نیوزی لینڈ ٹیسٹ سیریز: پاکستانی بلے بازوں کے لیے امتحان

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان 26 دسمبر سے شروع ہونے والا پہلا ٹیسٹ میچ اگر پانچویں دن تک چلا جاتا ہے تو شاہینوں کی خوش قسمتی ہوگی کیونکہ کیویز بولرز اس وقت دنیا کی سب سے خطرناک بولنگ لائن ہیں اور کسی بھی بلےباز کے لیے انہیں کھیلنا آسان نہیں ہوگا۔

22 دسمبر 2020 کو کھیلے گئے تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں   نیوزی لینڈ کے کھلاڑی ٹیم ساؤتھی، پاکستانی  کھلاڑی شاداب خان کو آؤٹ کرنے کے بعد جشن مناتے ہوئے (تصویر: اے ایف پی)

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا آغاز 26 دسمبر سے ہو رہا ہے، جہاں دو ٹیسٹ میچوں کے سلسلے کا پہلا میچ ماؤنٹ ماؤنگانوئی گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا۔

مذکورہ گراؤنڈ کو گذشتہ سال ہی ٹیسٹ سینٹر کا اعزاز ملا ہے جب انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے مابین ہونے والے ٹیسٹ میچ میں کیویز نے ایک اننگ اور 65 رنز سے انگلینڈ کو شکست دے دی تھی۔ میچ کی خاص بات وکٹ کیپر بلے باز واٹلنگ کی ڈبل سنچری تھی۔

پاکستان ٹیم نے اب تک نیوزی لینڈ کی سرزمین پر 31 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں، جن میں سے دس پاکستان نے جیتے ہیں اور سات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ 14 ٹیسٹ میچوں کا فیصلہ نہ ہوسکا۔

پاکستان کی طرف سے نیوزی لینڈ میں سب سے زیادہ 928 رنز بنانے کا ریکارڈ تو جاوید میاں داد کا ہے لیکن موجودہ ٹیم میں یہ ریکارڈ اظہر علی کے پاس ہے، جو چار ٹیسٹ میچوں میں 206 رنز بناچکے ہیں۔ باقی کھلاڑیوں میں اکثریت پہلی دفعہ دورہ کر رہی ہے، اگرچہ فواد عالم اور محمد رضوان بھی ایک ٹیسٹ کھیل چکے ہیں لیکن ان کی کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں تھی۔

ماضی کی نسبت اس وقت نیوزی لینڈ کی ٹیم بہت مضبوط ہے اور پچھلی چار سیریز مسلسل جیت چکی ہے جبکہ پچھلے 11 ٹیسٹ میچ اننگزکے فرق سے جیت چکی ہے، اس لحاظ سے اس کا مورال کافی بلند ہے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں فتوحات نے بھی اس کو مزید مستحکم کردیا ہے۔

ٹیم کیا ہوگی؟

پاکستان ٹیم اپنے ریگولر کپتان بابر اعظم کی غیر موجودگی میں بظاہر ایک کمزور ٹیم نظر آتی ہے اور گذشتہ موسم گرما میں انگلینڈ کی سیریز میں بلے بازوں کی خراب کارکردگی کے باعث نیوزی لینڈ کے خلاف کسی بڑی کارکردگی کی امید بہت کم ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کے اوپنرز شان مسعود اور عابد علی ہوں گے جبکہ ون ڈاؤن اظہر علی ہوں گے۔ چوتھے نمبر پر بابر اعظم کی غیر موجودگی میں حارث سہیل کھیلیں گے جبکہ بیٹنگ لائن کو مضبوط کرنے کے لیے عمران بٹ کو ٹیسٹ کیپ ملنے کی امید ہے، تاہم ایک رائے یہ بھی ہےکہ کپتان رضوان اپنی اچھی فارم کے باعث چوتھے نمبر پر اور حارث سہیل پانچویں نمبر پر کھیلیں جبکہ فواد عالم چھٹے یا ساتویں نمبر پر بیٹنگ کریں گے۔

اگر پاکستان نے ایک آل راؤنڈر کھلانے کا فیصلہ کیا تو فہیم اشرف، عمران بٹ کی جگہ کھیل سکتے ہیں۔

یاسر شاہ سپن کا شعبہ سنبھالیں گے جبکہ شاہین شاہ آفریدی محمد عباس اور نسیم شاہ فاسٹ بولنگ کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم شاید وہی رہے، جس نے ویسٹ انڈیز کے خلاف آخری ٹیسٹ کھیلا تھا، صرف کپتان کین ولیم سن واپس آجائیں گے جو مذکورہ ٹیسٹ نہیں کھیل سکے تھے۔

بیٹنگ میں کپتان ولیم سن کے علاوہ لیتھم بلنڈل ٹیلر اور چارلس نکولس پاکستانی بولرز کو مشکل وقت دیں گے جبکہ ساؤتھی واگنر اور بولٹ بلے بازوں کا امتحان لیں گے۔ نیوزی لینڈ اپنی ٹیم میں ایک سپنر کو بھی موقع دےسکتا ہے ورنہ جیمیسن ٹیم کا حصہ ہوں گے۔

پچ کا رویہ

ماؤنٹ ماؤنگانوئی کی پچ چونکہ سمندر کے قریب ہے، اس لیے وکٹ میں نمی ہوگی جبکہ سمندری ہواؤں کے باعث بلے بازوں کو ہوا کے ساتھ خو کو ایڈجسٹ کرنا ہوگا۔ واحد کھیلے جانے والے ٹیسٹ میں کیویز بولرز نے بہت اچھی بولنگ کی تھی اور اب بھی ساؤتھی اینڈ کمپنی بجلیاں گرانے کے لیے تیار ہوگی۔ 

کپتان کا امتحان

قائم مقام کپتان محمد رضوان کے لیے اس ٹیسٹ میں دوہری ذمہ داری ہوگی اور انہیں کپتانی کے ساتھ بیٹنگ کو بھی سہارا دینا ہوگا۔

آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں جس طرح انہوں نے زبردست بیٹنگ کی تھی، اس سے ٹیم مینیجمنٹ بہت امیدیں لگائے ہوئے ہے کیونکہ بقیہ تمام بلے باز اب تک خودکو نیوزی لینڈ میں ایڈجسٹ نہیں کرسکے ہیں۔ فواد عالم نے ٹور میچ میں سنچری سکور کی ہے لیکن ٹیسٹ میچ کے لیول کو ٹور میچ سےنہیں ملایا جاسکتا۔

رضوان اگر چوتھے نمبر پر کھیلتے ہیں تو ٹیم کو اس سے تقویت مل سکتی ہے کیونکہ وہ کیویز بولرز کو عمدگی سے کھیل چکے ہیں۔ ویسے بھی ان کے اعتماد کو دیکھتے ہوئے مناسب ہوگا کہ ان کو ٹیل اینڈرز کے نرغے سے نکال کر مستند بلے بازوں کی صف میں جگہ دی جائے۔

پاکستان ٹیم کی موجودہ فارم اور کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کسی بڑے نتیجے کی امید نہیں ہے۔ اگر ٹیسٹ میچ پانچویں دن تک چلا جاتا ہے تو شاہینوں کی خوش قسمتی ہوگی کیونکہ کیویز بولرز اس وقت دنیا کی سب سے خطرناک بولنگ لائن ہیں اور کسی بھی بلےباز کے لیے انہیں کھیلنا آسان نہیں ہوگا۔

نیوزی لینڈ کے مشکل دورے کے بعد ہوسکتا ہے کہ کچھ کھلاڑیوں کا کیرئیر بھی اس دورے کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہوجائے، جو پہلے ہی ریڈار پر ہیں اور تجربے کی بنیاد پر ٹیم میں شامل کیے گئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ