’شہباز قلندر کا مزار کھولا جائے، کئی افراد کا روزگار زائرین سے جڑا ہے‘

صوفی شاعر لعل شہباز قلندر کا مزار کرونا وبا کے باعث بند کرنے کے خلاف مقامی بیوپاریوں اور سماجی کارکنوں کی بڑی تعداد نے احتجاجی ریلی نکال کر مطالبہ کیا ہے کہ کرونا ایس او پیز کے ساتھ درگاہ کو روزانہ چند گھنٹے کھولا جائے۔

مظاہرین نے قدیمی پاک سے سیہون پریس کلب تک احتجاجی ریلی کے دوران قلندر کی روایتی دھمال ڈال کر رقص بھی کیا (سوشل میڈیا)

پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے ضلع دادو کے سیہون شریف میں واقع صوفی شاعر لعل شہباز قلندر کا مزار کرونا وبا کے باعث بند کرنے کے خلاف ہفتے کو مقامی بیوپاریوں اور سماجی کارکنوں کی بڑی تعداد نے احتجاجی ریلی نکال کر مطالبہ کیا کہ کرونا ایس او پیز کے ساتھ درگاہ کو روزانہ چند گھنٹے کھولا جائے۔

مظاہرین نے قدیمی پاک سے سیہون پریس کلب تک احتجاجی ریلی کے دوران قلندر کی روایتی دھمال ڈال کر رقص بھی کیا۔  

ریلی کی سربراہی کرنے والے غلام اکبر ملاح نے انڈپینڈنٹ اردو سے ٹیلی فون پر بات کرتے بتایا کہ ’سندھ حکومت نے کرونا وبا کے باعث درگاہ لعل شہباز قلندر کو 24 نومبر سے بند کر رکھا ہے۔ سیہون شریف کے شہر کا مکمل روزگار مزار پر آنے والے زائرین سے جڑا ہے، درگاہ کے بند ہونے کے باعث دس ہزار لوگ مکمل طور پر بے روزگار ہو گئے ہیں اور ان کے گھرانوں کے 50 ہزار لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔‘ 

غلام اکبر ملاح کے مطابق درگاہ کے آس پاس پھول فروش، تبرک، کھلونے اور دیگر اشیا کی تین سو دکانیں ہیں، اس کے علاوہ تین سو کے قریب ریڑھی والے، 134 سے زائد گیسٹ ہاؤس اور ہوٹل اور لاتعداد رکشہ چلانے والوں کا روزگار درگاہ پر آنے والے زائرین سے جڑا ہوا ہے۔  

’گزشتہ لاک ڈاؤن کے دوران درگاہ لعل شہباز قلندر دس ماہ کے لیے بند کر دی گئی تھی، جس سے ہزاروں خاندان مکمل طور پر بے روزگار ہو گئے تھے۔ اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کرونا ایس او پیز کے ساتھ مزار کو روزانہ دس گھنٹوں کے لیے کھولا جائے تاکہ زائرین زیارت کرسکیں اور مقامی لوگ بے روزگار ہونے سے بچ جائیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

غلام اکبر ملاح کے مطابق عام دنوں میں روزانہ چاروں صوبوں سے تین سے چار ہزار زائرین مزار لعل شہباز قلندر پر آتے ہیں، جبکہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو تعداد 15 سے 20 ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔ ’اگر سندھ حکومت نے ہمارہ مطالبہ مان کر لعل شہباز قلندر کے مزار کو نہ کھولا تو 16 دسمبر سے احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔‘ 

سندھ میں صوفی بزرگوں کی متعدد درگاہیں ہیں، جن میں صوفی شاعر لعل شہباز قلندر کا مزار صوبے کے بڑے مزارات میں ایک سمجھا جاتا ہے۔ عثمان مروندی المعروف لعل شہباز قلندر کا عرس ہر سال اسلامی مہینے شعبان کی 18 تاریخ سے شروع ہوتا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق میلے کے دوران سیہون شریف میں ایک ائیرکنڈیشن کمرے کا ایک رات کا کرایہ 15 سے 20 ہزار ہوتا ہے۔ سندھ کے اس چھوٹے سے شہر سیہون شریف کے روزگار کا مکمل دارومدار لعل شہباز قلندر کے مزار پر آنے والے زائرین پر ہے۔  

درگاہ لعل شہباز قلندر کے انچارج نجب شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’کرونا وبا کے باعث لعل شہباز قلندر کے مزار کو بند کر دیا گیا ہے، اب صرف صبح میں تاج پوشی، نگارہ بجانے، چراغی کی رسم سمیت رات کو دروازہ بند کرنے کے لیے چند افراد پر مشتعمل ایک گروپ رسمیں ادا کرتا ہے، دور سے آنے والے زائرین مزار کے بند دروازے پر ہی دعا مانگ کر چلے جاتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان