’کرتا کچھ نہیں تو کیا ہوا، ہینڈ سم تو ہے‘

عمران خان حکومت نے قریب قریب ہر شعبے میں مایوس کیا لیکن تحریک انصاف کا باشعور کارکن جو تبدیلی کی تڑپ لے کر عمران کے ساتھ چلا تھا، اس پر کوئی رد عمل دینے سے قاصر ہے۔

(اے ایف پی)

عمران خان حکومت نے قریب قریب ہر شعبے میں مایوس کیا لیکن تحریک انصاف کا باشعور کارکن جو تبدیلی کی تڑپ لے کر عمران کے ساتھ چلا تھا، اس پر کوئی رد عمل دینے سے قاصر ہے۔ اس کی خود سپردگی کا عالم آج بھی وہی ہے جو اقتدار سے پہلے تھا۔ اس رویے کے سماجی مطالعے کی ضرورت ہے۔

ہمارے ہاں بد قسمتی سے، کسی بھی رہنما کی سرفرازی یا ناکامی کاتعین اس کی کارکردگی سے نہیں کیا جاتا۔ یہ فیصلہ رومان کرتا ہے۔ چنانچہ اب یہ کوئی نہیں سوچتا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بار بار کے اقتدار نے عوام کو کیا دیا۔ بس ایک رومان ہے اور اس رومان کا دعویٰ ہے کہ بھٹو زندہ ہے۔

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کریں

 

مسلم لیگ ن میں سے کوئی یہ سوال نہیں اٹھائے گا کہ نواز شریف کا موقف اگر اصولی ہے اور ان کے پیش نظر آئین کی سر بلندی ہی ہے اور اقتدار سے علیحدگی سے انتخابات میں شکست تک کی جو وجوہات وہ بیان کرتے ہیں اگر وہ سچ ہیں تو پھر انہوں نے آرمی چیف کی توسیع کا ووٹ کیوں دیا؟

ماضی کے طعنے نہ بھی دیے جائیں اور مان لیا جائے کہ وقت نے میاں صاحب کو بدل دیا ہے تب بھی یہ وہ سوال ہے جو مسلم لیگ ن کی ہتھیلی پر انگارے کی صورت رکھا ہے۔ لیکن یہاں بھی کارکردگی اور نامہ اعمال کی کوئی اہمیت نہیں۔ بس ایک رومان ہے اور رومان کا دعویٰ ہے کہ عزیمت میاں صاحب میں مجسم ہو گئی ہے اور مینار پاکستان جھک جھک کر میاں صاحب کے بیانیے کو سلام پیش کر رہا ہے۔

کسی بھی جماعت کو دیکھ لیجیے، یہاں قیادت کو جانچنے اور پرکھنے کا معیار اس کی کارکردگی اور فرد عمل نہیں بلکہ رومان ہو گا۔ قیادت کچھ کرے یا نہ کرے، وابستگان مجنوں بنے پھرتے ہیں۔ یہاں ہر فدائی کا اپنا حسن صباح ہے اور ہر حسن صباح کے اپنے فدائی ہیں۔ بس اتنا ہوا کہ وقت بدلا تو طریقے بدل گئے۔ اس رویے نے ہمیں دائروں کا مسافر بنا دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تحریک انصاف کا معاملہ جدا ہے اور اسی لیے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ اس تحریک کی اٹھان ایسی تھی کہ سیاست کی مروجہ قباحتوں سے بے زار طبقہ اس سے متاثر ہوا۔ یہ نوجوان تھے، ان میں کچھ کرنے کی امنگ تھی۔ یہ مطمئن قسم کے لوگ نہ تھے ان میں تبدیلی کا جنون تھا۔ یہ پلکوں میں خواب لیے عمران کے ساتھ آئے تھے۔ ان کا خیال تھا اب وہ وقت آ گیا ہے کہ سب کچھ بدل دیا جائے۔ لیکن اقتدار ملا تو پلکوں کے خواب حسرت بن کر رہ گئے۔

دو سال کا اقتدار مایوسی کی ایک لمبی کہانی ہے۔ معیشت کے باب میں تو حکومت کے پاس دو اقوال زریں موجود ہیں کہ خزانہ خالی تھا اور پھر کورونا نے رہی کسر پوری کر دی تو اب ہم کیا کریں۔ لیکن جن معاملات کا تعلق خزانے سے نہیں فہم و تدبر سے تھا وہاں کس دیوار گریہ کا سہارا لیا جائے؟

پولیس میں اصلاحات ہونا تھیں، ساہیوال میں پولیس کے ہاتھوں ایک خاندان قتل ہوا تو جناب وزیر اعظم نے وعدہ کیا بس ذرا قطر سے واپس آ جاؤں تو میں خود اس معاملے کو دیکھوں گا اورپولیس کے نظام میں اصلاحات بھی لاؤں گا۔ والدین کے لاشوں پر کھڑے ان بچوں کی آنکھوں سے جھانکتی حیرت آج بھی سراپا سوال ہے کہ وزیر اعظم قطر سے کب واپس تشریف لائیں گے؟ مگر پاکستان تحریک انصاف کے بانکے وابستگان کے ہاں یہ سوال کبھی زیر بحث نہیں آیا۔

بی آر ٹی کی کہانی تو خالی خزانے کی نہیں۔ وہ تو ناقص طرز حکومت کا قصہ یک درویش ہے۔ تحریک انصاف کے پر عزم کارکنان نے مگر کبھی یہ سوال نہیں اٹھایا کہ وہ کون تھا جس کی وجہ سے بی آر ٹی ہمارے لیے ایک طعنہ بن گئی۔ نہ ہی یہ کارکنان کبھی اس بات پر مضطرب پائے گئے کہ یہ صرف نااہلی تھی یا اس میں بدعنوانی بھی کارفرما تھی؟ کسی نے قیادت سے یہ بھی نہیں پوچھا کہ دامن صاف ہے تو سٹے کیوں لیا جاتا ہے؟ خود کو احتساب کے لیے پیش کیوں نہیں کر دیتے؟

فارن فنڈنگ کیس بھی ایک ایسی ہی مثال ہے۔ دوسروں کے احتساب پر مائل تحریک انصاف اس کیس میں اخلاقی برتری کا ثبوت نہ دے سکی۔ اس کیس میں سکروٹنی کے عمل سے بچنے کے لیے تحریک انصاف نے 11 پیٹیشنیں دائر کیں۔ درجنوں بار الیکشن کمیشن کے حق سماعت کو چیلنج کیا۔ الیکشن کمیشن نے پورے 24 بار تحریک انصاف کو تحریری طور پر حکم دیا کہ اپنے تمام بنک اکاؤنٹس کی تفصیل جمع کرائے لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔

مجبور ہو کر الیکشن کمیشن نے سٹیٹ بنک کو خط لکھا کہ ریکارڈ پیش کرے۔ جب یہ ریکارڈ آیا تو معلوم ہوا کہ تحریک انصاف کے اکاؤنٹس کی تعداد آٹھ نہیں بلکہ 23 تھی اور اس نے 15 اکاؤنٹ الیکشن کمیشن سے چھپائے تھے۔

حیران کن طور پر تحریک انصاف کے ان کارکنان میں سے کوئی اس پر بے چین نہ ہوا۔ کسی نے اپنی قیادت سے یہ کہنے کا تکلف نہ کیاکہ ہم تو انصاف اور شفافیت کے علم بردار تھے، یہ رویہ ہمیں زیب نہیں دیتا۔ اگر ہمارا دامن صاف ہے تو ہم خود کو احتساب کے لیے پیش کیوں نہیں کر رہے؟

عمران خان کی پرانی تقاریر اور وعدے ان کے خلاف فرد جرم بنتے جا رہے ہیں۔ جب وہ کوئی فیصلہ کرتے ہیں حریف ان کا کوئی پرانا خطاب اٹھا کر ان کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ ہر آدرش پامال ہو چکا اور ہر خواب بکھر چکا۔ لوگ اب صرف قتل گاہوں میں نہیں ہسپتالوں میں آکسیجن بند ہونے بھی مر جاتے ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا ان کے باشعور وابستگان داخلی سطح پر طوفان کھڑا کر دیتے کہ ہم آئے کس لیے تھے اور یہ ہو کیا رہا ہے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہو سکا۔

یہ رویہ دوسری جماعتوں میں ہو تو قابل افسوس ہوتا ہے لیکن یہ رویہ تحریک انصاف کے دامن سے لپٹا ہے تو یہ کسی المیے سے کم نہیں۔ کیونکہ تحریک انصاف دوسروں جیسی نہ تھی۔ اس کا دعویٰ تھا اپنے اخلاقی وجود کے بارے میں وہ بہت حساس ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ حساسیت کہاں ہے؟

عمران خان ہی نہیں، تحریک انصاف کا اخلاقی وجود بھی اب برف کا ایک باٹ ہے اور دھوپ میں پڑا ہے۔ حکومتیں تو موسم ہوتی ہیں آئے اور چل دیے۔ دکھ اس خواب ہے جسے رومان لاحق ہو گیا۔ اب عذر ہیں اور تاویلات۔ تبدیلی کا سفر ’کھاتا ہے تو کیا ہوا لگاتا بھی تو ہے‘ سے شروع ہو کر ’کرتا کچھ نہیں تو کیا ہوا، ہینڈ سم تو ہے‘ پر آ کر تمام ہوا۔

کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے؟

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ