مسلم اور دیگر ایپس کا ڈیٹا امریکی فوج کو فروخت کیا گیا: رپورٹ

ایک رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کے لیے نماز اور قرآن کی ایپ، مسلم ڈیٹنگ ایپ، اور طوفانوں کی اطلاع دینے والی ایپ سمیت کئی ایپس سے حاصل کردہ ڈیٹا امریکی فوجی کنٹریکٹرز کو فروخت کر دیا گیا ہے۔

(اے ایف پی فائل)

ایک رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کے لیے نماز اور قرآن کی ایپ، مسلم ڈیٹنگ ایپ، اور طوفانوں کی اطلاع دینے والی ایپ سمیت کئی ایپس سے حاصل کردہ ڈیٹا امریکی فوجی کنٹریکٹرز کو فروخت کر دیا گیا ہے۔

’مدر بورڈ‘ نامی آن لائن میگزین میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق یہ ڈیٹا ایک کمپنی ایکس موڈ کے ذریعے اکٹھا کیا گیا تھا جو ایپس سے لوکیشن ڈیٹا حاصل کرتی ہے۔

یہ کمپنی ایپ تیار کرنے والوں کو اپنے سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ کٹ میں اپنی مصنوعات کو کوڈ کرنے کی اجازت دیتی ہے جو صارفین کی ایپ سے ان کی لوکیشن حاصل کرکے اسے ایکس- موڈ کو بھیج دیتا ہے جس کے بدلے اس کو صارفین کی تعداد کے مطابق ادائیگی کی جاتی ہے۔ روز کے 50 ہزار فعال صارفین کے بدلے ایک ڈیویلپر کو 1500 ڈالرز تک ادا کیے جاتے ہیں۔

ان ایپس سے یہ ڈیٹا ایکس موڈ کو بھیجا جاتا ہے جہاں سے مختلف گاہکوں کو بیچ دیا جاتا ہے جب میں سیرا نیواڈا کارپوریشن اور سسٹم اینڈ ٹیکنالوجی ری سرچ (ایس ٹی آر) بھی شامل ہے جسے ایکس موڈ کی ویب سائٹ پر ’قابل اعتماد پارٹنرز‘ میں شمار کیا گیا ہے۔

یہ ادارہ جنگی طیارے اور سائبر اور الیکٹرانک وار فئیر کی مصنوعات تیار کرتا ہے جب کہ ایکس موڈ انٹیلی جنس تجزیہ کاروں کو ’ڈیٹا اینالیٹکس‘ فروخت کرتا ہے۔

ایکس موڈ نے ’مدر بورڈ‘ کو بتایا کہ وہ ’سیرا نیواڈا یا ایس ٹی آر کے ساتھ کام نہیں کرتے‘ لیکن اس بات کی تردید نہیں کی کہ یہ اس کے سابقہ خریدار رہ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق امریکی سینیٹر رون وائڈن کی جانب سے کی جانے والی حالیہ تفتیش، جس کے دوران ’مدر بورڈ‘ بھی اس بارے میں معلومات حاصل کر رہا تھا، ایکس موڈ نے اپنے قابل اعتماد پارٹنرز کے پیج سے متعدد کمپنیوں کے نام ہٹا دیے جن میں سیرا نیواڈا کارپوریشن بھی شامل ہے۔

’دی انڈپینڈنٹ‘ نے سیرا نیواڈا کارپوریشن اور سسٹم اینڈ ٹیکنالوجی ری سرچ سے موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

ایکس موڈ کا کہنا ہے کہ ’ایکس موڈ نے اپنے ڈیٹا پینل تک رسائی بہت کم تعداد میں ٹیکنالوجی کمپنیز کو دے رکھی ہے جو حکومت کی فوجی سروسز کے لیے کام کر سکتی ہیں لیکن ہمارا ان کمپنیز کے ساتھ کام بین الااقوامی اور ملکی طور پر تین قسم کے صارفین پر مرکوز ہے جن میں انسداد دہشت گردی، سائبر سکیورٹی اور مستقبل کے کووڈ 19 ہاٹ سپاٹ کو روکنا شامل ہے۔‘

ایکس موڈ کے سافٹ وئیر ڈی ویلپر کٹ (ایس ڈی کے) میں اس وقت 400 ایپس شامل ہیں جن میں مسلم پرو، ڈیٹنگ ایپ مسلم منگل، سٹیپ کاؤنٹنگ ایپ دی ایکوپیڈو،  سی پلس فار کریگلسٹ، ببل لیول، اور گلوبل سٹرومز نامی ایپ شامل ہے جو طوفانوں سے متعلق معلومات فراہم کرتی ہے۔

ایپ ڈی ویلپر فرم موبز ایپ کے سی ای او نکولس ڈیڈوش کا کہنا ہے کہ ’مجھے اس بارے میں علم نہیں تھا کہ ایکس موڈ یہ ڈیٹا فوجی کنٹریکٹرز کو فروخت کر رہی تھی۔ میں اس بارے میں آگاہ نہیں ہو سکتا تھا کہ ایکس موڈ فوجی کنٹریکٹرز کے ساتھ کم کر رہی ہے اگر وہ اس بارے میں واضح طور پر اعلان نہ کرتے۔‘

ببل لیول نامی ایپ تیار کرنے والے ڈی ویلپر انتونی وائنے کا کہنا ہے:  ’بطور ایپ ڈی ویلپر میں اس بارے میں خیال رکھتا ہوں کہ میں کس سے معاہدہ کر رہا ہوں۔‘

لیکن ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ سیرا نیواڈا کارپوریشن اور سسٹم اینڈ ٹیکنالوجی ری سرچ پارٹنر تھے۔

سی پلس فار کریگلسٹ ایپ کے ڈی ویلپر یان فلیکس بھی نہیں جانتے تھے کہ ایکس موڈ فوجی کنٹریکٹرز کے ساتھ کام کر رہی تھی۔

سٹیپ ٹریکنگ ایپ ایکوپیڈو کا کہنا ہے: ’ہم اپنے پارٹنرز کے بارے میں کھلے عام بات نہیں کرتے۔ اگر آپ ایکس موڈ کے ساتھ ہمارے تعلق میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ ان سے براہ راست بات کر سکتے ہیں۔‘

گلوبل سٹرومز ایپ تیار کرنے والی فرم کیلی ٹیکنالوجیز کے چیف ڈی ویلپر اور صدر نیل کیلی کا کہنا ہے کہ ’ہم ایکس موڈ کی جانب سے صارفین کا لوکیشن ڈیٹا استعمال کرنے کے طریقے سے مطمئن ہیں۔‘

اطلاعات کے مطابق مسلم پرو نے بھی ’مدر بورڈ‘ کی جانب سے موقف دینے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

جب ’دی انڈپینڈنٹ‘ کی جانب سے رابطہ کیا گیا تو مسلم پرو نے یہ جواب دیا: ’16 نومبر 2020 کو وائس میڈیا نے رپورٹ کیا کہ مسلم پرو اپنے صارفین کا ڈیٹا امریکہ کے فوجی کنٹریکٹرز کو فروخت کر رہی ہے۔ یہ بے بنیاد اور غلط ہے۔ ہمارے صارفین کی نجی زندگی اور معلومات کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ گذشتہ دس سال میں ایک قابل اعتماد ایپ کے طور پر ہم سخت پرائیویسی کے اصولوں اور قوانین کو برقرار رکھتے ہیں اور کبھی بھی ذاتی نوعیت کی معلومات شئیر نہیں کرتے۔ جب سے ہم اس صورت حال سے آگاہ ہوئے ہیں ہم نے ایک اندرونی تحقیق کا اغاز کر دیا ہے اور اپنی ڈیٹا گورننس پالیسی پر نظر ثانی کر رہے ہیں تاکہ ہم اپنے تمام صارفین کو یقین دلا سکیں کہ ان کی معلومات درکار شرائط کے مطابق ہینڈل کی جا رہی ہیں۔ اس کے باوجود کے لاکھوں لوگوں مسلم پرو پر روزانہ کی بنیاد پر اعتبار کرتے ہیں، ہم ایکس موڈ کے ساتھ اپنا تعلق فوری طور پر ختم کر رہے ہیں جو ایک ماہ قبل شروع کیا گیا تھا۔ ہم ہر کوشش کریں گے کہ ہمارے صارفین سکون اور تسلی کے ساتھ اپنے عقیدے پر عمل کر سکیں جو کہ مسلم پرو کی تخلیق سے ہی ہمارا واحد مقصد رہا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کچھ ایپس کی پرائیویسی پالیسی بشمول ایکس موڈ کی پالیسی میں اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کمپنی صارفین کا لوکیشن ڈیٹا ’حادثات سے بچاؤ اور تحقیق، سکیورٹی، انسداد جرائم اور قانون کی عملداری‘ کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ باقی ایپس میں لوکیشن ڈیٹا کی فراہمی کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا لیکن ’مدر بورڈ‘ کی رپورٹ کے بعد رضامندی کے خانے میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

اب کئی صارفین کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ ان کی ڈیٹا لوکیشن فوجی مقاصد کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ ایکس موڈ کا کہنا ہے کہ اس کی پارٹنر ایپس پر یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ ڈیٹا پروٹیکشن قوانین پر عمل کرتے ہوئے صارفین کی رضامندی حاصل کریں۔

ایکس موڈ جیسی کمپنیز سے ڈیٹا حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی فوج خاص طور پر یو ایس سپیشل آپریشنز کمانڈ (یو ایس ایس او کوم) نے بابل سٹریٹ نامی کمپنی کی تیار کردہ ڈیٹا لوکیشن ایپ لوکیٹ ایکس سے بھی ڈیٹا خریدا ہے۔

لوکیٹ ایکس صارفین کو نقشوں کے اوپر نشانات لگانے کی سہولت دیتی ہے اور کسی خاص مقام پر موجود تمام ڈیوائسز جن کی تفصیلات بابل سٹریٹ کے پاس موجود ہیں کو دیکھنے کی اجازت دیتی ہے جب کہ کسی مخصوص ڈیوائس کی نگرانی بھی کر سکتی ہے۔

لوکیٹ ایکس جو کہ شناخت ظاہر نہیں کرتی لیکن ’مدر بورڈ‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ کمپنی ’کسی شخص کی شناخت کو مکمل طور پر ظاہر‘ کر سکتی ہے اور بابل سٹریٹ کے ملازمین ’حقیقی طور پر اس کے ساتھ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔‘

’دی انڈپینڈنٹ’ نے اس بارے موقف لینے کے لیے بابل سٹریٹ سے رابطہ کیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی