برطانیہ سپیشل بچوں کی سہولیات میں کمی کیوں کر رہا ہے؟

برطانیہ میں ذہنی معذوری کے شکار بچوں کے لیے فنڈنگ کی کمی کی وجہ سے سینکڑوں بچے سکولوں سے باہر رہنے پر مجبور ہیں۔

برطانیہ میں سینکڑوں سپیشل (ذہنی معذوری کا شکار) بچے فنڈنگ کی کمی کی وجہ سے سکولوں سے باہر رہنے پر مجبور ہیں۔ گذشتہ چار سالوں کے دوران فنڈنگ میں 1.2 ارب پاونڈ کی کمی واقع ہوئی ہے۔

دی انڈیپنڈنٹ کے سامنے آنے والی کیس سڈیز میں والدین کی جانب سے اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ زیادہ وقت تک گھر میں رہنے کی وجہ سے انکے بچوں کی ذہنی نشوونما متاثر ہو رہی ہے جبکہ وہ مقامی کونسلز کی جانب سے اس سلسلے میں مناسب اقدامات کا انتظار کر رہے ہیں۔

ایک ماں جن کا بیٹا ایسپرگرز سنڈروم کا شکار ہے ان کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا دو سال سے گھر میں رہنے کی وجہ سے شدید ڈپریشن کا شکار ہے اور وہ کھانا، بولنا اور نہانا چھوڑ چکا ہے۔ ایسپرگرز نشوونما میں کمی کی بیماری جس میں انسان کو سوشل تعلقات قائم کرنے اور دوسروں رابطوں میں مسائل پیش آتے ہیں۔

کئی اور کیسز میں والدین نوکری چھوڑ کر اپنے بچوں کی نگہداشت کرنے کے لیے گھر پر رہنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ 

یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب نیشنل ایجوکیشن یونین کی جانب سے جاری کی جانے والی رپورٹ میں انتباہ کیا گیا کہ دس میں سے نو مقامی انتظامی کونسلز فنڈز کی کمی کا شکار ہو کر کرائسس پوائنٹ پر پہنچ چکی ہیں۔ 

نیشنل ایجوکیشن یونین کی جانب سے کہا گیا کہ مقامی انتظامی کونسلز نا کافی رقم کی وجہ سے مطلوبہ وسائل نہیں رکھتیں جس کی وجہ حکومت کی جانب سے مطلوبہ رقم فراہم نہ کرنا ہے۔

خصوصی ضروریات والے جسمانی و ذہنی معذوری کے شکار بچوں کے والدین مقامی انتظامیہ سے فنڈر فراہمی کے معاملے پر ناکامی کے باعث لمبی قانونی جنگ میں الجھ رہے ہیں۔

ان بچوں کے والدین کی جانب سے ملک بھر میں اس حوالے سے مارچ کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ اس مالی بحران کو قومی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔

کئی والدین نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ان کے بچے سکولوں سے خارج کیے یا نکالے جانے کے بعد لمبے عرصے سے گھر پر مقیم ہیں، کچھ کے مطابق سکولوں کی جانب سے مالی بحران کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں اپنے بچوں کو سکول سے نکالنے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

آٹزم کے شکار ایک بچے کی ماں نے بتایا کہ انکے پاس اپنے بچے کو سکول سے نکالنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ انہیں ایسا کرنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب ان کا بچہ سکول سے نو ماہ کے لیے باہر رہا تو وہ سخت نا خوش اور پر تشدد رجحانات کا شکار ہوگیا۔

 سکولوں میں وسائل کی کمی کے باعث کچھ خاندانوں کی جانب سے بچوں کی نگہداشت کے لیے ہوم سکولنگ یعنی گھر پر تعلیم کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے، کچھ کیسز میں والدین کی جانب سے بچوں کا خیال رکھنے کے لیے اپنا کرئیر ختم کرکے گھر بیٹھنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

لورا بیریل ابھی تک انتظار میں ہیں کہ ان کا بیٹا جو ایسپرگر کا شکار ہے وہ گھر پر دو سال گزارنے کے بعد سپیشلسٹ کالج میں اپنی تعلیم دوبارہ شروع کر سکے۔ اسکول سے باہر اسکی دماغی صحت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’وہ بہت کمزور ہو گیا ہے، اس نے نہانے اور دانت صاف کرنے سے انکار کر دیا، اس نے بات چیت چھوڑ دی، یہ کسی کو بھی ڈپریس کر سکتا ہے، خاص طور پر اس کو جو اس کا شکار ہو۔‘

نیشنل ایجوکیشن یونین کے مطابق ایک قانونی دستاویز میں سامنے آیا ہے کہ ایجوکیشن ہیلتھ کئیر پلان میں بچوں کی تعداد دو لاکھ چالیس ہزار سے بڑھ کر تین لاکھ بیس ہزار ہو چکی ہے، یہ 2015 سے اب تک ایک تہائی اضافہ ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں بجٹ میں ہونے والا اضافہ صرف چھ فیصد ہے، متعلقہ بجٹ پانچ اعشاریہ چھ ارب پاؤنڈز سے چھ ارب ہو چکا ہے۔

یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب ہزاروں کی تعداد میں نیشنل ایجوکیشن یونین کے اہلکاروں کی جانب سے بجٹ میں کٹوتی کے خلاف بروز منگل لیورپول میں قومی سطح کے مظاہرے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

نیشنل ایجوکیشن یونین کے جوائنٹ جنرل سیکرٹری کیون کورٹنی نے کہا ہے کہ کئی کونسلز اس وقت دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں کیونکہ سپیشل بچوں کی فلاح و بہبود والے سرکاری پروگرام کے فنڈز ناکافی ہیں۔

انہوں نے کہا: ’ہمارے لاچار بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم  کے معاملے کو حل نہ کرنا ایک ظالمانہ عمل ہے، یہ مسئلہ ہزاروں خاندانوں کے لیے شدید پریشانی اور مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ مقامی کونسلز کو فنڈز کی عدم فراہمی بچوں کے لیے بہت سنگین نتائج  کا باعث بن سکتی ہے، اور کچھ بچے تو کئی برس سے سکولوں سے باہر ہیں۔‘ 

لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹ کی رکن اور شیڈو ایجوکیشن سیکرٹری اینجیلا رینر کہتی ہیں: ’ٹوریز کی جانب سے تعلیم کا بجٹ کم کرنے کی وجہ سے لاچار بچے اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ افسوسناک ہے کہ بچوں کو اسکولوں سے باہر رہنا پڑ رہا ہے۔‘

لوکل گورنمنٹ اسوسییشن کے چلڈرن اینڈ ینگ پیپل بورڈ کی چیر انیٹونیٹ بریمبل کہتی ہیں کہ کونسلز اس جگہ پہنچ چکی ہیں جہاں بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ان کے پاس مطلوبہ رقم موجود نہیں۔‘

ایل جی اے کی جانب سے حکومت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اگلے مالی ریویو سے پہلے بجٹ میں ایک اعشاریہ چھ ارب پاؤنڈز کا اضافہ یقینی کیا جائے تاکہ مطلوبہ رقم کی فراہمی کو پورا کیا جا سکے۔

وزیر برائے اطفال و خاندان ناظم زہاوی کہتے ہیں: ’ہم نے مختص بجٹ میں اضافہ کیا ہے، بجٹ پانچ ارب پاؤنڈز سے چھ اعشاریہ تین ارب پاؤنڈز تک جا چکا ہے، ایسا کہنا غلط ہوگا کہ ہم نے بجٹ نہیں بڑھایا۔ ہم بڑھتے ہوئے چیلنجز کا ادراک رکھتے ہیں اور ہم نے 2020 تک 25 کڑوڑ پاؤنڈز کی اضافی رقم انہیں بڑھتی ضرورتوں کو مد نظر رکھ کر  فراہم کی ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’ہم نے سپیشل بچوں کے  پروگرام میں سو ملین پاؤنڈز کی اضافی رقم لوکل کونسلز کو دی ہے کہ وہ مزید اسکولوں، کالجز اور اسپیشل اسکولوں کا قیام عمل میں لا سکیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ