شمس الرحمٰن فاروقی: وہ چاند جو چمک چمک کے ڈوب گیا

اردو کے عہد ساز نقاد، ناول نگار اور مدیر شمس الرحمٰن فاروقی کی رحلت پر خصوصی تحریر۔

شمس الرحمٰن فاروقی کے چلے جانے سے اردو ادب و تنقید کا ایک درخشاں باب بند ہو گیا (CC BY-SA 3.0)

شمس الرحمٰن فاروقی چلے گئے۔ سب جانے والے اپنی اپنی موجودگی کی نشانیاں چھوڑ جاتے ہیں۔ کوئی بات، کوئی تصویر، کوئی شعر، رقص کا کوئی بھاؤ، کوئی نظریہ، کوئی خیال غرض اپنے ہونے کی گواہی اپنے ہنر سے فراہم کر کے اگلی دنیا کی سیر کے لیے رواں ہو جاتے ہیں۔

کچھ ادیب ہوتے ہیں جو ادب کی کسی ایک جہت میں اپنا راستہ تراشتے ہیں۔ شمس الرحمٰن فاروقی صاحب کے ڈانڈے اتنی طرفوں میں پھیلے ہوئے ہیں کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ ان کا اصل کیا تھا۔ ان کی زندگی شوق کی داستان ہے۔ جس دھن میں مگن ہو کر جو شعبہ اختیار کیا، اپنی پوری زندگی اس خیال کے نام کر دی۔ ان کی تنقید اپنی تہذیب سے محبت کی علامت ہے۔ ادب کے جس شعبے میں قدم رکھا وہاں اپنی ریاضت سے ایسی دنیا آباد کر لی جس میں آیندگاں کے لیے آسودگی کا سامان ہے۔ تنقید، تحقیق، افسانہ، شاعری، ناول، ترجمہ، تدوین، ادارت، لغت نویسی، داستانی ادب غرض ادب کی جملہ اصناف میں اظہار کا سلیقہ متعارف کرایا۔

اس بات کی ادائیگی میں کوئی باک نہیں ہونی چاہیے کہ جس انداز میں انہوں نے داستانی ادب سے محبت کی اور جس نوع کی تحریریں داستانی ادب کو سمجھنے کے لیے لکھیں اس کی دوسری مثال نہیں ملتی۔ داستان پر لکھی گئی ان کی پانچ جلدیں ’ساحری، شاہی، صاحبقرانی‘ داستانی تنقید کا سرمایہ ہیں۔ خاص طور پر اس سلسلے کی پہلی جلد میں داستانی تنقید کی جن نظری بنیادوں کا تعین کیا گیا ہے ایسا اردو داستان کی تنقید میں پہلے اس طرح نہیں تھا۔ ہزاروں صفحات کی حامل داستان امیر حمزہ کی چھیالیس جلدوں کو حاصل کرنا اس کے بعد پڑھنا اور پھر استخراج نتائج سے اردو پڑھنے والوں کو باخبر کرنا کسی کارنامے سے کم نہیں۔

’شعر شور انگیز‘ ایک اور شوق کی داستان ہے۔ اس کی چار جلدوں میں میر کی شاعری کے بارے میں فاروقی صاحب نے اجتہادی کام کیا ہے۔ میر کے جملہ شارحین سے اتفاق اور اختلاف کی باوقار دنیا بسائی ہے۔ ان کتابوں میں شعر کی پسند اور ناپسند کی عقلی تعبیریں اپنے پڑھنے والوں کو ایک الگ تاثیر سے واقف کرواتی ہیں۔

ان کا ناول ’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘ اکیسویں صدی کے آغاز میں چھپا۔ یہ ایسا ناول ہے جس کی مدد سے اٹھارویں اور انیسویں صدی کی تہذیب کا ایک روشن دروازہ کھلتا ہے۔ دلی اور دلی کا دربار۔ اس دربار میں رہنے والے لوگ۔ ان لوگوں کی زندگیاں۔ رنجشیں، خوشیاں، غم، زبان کا سلیقہ، آداب غرض ایسا تہذیبی مرقع جو ہمارے تہذیبی تفاخر کا ایک مجلا حصہ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کا انگریزی ترجمہ جو خود فاروقی صاحب نے Mirror of Beauty کیا تھا جب چھپ کر سامنے آیا تو ترکی زبان نوبیل انعام یافتہ ادیب اورحان پاموک نے اس کی تعریف کی۔

اس کے علاوہ ’سوار اور دوسرے افسانے‘ اردو افسانے کی دنیا میں یاد رکھے جائیں گے۔ ہماری کلاسیکی شاعری کی بڑی ہستیاں ان میں چلتی پھرتی باتیں کرتی نظر آتی ہیں۔ زبان کی تاریخ اور لغت نویسی میں دلچسپی فاروقی صاحب کی شخصیت کا ایک منفرد علاقہ ہیں۔

’شب خون‘ ایسا رسالہ تھا جس کی مدد سے اردو دنیا نظریات کی نئی نئی دنیاؤں سے روشناس ہوئی۔ جدیدیت کو جس دانش سے انہوں نے سمجھا اس میں اپنی مٹی کی خوشبو شامل ہے۔ اقبال پر پوری کتاب لکھی۔ غالب کی شرح لکھی۔ مشرق سے محبت اور مغرب سے تہذیبی سطح پر اختلاف کو باوقار انداز میں پیش کیا۔

غزل کی تنقید میں وہ ان معاملات میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے کہ آہ آہ کیوں ہے اور واہ واہ کیسے ہے۔ زبان کا درست استعمال مصرعے کو کتنا ثمر آور بنا دیتا ہے۔ ان کی شاعری کے کلیات میں زبان کے استعمال کا پورا طیف ذہن کی سمتیں کھولتا نظر آتا ہے۔ وہ گفتگو میں ادبی معاملات کو روانی سے بیان کرتے تھے۔ جب ادبی موضوعات زیرِ بحث ہوتے تو انتھک تسلسل سے زیر بحث موضوع پر اظہارِ خیال کرتے۔ گفتگو دلچسپ ہوتی۔ ہنسی، اپنائیت، محبت سے لبریز۔ ذرا بیزاری نہیں۔ سوال پر نظر۔ جو ٹھیک سمجھا کہ دیا۔ ایسا چوکس مطالعہ کہ سامع کو تشنگی کا احساس نہیں رہتا تھا۔

لاہور میں تشریف لاتے تو اپنے دوستوں سے ملتے۔ باتیں کرتے۔ ان کے غموں اور خوشیوں کو ان سے مل کر یاد کرتے۔ ایک ملاقات کے بعد محمد سلیم الرحمٰن نے چند سطروں میں اس ملاقات کا تاثر لکھ بھیجا۔ دوسرے دن پرچی ان تک پہنچی۔ لکھا تھا کہ ’آپ سے مل کر بہت اور طرح کا احساس ہوا۔‘

پڑھ کر خوش ہوئے۔ کہنے لگے ’یہ اور طرح کا احساس کیا خوب ہے۔‘

وہ محمد سلیم الرحمٰن کو لاہور کا قطب کہتے تھے۔ داستان سے محبت کرنے والے جتنے لوگ تھے فاروقی صاحب کا ان سے پیار تھا۔ سہیل احمد خان کو یاد کر کے ملول ہو جاتے۔ کہتے تھے گیان چند جین کو شکایت ہے کہ اردو میں اچھا نہیں لکھا جا رہا میں مشورہ دیتا ہوں کم از کم سہیل احمد خان، تحسین فراقی اور سراج منیر کے مضامین ہی پڑھ لیتے۔ وہ اپنے پیار کرنے والوں میں عمروں کے تفاوت کو کم اہمیت دیتے تھے۔ سب پیار کرنے والوں سے برابر رابطے میں رہتے۔ حوصلہ افزائی کرتے۔ اگر کسی محبتی نے کتاب پڑھنے کی خواہش ظاہر کر دی تو اس کی خواہش کے احترام میں مطلوبہ کتاب اس تک پہنچ جاتی۔ وہ ایک موضوع پر گھنٹوں بول سکتے تھے۔ یہ ایسی خوبی ہے جو کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے۔

انہوں نے انگریزی میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ دیگر زبانوں سے اپنی محبت برابر کی۔ فارسی۔ ،عربی، ہندی میں ان کا درک کسی سے پوشیدہ نہیں۔ وہ اپنے علمی کاموں میں کئی سال لگے رہتے۔ اپنے پراجیکٹ کی کامیابی ناکامی سے اپنے محبت کرنے والوں کو آگاہ رکھتے۔ ایک ہرا بھرا ادبی دور دیکھا۔ مشاہیر میں سے کوئی نام ہو گا جس سے تعلق نہ ہو۔ ن م راشد، محمد حسن عسکری، قراۃ العین حیدر، انتظار حسین، احمد مشتاق، شمیم حنفی۔ وارث علوی، نیر مسعود، ظفر اقبال، خورشید رضوی،سہیل احمد خان، افتخار عارف، ذوالفقار تابش، تحسین فراقی، سہیل عمر، سویرا والے ریاض احمد،آصف فرخی۔

آصف جب دنیا سے رخصت ہوئے تو اس سفر سے کچھ عرصہ پہلے ان کی فاروقی صاحب سے ٹیلی فون پر بات ہوئی۔ اس گفتگو میں درمیان میں کچھ وقفہ آ گیا تھا۔ دوبارہ رابطے پر خوش تھے۔ ایک ٹیلی فونک گفتگو میں بتایا کہ شکر ہے ’آصف مجھ سے خوش دنیا سے گیا ہے۔ ورنہ تو ملال رہتا۔‘

شمس الرحمٰن فاروقی صاحب ایسے لوگ بلا شبہ کم ہوتے ہیں جو اپنے اندر خواہشات کے لاوے کو لفظ بناتے رہتے ہیں اور لفظ ایسی شے ہے جسے فنا نہیں۔

 

 

زیادہ پڑھی جانے والی ادب