آج ہم خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کا دن منا رہے ہیں

ملک میں جنسی زیادتی کا کوئی واقعہ ہو جائے، اگلے ہی روز ہر گلی میں جوڈو کراٹے کلب کھل جاتے ہیں۔ ہم نے آج تک نہیں سنا کہ کسی نے مردوں کو انسانیت سکھانے کا کورس شروع کیا ہو۔

(اے ایف پی)

آج دنیا بھر میں خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کا دن منایا جا رہا ہے۔ ہر سال اس دن کا ایک خاص موضوع ہوتا ہے۔ اس سال کا موضوع ’شیڈو پینڈیمک‘ (Shadow Pandemic) ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق کرونا کی عالمی وبا کے دوران دنیا بھر میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں ایسے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، مگر ہمارے ہاں خواتین پر جتنا بھی ظلم ہو، ہم اسے ہمیشہ ہلکا ہی لیا جاتا ہے، اب بھی لیا جا رہا ہے۔

ایک مفتی صاحب کی سنیے۔ یو ٹیوب کی دنیا کا ایک بڑا نام ہیں۔ روزانہ اپنی مسجد میں بیان دیتے ہیں، شام کو وہی بیان یوٹیوب پر اپ لوڈ کر دیتے ہیں۔ ایک دن ان کا ایک بیان یونہی ہمارے سامنے آ گیا۔ بٹن دبا دیا۔ مفتی صاحب شروع ہو گئے اور ایسا شروع ہوئے کہ صبح سے شام ہو گئی، ایک ویڈیو کے بعد دوسری ویڈیو اور دوسری کے بعد تیسری اور اس کے بعد اس سے اگلی ویڈیو چلتی رہی۔

ہر ویڈیو دیکھنےکے بعد ہم پر انسانی معاشرت کے ایسے ایسے راز افشا ہوئے جو اس سے پہلے کسی کے وہم و گمان سے بھی نہیں گزرے ہوں گے۔ ایک ویڈیو میں فرمانے لگے خدا نے مرد کو تھوڑا سا بد اخلاق بنایا ہے۔ عورت سے بدتمیزی کرنا اس کی فطرت میں شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی سامعین کو خبردار بھی کر دیا کہ ایسا کرنا نہیں چاہیے۔ نبی کی سنت پر عمل کرنا چاہیے جو اخلاق کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ اگر ایسا نہ کر سکیں تو گھبرائیں مت۔ یہ آپ کی فطرت ہے اور فطرت سے پھرنا اس دنیا کا سب سے برا کام ہے۔ ویڈیو کا لبِ لباب یہ تھا کہ عورت مرد کا برا رویہ برداشت کر لیا کرے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہاں سے عورت کے خلاف تشدد کا آغاز ہوتا ہے۔ عورت کو تو امہات المومنین اور صحابیہ کی مثالیں دے کر بالکل ان جیسی بننے کی تلقین کی جاتی ہے جبکہ مردوں کے لیے سنتِ نبوی کی پیروی کرنے نہ کرنے میں بھی قدرت کا فالٹ کہہ کر گنجائش نکال لی جاتی ہے۔ ایسے بیانات خواتین کے خلاف تشدد والے رویوں کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کی حوصلہ شکنی ہر سطح اور ہر فورم پر کی جانی چاہئیے۔

خواتین کے خلاف تشدد کی بات ہو اور آگے سے ’مردوں پر بھی ظلم ہوتا ہے‘ سنائی نہ دے، یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ آخر ہم ایک پدر شاہی معاشرے میں رہتے ہیں اور ایسے معاشروں میں خواتین کے حق کے لیے اٹھائی جانے والی آوازیں ایسے ہی نکات اٹھا کر دبائی جاتی ہیں۔ سماجیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ظلم کا تعلق طاقت کے عدم توازن سے ہوتا ہے۔ طاقت ور اپنے سے کمزور کا استحصال کرے گا۔ پدر شاہی معاشرے کی عورت مرد کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی کیونکہ اس کے پاس اتنی طاقت ہی نہیں ہوتی۔

پچھلے دنوں ایک اور صاحب کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھٹکتی پھر رہی تھی۔ صاحب شکوہ کر رہے تھے کہ ہمارے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لڑکیوں کو اچھی بیوی اور اچھی ماں بننے کی تربیت نہیں دی جاتی۔ صاحب شاید بھول گئے کہ ہمارے ہاں لڑکیوں کو اردو کا قاعدہ بعد میں اور بہشتی زیور پہلے پڑھایا جاتا ہے۔ جس لڑکی کی گھٹی میں بہشتی زیور پڑا ہو وہ بری بیوی یا ماں کیسے ہو سکتی ہے؟

ہماری رائے میں انہیں لڑکوں کے لیے اچھے انسان، اچھے بیٹے، اچھے بھائی، اچھے شوہر، اچھے کولیگ، اچھے دوست اور سڑک کنارے کھڑے اچھے آدمی بننے کی تربیت کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ ہمارے معاشرے میں اچھی بیویاں اور اچھی مائیں تو بہت مل جاتی ہیں، اچھے مرد کم ہی نظر آتے ہیں۔  

ملک میں جنسی زیادتی کا کوئی واقعہ ہو جائے، اگلے ہی روز ہر گلی میں جوڈو کراٹے کلب کھل جاتے ہیں۔ ہم نے آج تک نہیں سنا کہ کسی نے مردوں کو انسانیت سکھانے کا کورس شروع کیا ہو۔ جب تک ہم اپنی توجہ صرف خواتین کو مضبوط بنانے پر مرکوز رکھیں گے اور مردوں کو ان کے قدرتی فالٹ کی آڑ میں اپنے حال پر چھوڑ دیں گے تب تک یہ معاشرہ تبدیل نہیں ہوگا۔ عورتیں گھر کے بایر تو کراٹے آزما لیں گی پر گھر کے اندر شوہر نامدار کا تھپڑ اپنے گال پر پڑنے سے نہیں روک سکیں گی۔ ہم ایسے شوہروں کے لیے تربیتی کورسز کے اجرا کا مطالبہ کرتے ہیں۔

آج سے دنیا بھر میں جنس کی بنیاد پر تشدد اور اس سے منسلک مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے 16 روزہ مہم کا بھی آغاز ہو رہا ہے۔ اس مہم کو ’سکسٹین ڈیز آف ایکٹیوزم‘ کہا جاتا ہے۔ اس مہم کا خاتمہ دس دسمبر کو ہوتا ہے جو انسانی حقوق کا عالمی دن ہے۔ یہ اپنے آپ میں ایک نکتہ ہے تاکہ دنیا خواتین کو بھی انسان سمجھے اور انہیں وہ تمام حقوق دے جو انسانوں کو ملتے ہیں۔ ہم تو پتہ نہیں عورتوں کو انسان بھی سمجھتے ہیں یا نہیں۔

ان 16 دنوں میں ایک کریش کورس کریں، سب سے پہلے تو بغیر کسی تعصب کے اپنا جائزہ لیں۔ اپنے اردگرد موجود خواتین کے ساتھ اپنا رویہ دیکھیں، کچھ غلط محسوس ہو تو اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کریں، اب چاہے وہ ان سے نرم لہجے میں بات کرنا ہی کیوں نہ ہو۔ آپ کا ایک چھوٹا سا قدم ان کی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی لا سکتا ہے اور یقین مانیں وہ اس سے زیادہ کچھ چاہتی بھی نہیں ہیں۔  

   

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ