کرونا کا نیا روپ، برطانیہ میں افراتفری

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وقت کی سوئی چکر لگا کر مارچ میں پہلے لاک ڈاؤن کی جگہ پر واپس پہنچ گئی ہے۔ کرونا وائرس کی چال دیکھیں کہ ویکسین آنے کی خبر سے ابھی لوگ خوشیاں منانے ہی والے تھے کہ نئے وائرس نے فوراً امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

برطانیہ میں کرسمس کے موقعے پر لاک ڈاؤن نافذ ہے (اے ایف پی)

چند روز پہلے جب برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کرونا (کورونا) وائرس کے نئے روپ کے نمودار ہونے کے بارے میں اپنے عوام کو آگاہ کیا اور انگلستان کے بیشتر علاقوں میں پھر مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا تو یقین مانیے اس روز سے تقریباً ہر شہری کی نیند حرام ہو گئی ہے۔ 

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے یہاں کلک کریں

 

 

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وقت کی سوئی چکر لگا کر مارچ میں پہلے لاک ڈاؤن کے اسی نقطے پر واپس پہنچ گئی ہے۔

کرونا وائرس کی چال دیکھیں کہ ویکسین آنے کی خبر سے ابھی لوگ خوشیاں منانے ہی والے تھے کہ نئے وائرس نے امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

ماہرین طب خود اس نئے وائرس کی بناوٹ کوسمجھنے سے ابھی قاصر ہیں لیکن احتیاط کے طور پر دنیا کے امیر ترین ملکوں نے عوام کو گھروں کے اندر قید رہنے کی تاکید کی ہے۔ تازہ اطلاع ملنے تک برطانیہ کے 57 مقامات پر اس نئے وائرس کے مریضوں کی شناخت کی گئی ہے۔

شہری ہوابازی کی صنعت سات ماہ کے بعد شروع کیا ہوئی تھی کہ پھر بند ہونے پر مجبور ہو گئی۔ سیاحت کو بحال کرنے کے منصوبے پر غور ہی کیا جا رہا تھا، دفتر واپس جانے کی مہلت ہی نہیں ملی اور کرسمس جیسے تہوار پر خاندانی میل ملاپ کا انعقاد دھرا رہ گیا۔ 

یہ مہربانی ہے اس وائرس کی جس نے دنیا کو اقتصادی، معاشرتی اور ذہنی طور پر اب اتنا مفلوج بنا دیا ہے کہ بیشتر ترقی یافتہ ملکوں کے سربراہان سمجھ ہی نہیں پا رہے ہیں کہ کس وقت لاک ڈاؤن کریں، کس علاقے کو چھوڑیں اور کس طرح سے اس صورت حال سے باہر نکلیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

طبی ماہرین کے مطابق وائرس کے نئے روپ کے اثرات پرانے وائرس سے 70 فیصد زیادہ ہیں۔ اس کی زد میں ہر ایک شخص کے آنے کا امکان ہے، البتہ یہ پہلے وائرس کے مقابلے میں جان لیوا نہیں ہے۔

نئے وائرس کے ماخذ کا ابھی پتہ لگایا جا رہا ہے جس نے برطانیہ سمیت کئی ملکوں میں اپنے میزبان تلاش کیے ہیں۔ لندن اور بعض شہروں میں یہ تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔

برطانیہ میں 30 ہزار سے زائد افراد روزانہ وائرس میں مبتلا ہو رہے ہیں اور مرنے والوں کی روزانہ تعداد پانچ سو سے اوپر ہو گئی ہے جو بےحد تشویشناک ہے۔

برطانیہ اس وقت کرونا کی وجہ سے ہی بدحال نہیں ہے بلکہ یورپ کے ساتھ دیرینہ ناطہ توڑنے کے اثرات سے بھی حالت نزع میں ہیں جس کی تصویریں ڈوور سمیت مختلف سرحدی ساحلی علاقوں میں دیکھی جا سکتی ہیں جہاں کئی روز سے ہزاروں کی تعداد میں یورپ سے آنے والے مال بردار ٹرکوں کا جام لگا ہوا ہے۔ 

ملک کے اطراف میں بعض سٹور کھانے کی اشیا ضروریہ سے خالی ہو گئے ہیں جب کہ کرونا کے لاک ڈاؤن سے بیشتر لوگ پہلے ہی مختلف اشیا کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔

کرونا وائرس نے روپ بدلنے کا ڈراما بھی ایسے وقت دکھایا جب برطانیہ میں بریگزٹ کی وجہ سے غیر معمولی حالات بنے ہوئے ہیں کیونکہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد سفر، تجارت، شہریت اور تعلقات کی نوعیت مکمل طور پر تبدیل ہونی والی ہے۔ 

نئے تجارتی قوانین، سرحد پر بندشیں اور ملازمت کے لوازمات کا ابھی تعین کیا جانا تھا کہ کرونا کے قہر نے یورپی ملکوں کے ساتھ تجارتی رکاوٹوں کے ادراک کی مہلت ہی نہیں دی جس نے اب یہاں ایک طرح سے ہنگامی حالات پیدا کر دیے ہیں۔

جو یورپی باشندے برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں ان میں سے بیشتر اپنے ملکوں میں واپسی اختیار کرنے والے تھے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہیں پھنس کے رہ گئے ہیں، جبکہ کرونا کی دوسری لہر کے باعث برطانوی شہری اپنے ملک واپس نہیں پہنچ سکے ہیں۔ 

ہوائی اڈوں، بس اڈوں اور ریلوے سٹیشنوں پر افراتفری کا ایسا عالم برپا ہوا ہے کہ گمان ہوتا ہے کہ جیسے بڑے زلزلے کے بعد لوگ اپنی اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگ رہے ہیں۔

ادھر 40 سے زائد ملکوں نے برطانیہ کے جہازوں اور شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے، ملکی معیشت انتہائی ابتر ہے۔ ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں اور ذہنی امراض میں مبتلا مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ 

 پرانا وائرس ہی قابو میں نہیں آ رہا تھا کہ اس کی نئی شکل نے سامنے آ کر دہشت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ