ٹائم سکیل دینے کا حکم: ’سندھ کے اساتذہ آج فتح کا دن منارہے ہیں‘

صوبے کے 10 ہزار سے زائد کالج اساتذہ کو ٹائم سکیل نہ دینے کے معاملے پر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے اساتذہ کو ٹائم سکیل دینے کا حکم جاری کرتے ہوئے حکومت سے چار ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی۔

28 مارچ2019 کو کراچی میں سرکاری اساتذہ کا  کراچی پریس کلب کے باہر مظاہرہ (اے ایف پی)

سندھ ہائی کورٹ نے صوبے کے 10 ہزار سے زائد کالج اساتذہ بشمول لیکچرز اور پروفیسرز کو ٹائم سکیل نہ دینے کے معاملے پر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے بعد صوبائی حکومت کو حکم دیا ہے کہ اساتذہ کو فوری طور پر ٹائم سکیل دیا جائے تاکہ ان کو سالوں سے رکی ہوئی پروموشنز مل سکیں۔  

جمعے کو مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران سیکریٹری کالجز سندھ نے اعتراف کیا کہ سندھ کے کالج اساتذہ کو ٹائم سکیل دینے کے لیے 2017 میں جو کمیٹی بنی تھی، اس کمیٹی کا اجلاس دو سال بعد 2019 میں ہوا تھا۔

دوسری جانب وکیل درخواست گزار نے کہا کہ 31 سال سے اساتذہ کی ایک پروموشن نہیں ہوئی ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ کچھ اساتذہ تو ایسے بھی ہیں جو اب ریٹائر ہونے والے ہیں مگر اس کے باجود ان کو ٹائم سکیل نہ ملنے کی وجہ سے پروموشن نہیں ملی ہے۔

عدالت نے سیکریٹری کالجز سندھ کو ہدایت کی کہ صوبے کے کالج اساتذہ کو ٹائم سکیل دینے کی سمری پر عمل درآمد کر کے چار ہفتوں میں یعنی 24 نومبر کو رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔  

اس حوالے سے سندھ کے کالج اساتذہ کی تنظیم، سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچرز ایسوسی ایشن کے صدر انور منصور منگریو نے بتایا کہ صوبے کے اساتذہ گذشتہ نو سالوں سے ٹائم سکیل لینے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے انور منصور منگریو نے کہا: ’ٹائم سکیل ہمارا حق ہے، دیگر صوبوں میں ٹائم سکیل دیا جاتا ہے مگر سندھ میں نہیں مل رہا تھا۔ ہم گذشتہ کئی سالوں سے احتجاج کررہے ہیں، جس کے دوران پولیس کی لاٹھیاں کھائیں۔ ہمیں آج عدالت سے انصاف مل گیا ہے، پورے سندھ کے اساتذہ آج فتح کا دن منارہے ہیں۔‘ 

انور منصور منگریو کے مطابق سندھ میں کُل 384 سرکاری کالج ہیں، جن میں سے 148 صرف کراچی میں، باقی دیگر اضلاع میں ہیں۔ ان میں سے 70 فیصد ڈگری کالجز جبکہ 30 فیصد انٹرمیڈیٹ کالج ہیں، جن میں سے آٹھ ہزار سات سو لیکچرز اور پروفیسرز آن ڈیوٹی ہیں، جبکہ باقی ریٹائرڈ اساتذہ ہیں اور کل تعداد دس ہزار سے زائد ہے۔   

ٹائم سکیل کیا ہے؟ 

صوبائی محکمہ تعلیم کے زیر انتظام کالجوں میں لیکچرار کی پوسٹ کے لیے جب بھی کوئی امیدوار کمیشن کا امتحان پاس کرکے جوائن کرتا ہے تو وہ 17 گریڈ میں جوائننگ دیتا ہے۔ جس کے بعد سرکاری فارمولے کے تحت اگلے سات سالوں میں اس لیکچرار کی ازخود اگلے گریڈ یعنی 18 گریڈ میں ترقی ہونی ہوتی ہے۔

مزید سات سال یعنی جوائننگ کے 14 سال بعد اگلے گریڈ یعنی 19 گریڈ میں ترقی ہونی ہوتی ہے اور 20 سال کی سروس کے بعد کالج اساتذہ کو 20 گریڈ میں جانا چاہیے۔ اس پورے عمل کو ٹائم سکیل کہا جاتا ہے۔  

انور منصور منگریو کے مطابق: ’محکمہ تعلیم سندھ میں ٹائم سکیل نہ ہونے کے باعث گذشتہ کئی دہائیوں سے سندھ کے کالج اساتذہ کی ترقیاں نہیں ہوسکی ہیں۔ کئی اساتذہ جنہوں نے 17 گریڈ میں جوائن کیا تھا، وہ ریٹائرڈ ہوگئے مگر انہیں ترقی نہیں مل سکی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن کا تعین بھی آخری تنخواہ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، تو اب ٹائم سکیل ملنے کے بعد ترقیاں ملیں گی تو اساتذہ کو پینشن بھی ترقی کی بنیاد پر ملے گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان