کرونا وائرس اور ریاض کا ’ورلڈ سمٹ‘

جی ٹوئنٹی سمٹ سے خادم الحرمين الشريفين شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا خطاب یقین دہانیوں کا ایک عالمی دستاویز تھا۔

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان ورچوئل اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی)

چند ماہ پہلے تک دنیا جان لیوا بیماریوں کو قصہ پارینہ سمجھ کر بھول چکی تھی، لیکن کرونا (کورونا) وائرس کی عالمی وبا نے ایک مرتبہ پھر پورے ’عالمی گاؤں‘ کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ دل دہلا دینے والی اموات اور کرونا وائرس کے لمحہ بہ لمحہ بڑھتے ہوئے کیسز کے سامنے انسانیت سانس روکے کھڑی ہے۔

ملکوں کے ملک چٹ ہوتے جا رہے ہیں۔ مہلک وائرس نے دنیا کی معیشت کا دیوالیہ نکال کر وہاں سپلائی چینز تہہ و بالا کر دیں۔ فیکٹریوں پر تالے، ہوائی اڈے ویران اور ٹرینیں جام کروا دیں۔ کرونا وائرس کے ہاتھوں سیاحت کی بساط لپیٹی جا چکی ہے۔ ہوٹلوں، ریستورانوں اور بازاروں سے زندگی کے آثار محو ہونا روزمرہ کا معمول بنتا جا رہا ہے۔

کرونا وائرس کروڑوں انسانوں کو بے روزگاری کی جنہم میں دھکیل کر لاتعداد کمپنیوں کو دیوالیہ کر چکا ہے۔ اس جان لیوا وائرس نے خوشحال لوگوں کو غریب بنا کر انہیں اپنے چہرے پر نمایاں خوف اور بے چینی کو ماسک میں چھپانے پر مجبور کر دیا۔ یہی نہیں، بلکہ مہلک وائرس کی مار سے ہستپال اور طبی عملہ بھی پناہ مانگتے دکھائی دے رہے ہیں، حتی کہ کھیت، کھلیاں اور تعلیم کا شعبہ بھی کرونا کی حشر سامانیوں سے محفوظ نہ رہ سکا۔

یہ تحریر آپ مصنف کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

دنیا کسی عالمی وبا کا پہلی مرتبہ سامنا نہیں کر رہی۔ تاہم پہلے وبائی حملوں کے وقت انسان سائنسی ترقی سے لیس نہیں تھا۔ آج سائنسی ترقی کی تمام منازل طے کرنے کے باوجود دنیا خوف کا شکار ہے۔ گذشتہ چند مہینوں سے مایوسی انسانوں کے دل اور دماغ میں گھر کر چکی ہے۔ دنیا، کووڈ 19 کے شکنجے میں بری طرح پھنس چکی ہے۔

ان حالات میں انسانیت امید کی کرن کے لیے ترس رہی ہے۔ جاں بلب دنیا کو ہلاکت خیر وائرس کے تریاق [ویکسین] کا بے چینی سے انتظار ہے تاکہ یہ سب کو میسر ہو سکے۔ کرہ ارض پر بسنے والوں کے معاشی دلدر دور ہو سکیں۔ ایسی بحرانی کیفیت میں سیاسی اور معاشی اعتبار سے دنیا کی قیادت کرنے والے گروپ ٹوئنٹی کا تاریخی اجلاس سعودی عرب میں منعقد ہوا۔ مشرق وسطیٰ اور بالخصوص مملکت سعودی عرب میں اتنے بڑے پیمانے پر منعقد ہونے والا یہ پہلا عالمی سمٹ تھا۔

اس سمٹ کی میزبانی کا اعزاز دارالحکومت ریاض کو حاصل ہوا، جہاں خواہش کھلی آنکھوں سے مستقبل کے افکار کی نمو دیکھتی ہے۔ جہاں قدیم اور جدید تاریخ کی حسین امتزاج سعودی ویژن 2030 عرب، اسلامی اور بین الاقوامی دنیا کی نظروں کو خیرہ کرتی دکھائی دیتی ہے۔

دارلحکومت ریاض میں ہونے والے [ورچوئل] G 20 سمٹ سے مملکت کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا خطاب یقین دہانیوں کی ایک عالمی دستاویز سے کم نہ تھا۔ ان کی تقریر کے اختتامی جملے نے دنیا بھر کے لوگوں کے دلوں میں امید کی جوت جگا دی جس میں خادم الحرمين الشريفين شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ’ویکسین کی منصفانہ تقسیم اور رسائی‘ پر شد ومد سے اصرار کیا۔ انہوں نے وبا سے پیدا ہونے والے معاشی مسائل کا عالمی سمٹ کے شرکا کو مل کر مقابلہ کرنے کی بھی ضرورت پر زور دیا۔

شاہ سلمان نے دنیا کے ساتھ مل کر عالمی وبا کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے معیشت کی بحالی اور مستقبل میں ایسی ہنگامی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ ان کی ورلڈ سمٹ سے تقریر سعودی عرب  اور اس کے عالمی اتحادیوں کے لئے نقشہ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ شاہ سلمان کے پر مغز خطاب نے 2021 کو اٹلی اور 2022 کو بھارت میں ہونے والے G 20 سمٹ کی سمت بھی متعین کر دی۔

سعودی فرمانروا نے اپنی تقریر میں عالمی وباء سے نمٹنے کے ساتھ ایسے اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا جن سے پائیدار معیشت کا حصول اور قابل تجدید کاربن معیشت کا فروغ ممکن بنایا جا سکے۔ سعودی عرب قابل تجدید کاربن معیشت کے ذریعے شفاف، پائیدار اور سستی توانائی کا ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مملکت کا شمار دنیا کے ان نمایاں ملکوں میں ہوتا ہے جہاں فضا میں کاربن کے اخراج کی شرح انتہائی کم ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سعودی عرب نے قابل تجدید کاربن معیشت کے نظریہ پر خود عمل کرتے ہوئے اسے قابل عمل مقدس حقیقت کے طور پر G 20 سمٹ کے سامنے پیش کیا تاکہ معاشی نظام میں پائیداری کو زیادہ یقینی بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سعودی عرب زندگی کے تمام شعبوں میں کم سے کم کاربن کے اخراج کا ہدف حاصل کرنا چاہتا ہے۔

دنیا کے فائدے اور بہتر کارکردگی کی خاطر سعودی عرب توانائی کے نئے منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ مملکت کے پاس کاربن کے حصول، محفوظ بنانے اور استعمال کے سب سے بڑے پلانٹس موجود ہیں۔ ان کی مدد سے سعودی عرب سالانہ نصف ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ سے کھاد اور میتھانول جیسی مفید چیزیں بناتا ہے۔

ریاض میں ہونے والا جی ٹوئنٹی سمٹ سعودی عرب کی جانب سے مسلم اور عرب دنیا کو پیش کیا جانے والے منفرد تحفہ ہے۔ اس سمٹ کا اہتمام کرنے والی قیادت اور ملک دنیا کے مفادات کا تحفظ کرنے کا داعیہ رکھتا ہے۔ سعودی عرب دوسرے ملکوں کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے افراتفری اور دہشت گردی سے بیزاری کا اظہار کرتا ہے۔

جی ٹوئنٹی سمٹ تاریخ کے ایسے اہم دوراہے پر منعقد ہوا جب دنیا میں بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ سعودی عرب کا عظیم اتحادی ۔ امریکا ۔ نئے جمہوری دور میں داخلے کے لیے پرتول رہا ہے جس میں سیاسی پنڈتوں کے بقول دونوں ملکوں کا اتحاد ترقی کی نئی منزلیں طے کرے گا۔

اس سمٹ کے جلو میں یورپی ملکوں کے اندر الاخوان المسلمون، سیاسی اسلام اور اس سے منسلک مذہبی تشدد سے دو دو ہاتھ کرنے والی عدیم النظیر تحریک بھی سر اٹھاتی دکھائی دے رہی ہے۔ تاریخ میں پہلی بار کچھ یورپی ملکوں نے ان گروپوں سے متعلق خطرے کی نشاندہی کی ہے۔ کئی دہائیوں سے یہ تنظیمیں اپنے اس ’پوٹینشل‘ کو اسلامی اور عرب ملکوں کو دباؤ میں لانے کے لیے استعمال کرتی چلی آئی ہیں۔

سابق امریکی صدر براک اوباما نے ان گروپوں کو کئی عرب ملکوں میں اقتدار تک پہنچنے میں کھلے عام مدد کی، تاہم کئی عرب ملکوں کی جانب سے سیاسی اسلام کی پیش رفت روکنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات سیاسی مںظر نامے پر انمٹ نقوش چھوڑ رہے ہیں۔

دنیا نے ماضی میں محاذ آرائی کے ڈر سے سیاسی اسلام سے متعلق معذرت خواہانہ رویے اختیار کیے رکھا، تاہم اب سعودی عرب سمیت کئی دیگر عرب ملک اس ’’عفریت‘‘ کے خلاف خم ٹھونک کر میدان میں آ گئے ہیں۔ اس امید افزا پیش رفت کے بعد یہی کہا جا سکتا ہے کہ ریاض میں ہونے والا ورلڈ سمٹ تمام حوالوں سے تاریخی پیش رفت تھی جس کے نتائج آنے والے دور میں طویل مدت تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ