٹے تک پوچھ گچھ کی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کے لیڈران نے اس کارروائی کو سیاسی انتقام گیری سے تعبیر کیا ہے۔

ایسے حالات میں کیا یہ نیا اتحاد کامیاب ہوگا؟ کیا ان جماعتوں سے ناراض عام کشمیری اس کی کال پر کان دھرے گا؟ اور ان رہنماؤں کے دوبارہ گرفتار ہونے کا کتنا امکان ہے؟

ان سوالات کے جواب کے لیے کشمیری تجزیہ نگار نعیمہ احمد مہجور سے انڈپینڈنٹ اردو کی بات چیت

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا