ہمارا 2020 کہاں گیا؟

شاید کرونا ہمیں ہماری زندگی کی اہمیت بتانے آیا تھا۔ اپنی زندگی کا ایک سال گنوا کر اگر ہم اپنی بقیہ زندگی کی اہمیت جان لیتے ہیں تو کیا برا ہے؟

کیا کوئی 2019 میں یہ منظر سوچ سکتا تھا؟ (روئٹرز)

2020 ختم ہونے والا ہے۔ ہم آج جب پورے سال کا حساب لگانے بیٹھے ہیں تو ہمیں یہ سال کہیں نظر ہی نہیں آ رہا۔ آخر کہاں گیا ہمارا 2020؟ بس مزید 15 دن اور پھر یہ سال ختم ہو جائے گا جیسے پچھلے سال ختم ہوتے رہے ہیں۔

اس سال کے بھی اتنے ہی دن تھے جتنے ہر سال کے ہوتے ہیں۔ گرچہ ہر دن ایک صدی کے برابر تھا۔ ہم نے پورا سال خود کو اور اپنے پیاروں کا دھیان رکھتے ہوئے گزارا پر سال کے اختتام پر ایسے لگتا ہے جیسے اس سال کچھ کیا ہی نہیں۔ حالات ہی کچھ ایسے تھے۔

ہم سب نے کیا کیا منصوبے نہیں بنائے ہوئے تھے۔ کسی نے اپنی پسند کی یونیورسٹی میں پڑھائی کرنی تھی تو کسی نے اپنی مرضی کے ادارے میں اپنی مرضی کی نوکری کرنی تھی، کسی نے اکیلے گھومنا تھا تو کسی نے گھر والوں کو گھمانا تھا۔

پھر کیا ہوا؟ چین کے شہر ووہان سے ایک وائرس اٹھا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں پھیل گیا۔ ہم سب اپنے اپنے گھروں میں بند کر دیے گئے یا خود ہی بند ہو گئے۔ جس کے ہاں جیسی صورت حال بنی، اس نے اپنی زندگی اسے کے مطابق ڈھال لی۔ ہم نے اس سال کے سات ماہ ایک کمرے میں اکیلے بیٹھے گزار دیے۔ کسی کو کچھ نہیں پتہ تھا کہ آئندہ آنے والے مہینوں میں کیا ہو گا، اس وائرس کا خاتمہ کیسے ہو گا اور ہم کب اپنی روزمرہ کی زندگی پہلے کی طرف لوٹ سکیں گے۔

سال کے اختتام پر ہم ان تمام سوالوں کے جوابات کسی حد تک جان چکے ہیں۔ کچھ ہی ماہ میں ہم کرونا کی ویکسین لگوا چکے ہوں گے پھر یہی دنیا ہو گی اور یہی ہم ہوں گے۔ شائد کچھ طریقے بدل جائیں پر ان کا واپس اپنی پہلی ڈگر پر جانا بھی تو ناممکن نہیں۔ انسان ویسے بھی گزرے زمانے کے رومان میں رہتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اور ذرا دیکھیں، کرونا آیا بھی توکس وقت؟ جب انسان پہلے سے کہیں زیادہ ترقی کر چکا ہے۔ ٹیکنالوجی کا ایک طوفان ہے جس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ ایک دن نیا فون لیتے ہیں، اگلے روز اس سے بہتر مارکیٹ میں آ جاتا ہے۔ یورپ میں بیٹھ کر ایک بٹن دباتے ہیں اور افریقہ یا ایشیا میں بیٹھے دوست سے بات کر لیتے ہیں، بالکل ایسے جیسے وہ ہزاروں میل دور نہیں بلکہ بغل میں موجود ہو۔ پیسے اتنی برق رفتاری سے ایک جگہ سے دوری جگہ منتقل ہوتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

کیا آج سے 20 سال پہلے ایسا کرنا ممکن تھا؟ پاکستان کی ہی مثال لے لیں۔ کیا وہاں رقم کی منتقلی کا نظام ویسا موجود ہے جیسا چین یا امریکہ جیسے ممالک میں پایا جاتا ہے؟ وہاں تو یہ کام موبائل فون پر ہو جاتا ہے۔ آج اگر ایک ملک میں کسی خاص مرض کا علاج نہیں ہو پاتا تو لوگ اس کے علاج کے لیے کسی دوسرے ملک چلے جاتے ہیں، جو وہاں جانے کے وسائل نہیں رکھتے وہ عوام کی طاقت سے ٹویٹر پر اپنے جانے کے وسائل پیدا کرتے ہیں۔

کیا ہم آج سے 20 سال پہلے اتنی سہولتوں کا سوچ بھی سکتے تھے؟

پر یہ کرونا۔۔۔ یہ تو دنیا بھر کی جان کو آ گیا تھا۔ جہاں دیکھو کرونا کرونا۔ اگر ہم اس سال پڑھی جانے والی خبریں ہی یاد کر لیں تو وہ سب کرونا کے بارے میں تھیں۔ ہم خود نجانے کتنے بلاگ اور آرٹیکل کرونا پر لکھ چکے ہیں۔ ایک ریسرچ پیپر بھی لکھ دیا تھا۔ چین نے اپنے ایک ریسرچ فورم پر چھاپ بھی دیا۔

اب کرونا کچھ ہی مہینوں کا مہمان ہے۔ امریکہ نے اپنے شہریوں کو ویکسین لگانا شروع کر دی ہے۔ چین میں بھی ویکسین کا عمل محدود پیمانے پر جاری ہے۔ ابھی تک عام عوام کو ویکسین لگنا شروع نہیں ہوئی۔ امید ہے کچھ ماہ میں یہاں ویکسینیشن کا عمل شروع ہو جائے گا، پھر ہم اپنی پہلے والی زندگی کی طرف لوٹ آئیں گے۔

اس وقت شاید ہمیں احساس ہو کہ ہمارا یہ سال تو کہیں کھو ہی گیا تھا۔ یہ سال ہم نے زندگی اور موت کے درمیان کھڑے رہ کر گزارا ہے۔ کس کو کب کرونا ہو جائے، کسے پتہ تھا۔ کرونا ہونے کے بعد شفا نصیب ہو گی بھی کہ نہیں، یہ ایک الگ خوف تھا۔ خود محفوظ تھے تو اپنے پیاروں کا سوچ کر پریشان رہتے تھے۔ کیسا عجیب سا سال تھا۔

شاید کرونا ہمیں ہماری زندگی کی اہمیت بتانے آیا تھا۔ اپنی زندگی کا ایک سال گنوا کر اگر ہم اپنی بقیہ زندگی کی اہمیت جان لیتے ہیں تو کیا برا ہے؟ کالم کا اختتام ایک خبر سے کرنا چاہوں گی۔

ایک خبر کے مطابق معروف عالم مولانا طارق جمیل کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ جناب اسپتال میں داخل ہیں۔ طبی عملہ انہیں صحت یاب کرنے کے لیے اپنی پوری کوششیں کر رہا ہے۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مولانا کو میڈیکل کالجوں سے فارغ التحصیل ڈاکٹروں کے ہاتھوں اپنی رضا سے شفائے کاملہ عطا فرمائے۔ آمین۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ