فواد عالم کی سنچری بھی شکست نہ ٹال سکی 

نیوزی لینڈ نے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو 101 رنز سے شکست دے کر سیریز میں برتری قائم کرلی ہے۔

سنچری کرنے کے بعد پاکستانی کھلاڑی فواد عالم کا ایک انداز (تصویر: اے ایف پی)

نیوزی لینڈ نے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو 101 رنز سے شکست دے کر سیریز میں برتری قائم کرلی۔ میچ کی خاص بات نیوزی لینڈ کےکپتان کین ولیمسن کی سنچری تھی جنہوں نے 129 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور مین آف دی میچ ایوارڈ حاصل کیا۔

ماؤنٹ منگنوئی ٹیسٹ کے چوتھے دن جب نیوزی لینڈ نے 373 رنز کا ہدف پاکستان کے لیے متعین کیا تو پاکستانی بلے بازوں کے چہروں پر پریشانی نمایاں تھی کیونکہ پہلی اننگز میں بھی بیٹنگ مایوس کن تھی۔

ہدف کے تعاقب میں پاکستان کے دونوں اوپنرز شان مسعود اور عابد علی  دوسری اننگز میں صفر پر آؤٹ ہوئے تو سب کا یہی خیال تھا کہ بقیہ بلے باز پانچویں دن کے صبح کے سیشن تک آؤٹ ہو جائیں گے۔ ماہرین کی یہ رائے غلط بھی نہیں تھی کیونکہ پاکستانی ٹیم دوسری اننگز میں ایک بڑے ہدف کو سامنے دیکھ کر بہت جلد گھٹنے ٹیک دیتی ہے اور اس ٹیسٹ میں بھی 373 رنز کا پہاڑ سا ہدف سامنے تھا اور پھر اس پر طرہ یہ کہ پورا ایک دن باقی تھا۔

سامنے نیوزی لینڈ کے چار خطرناک تیز بولرز تھے، جو پچھلے ایک سال میں انگلینڈ سے لے کر ویسٹ انڈیز تک کے پرخچے اڑا چکے تھے، ان کے لیے نروس پاکستانی بلے باز تو آسان تر  نوالہ تھے۔

پانچویں دن کا کھیل جب شروع ہوا تو پاکستان تین وکٹیں کھو چکا تھا اور 71 رنز کا قلیل سا سکور تھا۔ ایسے میں اظہر علی دن کی نویں گیند پر ہی دوسرے ساتھی فواد عالم کو داغ مفارقت دے گئے۔

چار وکٹیں کھونے کے بعد ایسا لگتا تھا کہ شکست کا سکرپٹ مختصر وقت پر محیط ہے اور جلد ہی سب لوٹ جائیں گے، لیکن فواد عالم، جنہیں دس سال یہ کہہ کر سلیکشن کمیٹی نے نظر انداز کیا تھا کہ ان کا وکٹ پر کھڑے ہونے کا انداز غلط ہے، آج اپنے اسی مخصوص انداز میں پاکستان کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو بچانے کا عزم لیے کریز پر کھڑے تھے۔

کپتان محمد رضوان دوسری طرف ان کا ساتھ دے رہے تھے۔ دونوں بلے باز کیوی بولرز کے ہر حربے کو ناکام بنانے کے ساتھ ساتھ دفاع بھی کر رہے تھے اور جہاں موقع ملتا رنز بھی کرتے۔

فواد عالم جس عمدگی سے اپنے قدموں کو آگے پیچھے کررہے تھے وہ کیوی بولرز میں مایوسی پھیلارہا تھا۔ رضوان بھی پہلی اننگز کی طرح جم کر بیٹنگ کر رہے تھے۔ دونوں بلے بازوں نے پانچ گھنٹے تک رفاقت جاری رکھی اور سکور 75 سے 240 تک پہنچادیا۔

اس دوران فواد عالم نے 11 سال کے وقفے کے بعد کیریئر کی دوسری سنچری مکمل کرلی۔ پاکستانی کیمپ میں سکون کا سانس لیا جارہا تھا اور کوچنگ سٹاف کے چہرے پر اطمینان تھا کہ دونوں کھلاڑی ٹیسٹ ڈرا کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

لیکن قسمت کی دیوی ابھی پوری طرح مہربان نہیں ہوئی تھی کہ جیمیسن کی ایک گیند نے رضوان کو ایل بی ڈبلیو کیا تو دوسری طرف سے فواد عالم کو واگنر نے وکٹ کے پیچھے کیچ کرا دیا۔

رضوان نے 60 اور فواد عالم نے 102 رنز بنائے۔ ان دونوں کے آؤٹ ہونے کے بعد کوئی اور بلے باز وکٹ پر نہیں رک سکا۔ اگرچہ آخری اوورز میں شاہین شاہ نے ہیلمٹ پر گیند لگنے کے باوجود جدوجہد کی اور میچ کو آخری اوورز تک لے گئے لیکن شکست سے نہ بچا سکے۔

پہلی اننگز کے ہیرو فہیم اشرف 19 رنز بناکر آؤٹ ہوئے جبکہ یاسر شاہ کوئی رن نہ بناسکے۔ ٹیل اینڈررز محمد عباس، نسیم شاہ اور شاہین شاہ نے حتی المقدور کوشش کی لیکن نیوزی لینڈ کی فاسٹ بولنگ سے نہ بچ سکے۔

نیوزی لینڈ کے چاروں فاسٹ بولرز نے دو دو وکٹوں پر ہاتھ صاف کیا جبکہ آخری دو وکٹیں سپنر مچل سانتنر نے حاصل کیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیوزی لینڈ ٹیم اس میچ کی جیت سے آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئین شپ میں پہلی پوزیشن  پر آگئی ہے۔

خراب فیلڈنگ شکست کی وجہ

پاکستان کے کپتان محمد رضوان نے میچ کے بعد انٹرویو میں شکست کو تسلیم کرتے ہوئے خراب فیلڈنگ کو اہم وجہ قرار دیا۔

انہوں نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بولرز بد قسمت رہے جو خراب فیلڈنگ کے باعث جلدی وکٹ حاصل نہیں کرسکے۔

رضوان نے امید ظاہر کی کہ ریگولر کپتان بابر اعظم اگلے ٹیسٹ میں واپس آجائیں گے تو بیٹنگ مضبوط ہوجائے گی۔

پاکستان اگرچہ ٹیسٹ ہار گیا ہے لیکن پانچویں دن کے آخری گھنٹے تک میچ کو لے جانا کوئی معمولی بات نہیں کیونکہ نیوزی لینڈ کی ٹیم اس وقت دنیا کی سب سے مضبوط ٹیم ہے اور ان کے چار خطرناک فاسٹ بولرز دنیا کی کسی بھی بیٹنگ لائن کو کسی بھی وقت تہس نہس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

پاکستان کی طرف سے رضوان اور  فواد عالم نے کیوی ٹیم کو کچھ دیر کے لیے ہلا کر رکھ دیا تھا، تاہم ان دونوں کے علاوہ کوئی اور بلے باز کچھ نہ کرسکا۔

پاکستان ٹیم کی بیٹنگ اس ٹیسٹ میں ماسوا فواد عالم، محمد رضوان اور فہیم اشرف کے ناکام رہی جبکہ بولنگ بھی اپنے معیار سےکم تر تھی، جس کا کیویز نے مکمل فائدہ اٹھایا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ