معلومات کی جنگ اور ہماری کاوشیں

ہم بھارت کے ساتھ کرتار پور راہداری بناتے ہیں اور ملک میں صحافیوں کے راستے بند کرتے ہیں۔ پھر جب سرحد کے پار سے اصل نیت سامنے آتی ہے تو اپنے صحافیوں کو طعنے دیتے ہیں کہ وہ عوام تک یہ حقائق کیوں نہیں پہنچاتے۔

(اے ایف پی)

جب سے بھارت کا معلومات کے ذریعے دنیا کو گمراہ کرنے کا نیٹ ورک سامنے آیا ہے تب سے پاکستان کے اہم حلقوں میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ معاملہ انتہائی سنجیدہ بھی ہے اور قابل فکر بھی۔

سینکڑوں کی تعداد میں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، ویب سائٹس، درجنوں فرضی تحقیقاتی ادارے و صحافی جھوٹے اور پروپیگینڈا سے بھری ہوئی مہم چلا کر پاکستان، چین اور بھارت کے دوسرے اہداف کے بارے میں منفی تصور سالوں سے قائم کر رہے تھے۔ اس مزموم کاوش میں انہوں نے مستند معلومات و اطلاعات کے اداروں کے نام استعمال کیے اور یورپی یونین کے لیٹرہیڈ کو چرا کر اس کے ذریعے زہر اگلتے رہے۔

وسائل سے مالا مال اور لمبی چوڑی منصوبہ بندی کے ساتھ یہ تمام نیٹ ورک بھارت سے چلایا جا رہا تھا جس میں ریاست کے اداروں کی ہدایات کار فرما تھیں۔ یہ نیٹ ورک خوب چالاکی سے کام کرتا تھا۔ پہلے جھوٹی اور منفی خبریں جعلی اکاؤنٹس سے جاری کرتا جس کو بھارت کی سرکاری ایجنسی استعمال کر کے مختلف ویب سائٹس پر دوبارہ سے چھاپنے کا وسیلہ بنتی۔ ان ویب سائٹس اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بھارتی چینل اور اخبارات خبریں بناتے، تجزیے کرتے اور یوں پروپیگینڈے کا پہیہ مسلسل گھوم کر جھوٹے بیانات کی سچ کے طور پر نشر و اشاعت کرتا۔

حکومت پاکستان کی طرف سے قومی سلامتی کے مشیر اور وزیر خارجہ نے پریس کانفرنس کے ذریعے اس تمام دھندے کو بھارت کے لیے مزید شرمندگی کا باعث بنانے کا اہتمام کیا۔ میڈیا ٹاک شوز میں بھی بطور موضوع یہ خبر گرم ہے۔ مقتدر حلقوں کا خیال ہے کہ بالآخر ان کے ہاتھ میں ایسا مواد آ گیا ہے جس سے بھارت کے پاکستان کے خلاف پھیلائے جانے والے پروپیگینڈے سے پردہ اٹھ گیا ہے۔

بھارت کی اس تمام موضوع پر خاموشی اس نیٹ ورک کے عزائم کے بارے میں مزید تصدیق کا باعث بنتی ہے۔ ہم میں سے جو بھارتی پالیسیوں کو ایک طویل عرصے سے زیر غور رکھے ہوئے ہیں اس نیٹ ورک کی موجودگی اور کام کے بارے میں بننے والی خبروں پر قطعا حیران نہیں ہیں۔ یہ استعجاب ضرور ہوا کہ معلومات کی دنیا میں پروپیگینڈے کی جڑیں کیسے بل پھیر کے ساتھ اتنے بڑے پیمانے پر پھیلائی گئیں تھیں۔

یہ تو صرف ایک راز سامنے آیا ہے۔ نجانے ایسے کتنے اور ذرائع کام کر رہے ہوں گے جو اس جیسا یا اس سے کہیں گھناؤنا کام تندہی سے کر کے خبروں اور تجزیوں کے نام پر خارجہ اور دفاعی پالیسی کے اہداف حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔

افراد اور ادارے معلومات کی جنگ کا حصہ ہیں۔ ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ گمراہ کن پروپیگینڈے کا یہ نیٹ ورک یورپین یونین کے ساتھ منسلک ایک این جی او نے اپنے روز مرہ کے کام کے ذریعے دنیا کے سامنے آشکارہ کیا۔ اس کے بعد بی بی سی نے اس پر رپورٹ کر کے اس کو بین الاقوامی طور پر متعارف کروایا۔ پھر یہ مواد ہمارے ہاتھ لگا اور اب ہم اس کو قوم کی آنکھیں کھولنے کے لیے بے دھڑک استعمال کر رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہمارے وسائل سے بھرپور ادارے اس جعل سازی کے کاروبار کو خود پکڑ پاتے۔ ہم نے پاکستان کے خلاف پانچویں، چھٹی، ساتویں جنریشن کی نفسیاتی جنگ کے بے شمار فلسفیانہ ابواب تو تحریر کیے ہیں لیکن حقائق کے حصول کے لیے ہمیں ابھی بھی غیروں کی این جی اوز کی تحقیقات پر تکیہ کرنا پڑتا ہے۔

یاد رہے کہ ہمارا بین الاقوامی این جی اوز کے بارے میں نظریہ خاص دوستانہ نہیں۔ پاکستان میں ہم نے بین الاقوامی این جی اوز پر زمین تنگ کر دی ہے۔ نہ ہی ہم بین الاقوامی میڈیا سے گہری پینگیں بڑھاتے ہیں بلکہ ہم ہمیشہ بین الاقوامی اخبارات اور ویب سائٹس سے نالاں رہتے ہیں۔ ان کو پاکستان دشمن قرار دیتے ہیں اور وہاں پر کام کرنے والے صحافیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

مگر پھر جب انہی ذرائع سے ہمیں پسند کی معلومات ملتی ہیں تو ان کا لکھا ہوا لمبی چوڑی پریس کانفرنسز میں ایسے بیان کرتے ہیں کہ جیسے ہم نے سالوں کی عرق ریزی سے یہ نتائج خود حاصل کیے ہوں۔ اس وقت نہ ہمیں این جی اوز بری لگتی ہیں اور نہ مغربی صحافت۔ تب ہم اپنے صحافیوں کو مغربی ایجنٹ ہونے کے طعنے بھی موقوف کر دیتے ہیں اور ان کو اس کے برعکس ہدایت یہ جاری کرتے ہیں کہ وہ اپنے ملک و ملت کے لیے ایسا کام کیوں نہیں کرتے۔

کمال یہ ہے کہ اپنے صحافیوں سے آزادانہ تحقیقات اور بین الاقوامی معیار کا کام کروانے کی خواہش رکھنے والے تمام ذرائع انہی صحافیوں کی گردن ناپنے اور گلا گھونٹنے پر بھی مامور ہوتے ہیں۔ جس طرح یورپی این جی او نے بھارت کے پروپیگینڈا نیٹ ورک کے کام کی نقشوں کے ذریعے وضاحت کی ہم نے ویسے نقشے پاکستان کے صحافیوں کے ٹویٹس کے بارے میں بنا رکھے ہیں۔

ہم بھارت کے ساتھ کرتار پور راہداری بناتے ہیں اور ملک میں صحافیوں کے راستے بند کرتے ہیں۔ پھر جب سرحد کے پار سے اصل نیت سامنے آتی ہے تو اپنے صحافیوں کو طعنے دیتے ہیں کہ وہ عوام تک یہ حقائق کیوں نہیں پہنچاتے۔ ہم شیخ رشید کے ذریعے وزارت داخلہ اور اعجاز شاہ کے ذریعے انسداد منشیات کو انقلابی کاوش قرار دیتے ہیں لیکن ملک کے طول و ارض میں پھیلے ہوئے مخالف اور مقبول سیاست دانوں کو زمین میں گاڑنا قومی فریضہ جانتے ہیں۔ پھر یہ سب کچھ کرنے کے بعد توقع کرتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف چلنے والی جعلی معلومات کی مہم کا جواب قومی اتحاد اور یکجہتی سے دیا جائے۔

ہمارا خیال ہے کہ اندرونی خلفشار اور گالم گلوچ سے گندی ہوئی سیاست کے بیچ ہم قومی پرچم کی سر بلندی کا اہتمام آسانی سے کر سکتے ہیں۔ ہم مخالفین کو جیلوں میں ڈال کر سرحد پار خطروں سے نپٹنے کے لیے ان کے ہاتھ میں بندوق بھی تھما سکتے ہیں۔

یہ دوغلا پن ہماری گھٹی میں پڑ چکا ہے، ہم اس سے جان نہیں چھڑا پا رہے۔ ایسے حالات بیرونی پروپیگینڈے کو بڑھانے میں انتہائی کار آمد ثابت ہوتے ہیں۔ جب قوم کو نام نہاد اچھائی اور برائی کے دھڑوں میں بانٹ دیا جائے اور تمام وسائل ذرائع ابلاغ سے اپنی تعریف کروانے پر صرف کیے جائیں تو پھر بیرونی دشمنوں کے حملوں سے نپٹنے کے لیے کیا موثر بندوبست ہو گا؟

بس یہی انتظار رہے گا کہ کوئی بین الاقوامی تنظیم رپورٹ شائع کر دے اور ہم اس کو استعمال کر کے اپنے موقف کے تائیدی شواہد کے طور پر قوم کے سامنے پیش کر کے سرخرو ہو جائیں۔ ہم اس سے آگے نہ سوچنا چاہتے ہیں نہ سوچ سکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ