بیانیے اور بیان کا اختلاف

بلاول بھٹو کے اس معنی خیز بیان نے بہرحال مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کو مشکل میں ضرور ڈال دیا ہے۔

لگتا ہے بے نظیر بھٹو کے فرزند اور آصف زرداری کے سپوت نے خوب سیکھ لیا ہے کہ ایک تیر سے دو شکار کب اور کیسے کرنے ہیں (اے ایف پی)

بہت معنی خیز اور گہرا بیان دیا ہے بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان انتخابات سے قبل اور اپنی طوفانی الیکشن مہم کے دوران۔

اب ن لیگ و حواری جتنا مرضی اس بیان کی از خود اور غیر ضروری وضاحتیں دیتے پھریں بلاول بھٹو نے بات تو واضح کر دی ہے کہ جب اسلام آباد آل پارٹیز کانفرنس میں پی ڈی ایم کی بنیاد رکھی جا رہی تھی تب (نواز شریف مریم نوازسمیت) سب کی اکثریتی رائے سے یہ فیصلہ ہوا تھا کہ 2018 الیکشن کی دھاندلی کا الزام کسی ایک ادارے پر نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کو مجموعی طور پر ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔

یہی وجہ ہے کہ گوجرانوالہ جلسے کی نسبت اے پی سی میں نواز شریف کی تقریر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی پر براہِ راست الزامات سے عاری تھی۔ لیکن یہ بھی یاد رکھیے کہ اے پی سی اور گوجرانوالہ جلسے کے درمیان بظاہر اور پسِ پردہ کئی عوامل اور کارروائیاں راستے کا پتھر بھی بنی تھیں۔

اے پی سی کے چند ہی دن بعد خبر لیک ہوئی تھی اپوزیشن رہنماؤں کی عسکری قیادت سے ملاقات کی جس کی مخالفت کی تھی مریم نواز نے اور نتیجتاً ان کے مرنجاں مرنج ٹائپ کے ترجمان محمد زبیر کی خفیہ ملاقاتوں کی خبر بھی سامنے آگئی تھی۔

بہر حال بلاول بھٹو کا یہ بیان خود کسی شاک یا دھچکے سے کم نہیں خاص طور پر ن لیگ کے لیے۔ لگتا ہے بے نظیر بھٹو کے فرزند اور آصف زرداری کے سپوت نے خوب سیکھ لیا ہے کہ ایک تیر سے دو شکار کب اور کیسے کرنے ہیں۔

کٹہرے میں کھڑی کر دی گئی ہے اب ن لیگ جس سے سوال تو ہوں گے کہ (1) حضورِ والا کیا ہیں وہ ثبوت جن کے ذریعے آپ نے براہِ راست فوج اور آئی ایس آئی سربراہ کا نام لیتے ہوئے الزام لگائے؟ (2) اگرچہ بلاول بھٹو نے واضح کر دیا کہ نواز شریف کی اپنی پارٹی پالیسی ہے کہ وہ کس قسم کا خطاب کریں یا کیسی حکمتِ عملی اختیار کریں لیکن پبلک کے سامنے ن لیگ کو جوابدہ ضرور بنا دیا گیا ہے۔ اب جن پر الزام لگایا گیا ہے ان سے پہلے الزام لگانے والے سے پوچھا جائے گا کہ بتایے آپ کے پاس ثبوت کہاں ہیں؟

(3) ساتھ ہی بلاول بھٹو نے بہت خوبصورتی کے ساتھ سیاسی چال چلی کہ انہیں امید ہے کہ تین بار کے منتخب وزیراعظم کے پاس ثبوت ضرور ہوں گے۔ ساتھ ہی اپنی مثال بھی دی کہ جب پیپلز پارٹی نے دورانِ الیکشن (2018) حاضر سروس افسران کے دھاندلی میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا تو جماعت کے پاس ٹھوس ثبوت موجود تھے (4) بلاول بھٹو کے بیان کے بعد مسلم لیگ ن پر عوامی دباؤ بڑھے گا کہ وہ اس سوال کا جواب بھی دے کہ جب آل پارٹیز کانفرنس میں فیصلہ ہوا تھا کہ کسی ادارے کے نام الزام عائد نہیں کیا جائے گا تو پھر گوجرانوالہ جلسے میں جن وجوہات کی بنا پر براہ راست الزامات عائد کیے گئے اور وہ بھی پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے...

(5) یہی بات بلاول بھٹو نے اپنے بیان میں بھی کہی کہ وہ سمجھتے ہیں کسی ایک شخص پر الزام یا کسی ایک شخص کا نام... (نہیں لینا چاہیے) اگر آپ انٹرویو کو غور سے دیکھیں تو اِس مخصوص جملے پر بلاول بھٹو بات کو مہارت سے سیاسی انداز میں گول مول کر جاتے ہیں گویا وہ ن لیگ (اور پی ڈی ایم) کو اب مزید اور مشکل میں بھی نہیں ڈالنا چاہتے لیکن ریکارڈ کی درستی کی نشاندہی بھی بار بار باور کرانا چاہتے ہیں (6) بلاول بھٹو کے بیان کا انتہائی اہم حصہ وہ ہے جہاں وہ کہتے ہیں کہ (گوجرانوالہ جلسے میں) نواز شریف کی طرف سے (آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کا) نام لے کر الزام لگانے سے انہیں ’شاک پہنچا‘ یا دھچکا لگا۔

اب اس بیان کا صاف صاف مطلب ہے کہ بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے بیانیے سے اختلاف رکھتے ہیں گویا پی ڈی ایم کے اندر نظریاتی طور پر (اگر دراڑ نہ سہی) خلیج تو بہرحال موجود ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ نہ صرف بلاول بھٹو کے اِس بیان بلکہ آل پارٹیز کانفرنس سے سامنے آنے والی خبر کہ استعفوں کے معاملے پر بلاول بھٹو نے نواز شریف کو کیا جواب دیا تھا؛ سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بعد کے حالات و واقعات اس کے مزید گواہ ہیں مثلاً پی ڈی ایم جلسوں میں پیپلز پارٹی کی نسبتاً قابلِ برداشت تقاریر جن کا سافٹ ٹارگٹ وزیراعظم عمران خان ہی رہے ہیں۔ خواجہ آصف کا بیان اور آصف زرداری کا جوابی بیان بھی کھُلا اور واضح ثبوت ہے کہ پی ڈی ایم کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں بہرحال اعتماد کی کمی اور ایک اَن کہی خلیج البتہ برقرار ہے۔

بلاول بھٹو کے اس معنی خیز بیان نے بہرحال مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کو مشکل میں ضرور ڈال دیا ہے۔ بظاہر تو ن لیگ بلاول بھٹو کے بیان کے بعد اپنے واسطے اپنے طور پر فائر فائٹنگ اور ڈیمج کنٹرول میں لگی ہوئی ہے اور ان غیر ضروری باتوں کی بھی وضاحت دے رہی ہے کہ جن کا ذکر سارے فسانے میں کہیں نہیں۔ بلاول بھٹو البتہ کافی حد تک سیاسی باشعوری اور سمجھداری کا ثبوت دے رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کی اپنی طوفانی الیکشن مہم کے دوران ان کے اس ہنگامہ خیز بیان کو آئی ایس آئی میس میں ہوئی ملاقات کے تناظر میں دیکھنا بھی سیاست کے طالب علموں کے لیے انتہائی دلچسپ ہوگا جس ملاقات میں گلگت بلتستان کے انتخابات اور فوج کے کردار پر کھُل کر تفصیلی گفتگو ہوئی تھی۔

اسی کے ساتھ اس حقیقت کو بھی مدِ نظر رکھیے کہ زمینی حقائق اور سردوں کے مطابق گلگت بلتستان الیکشن میں پیپلز پارٹی فیورٹ ہی نہیں ہاٹ فیورٹ ہے۔ گذشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ گلگت بلتستان میں بھی اگر پیپلزپارٹی حکومت بنا لیتی ہے تو پھر استعفوں اور سندھ اسمبلی توڑنے کو حقیقت دور است ہی گردانا جائے گا۔

نظریاتی ہونے کے ساتھ ساتھ آج کی پیپلزپارٹی حقیقت پسند جماعت بھی ہے اور پاکستان کے سیاسی زمینی حقائق کو پی پی سے بہتر فیالحال پی ڈی ایم کی کوئی اور جماعت نہیں سمجھ پا رہی یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی ایک ایسی جماعت کا بھرپور تاثر اور پیغام دے رہی ہے جو نظریاتی اور با اصول تو ہے لیکن سخت گیر اور ناممکن نہیں اور مستقبل میں جس کا وزیراعظم تمام ملکی اداروں کی توقیر اور انہیں ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتا ہو۔

فی الحال تو پیپلزپارٹی کا تیر ٹھیک ٹھیک نشانے پر بیٹھا ہے؛ رہ گئی مسلم لیگ (ن) تو ان کے لیے تیر کمان سے نکل چکا اور تا حکمِ ثانی خلاؤں میں ہی بھٹک رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر