شہر لاہور میں لگے 250 ریسکیو بٹن جن سے عام شہری ناواقف ہیں

کوئی واردات ہو یا موبائل فون چھن جائے اور کال کی سہولت موجود نہ ہو تو اس وقت یہ بٹن دبا کے ون فائیو سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ حکومتی فنڈز کے کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود بیشتر شہری اس سہولت سے آگاہ نہیں ہیں۔

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں سیف سٹی اتھارٹی کی جانب سے فراہم کیے گئے پینک بٹن کی سہولت سے بیشتر شہری لاعلم ہیں۔

شہر کے مختلتف مقامات پر 250 سیف سٹی کیمروں کے لیے لگائے پولز کے ساتھ ون فائیو ایمرجنسی کالنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔

ہر بوتھ میں ایک بٹن لگا ہوا ہے جسے پینک بٹن کانام دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد کسی بھی واردات کی صورت میں 15سینٹر سے رابطہ ہے۔

خاص طور پر جب موبائل فون چھن جائے یا کوئی بھی ایسا واقع پیش آجائے جب کال کی سہولت موجود نہ ہو تو اس وقت کے لیے مدد گار یہ سہولت دی گئی ہے۔

کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود بیشتر شہری اس سہولت سے آگاہ نہیں ہیں۔

یہ بٹن شہر کے بیشتر مقامات پر یا تو کام کرنا چھوڑ گئے یا لوگوں کے استعمال میں ہی نہیں ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو نے جب لارنس روڑ پر نصب اس 15بوتھ کے ساتھ لگے پینک بٹن کو دبا کر 15سینٹر سے رابطہ کی کوشش کی تو وہ کام نہیں کر رہا تھا۔ اسی طرح جیل روڑ پر کئی پوائنٹ ایسے تھے جہاں یہ بٹن خراب پائے گئے۔ البتہ ایک مقام سے اس بوتھ میں لگے بٹن کو جب دبایاگیاتو 15سینٹر سے رابطہ ہوگیا۔

رابطہ ہونے پر سینٹر میں موجود نمائندے نے رسپانڈ کرتے ہوئے وہاں پر نصب کیمرے کا نمبر پوچھا تاکہ کسی واردات کی صورت میں پولیس اہلکاروں کو مدد کے لیے بھیجا جاسکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس بارے میں چیف آپریٹنگ آفیسر(سی او او)سیف سٹی اتھارٹی پنجاب محمد کامران خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایاکہ شہر بھر میں ڈھائی سو مقامات ایسے ہیں جہاں پینک بٹن نصب ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وارادات کی صورت میں یہ ایمرجنسی کال سینٹر 15سے رابطے کا آسان ترین ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ بٹن دبانے سے وہیں بوتھ میں نصب سپیکر سے آواز آئے گی اور کوئی بھی شہری اپنا مسئلہ بتا سکتا ہے۔ لیکن اسے ایسی صورت میں استعمال کیاجاسکتا ہے جب کسی سے موبائل چھن جائے یا کوئی کسی تخریب کاری کی اطلاع اپنا ذاتی نمبر ظاہر کیے بغیر دینا چاہے۔اسی طرح حادثہ پیش آنے کی صورت میں بیلنس نہ ہونے پر بھی اس سہولت کے ذریعے 1122سروس تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ جہاں یہ بوتھ یا بٹن خراب ہیں ان کی مرمت کر کے دوبارہ بحال کیا جاتا ہے۔کامران خان نے کہاکہ یہ سہولت کھیلنے یا مذاق کرنے کے لیے بالکل نہیں کیونکہ بلا وجہ کال کرنے والوں کو کیمروں کے ذریعے ٹریس کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جاسکتی ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا