کراچی میں نجی مردہ خانے کے قیام کی ’منفرد‘ کہانی

’میں اکثر خواتین سے متعلق پڑھتی ہوں جنہوں نے اپنا شوق کاروبار یا دیگر ایسے کاموں میں لگایا ہوتا ہے لیکن میری کہانی ذرا ہٹ کر ہے۔‘

’میں اکثر خواتین سے متعلق پڑھتی ہوں جنہوں نے اپنا شوق کاروبار یا دیگر ایسے کاموں میں لگایا ہوتا ہے لیکن میری کہانی ذرا ہٹ کر ہے۔‘ یہ کہنا ہے کراچی کی رہائشی کرن علی کا۔

کرن علی یوں تو سول سروسز میں ہیں لیکن 2010 میں ان کی زندگی میں ایک ایسا حادثہ پیش آیا جس نے ان کی توجہ ایک ایسے مسئلے کی طرف دلائی جس کے بارے میں شاید کسی نے سوچا نہیں تھا یا پھر کوئی دلچسپی ہی نہیں تھی۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کرن علی نے اپنی کہانی کچھ اس طرح بیان کی۔

’یہ 2010 کی بات ہے جب میری عزیر ترین سہیلی کا انتقال ہوا۔ میں اس اچانک حادثے کے لیے ذہنی طور پر بالکل تیار نہ تھی۔ وہ صرف 28 سال کی تھی اور ان کے بھائی امریکہ میں تھے۔ لہذا فیصلہ ہوا کہ بھائیوں کے پہنچنے تک انتظار کیا جائے۔‘

کرن کا کہنا ہے کہ امریکہ سے ان کی دوست کے بھائیوں کو پہنچنے میں ابھی 20 گھنٹے باقی تھے لہذا سوال یہ اٹھا کہ لاش کو کہاں رکھا جائے؟

’بدقسمتی سے ان دنوں کراچی میں مناسب ’مردہ خانے‘ نہیں تھے۔ میں نے وہ ہولناک مناظر دیکھے کہ جہاں میری پیاری دوست کو برف کی ایک سل پر 20 گھنٹوں کے لیے رکھا گیا، اور ان کا چہرہ زرد سے نیلا پڑنے لگا۔ میں نے زندگی میں پہلی بار خود کو اتنا بے بس پایا اور یہی وہ دن تھا جب میں نے فیصلہ کیا کہ میں ایک جدید نوعیت کا مردہ خانہ بناؤں گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کرن علی نے بتایا کہ 2012 میں انہوں نے ’وی کیئر ویلفئر ٹرسٹ‘ کے نام سے ایک ٹرسٹ قائم کیاجہاں صرف 1600 روپے میں مردے کے تمام لوازمات پورے کیے جاتے ہیں۔

’ان میں تین مراحل شامل ہیں، جیسے کہ غسل، کفن، اور سٹوریج، لیکن اگر کوئی اس کی استطاعت نہیں رکھتا تو ہم ایک لفظ پوچھے بغیر یہ سہولیات مفت میں دیتے ہیں۔ یہ ہمارے پیاروں کا ہم پر سب سے کم قرض ہوتا ہے کہ کم از کم ان کے لیے اتنا تو کر سکیں کہ انہیں ایک اچھے انداز میں الوداع کہیں۔‘

کرن علی کہتی ہیں کہ ان کی اس کہانی کو کسی مارکیٹنگ کی چال نہ سمجھا جائے بلکہ یہ کہانی وہ اس غرض سے سنانا چاہتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو یہ پیغام پہنچے اور ضرورت مندوں کو باخبر کیا جاسکے اور ان کے پیاروں کو ایک صاف ستھرا ماحول مہیا کیا جا سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ویڈیو