جیمیسن کی ’میزائل جیسی گیندوں‘ نے پاکستانی بیٹنگ کا جلوس نکال دیا

حوصلوں اور تجربے کا آمیزہ لیے ہوئے اظہر علی ایک طرف سے مزاحمت کر رہے تھے لیکن ان کی قوت برداشت بھی جواب دیتی جارہی تھی کیونکہ کائل جیمیسن کی گیندیں میزائل کی مانند جسم کے قریب سے گزر رہی تھیں۔

دو ٹیسٹ میچ کی سیریز نیوزی لینڈ نے  0-2 سے جیت لی۔ (تصاویر: اے ایف پی)

کرائسٹ چرچ ٹیسٹ کے چوتھے دن ہی ٹیسٹ کا فیصلہ ہوگیا جب پاکستانی شاہینوں کی پرواز  186 رنز پر اختتام پذیر ہو گئی اور اس طرح شرمندگی کے کھاتے میں ایک اننگز اور176  رنز کی ایک اور شکست جمع ہوگئی۔

دو ٹیسٹ میچ کی سیریز نیوزی لینڈ نے  0-2 سے جیت لی۔

میچ کے چوتھے دن پاکستان نے آٹھ رنز پر ایک وکٹ کے نقصان کے ساتھ جب دوبارہ بیٹنگ شروع کی تو آدھی رات کو جاگ کر میچ دیکھنے والے کرکٹ شائقین کو ایک موہوم سی امید تھی کہ شاید صبر آزما دورہ کی آخری جنگ میں سبز کیپ کو کچھ جوش آجائےاور انہونی کردیں لیکن امیدوں کے سہارے خواب تو دیکھے جاتے ہیں، کرکٹ کے میچ نہیں کھیلے جاتے۔

پاکستان کے ٹاپ آرڈر میں جو دراڑ شان مسعود کے صفر آؤٹ ہونے پر پڑی تھی وہ بدھ کی صبح مزید وا ہوتی چلی گئی اور چمکتےہوئے سورج میں پاکستانی  کیمپ میں تاریکی پھیلاتی گئی۔

پہلے تو نائٹ واچ مین محمد عباس نے میدان چھوڑا اور پھر عابد علی جو کسی حد تک پر اعتماد نظر آرہے تھے 26 رنز بناکر ینگ کےایک خوبصورت کیچ کے باعث پویلین واپس پلٹ گئے ۔

15 کے مختصر سے سکور پر حارث سہیل نے بھی دورے کی آخری اننگز کو الوداع کہہ دیا۔ ان کے لیے یہ دورہ بے حد دردناک رہا۔ وہ اپنی چاروں اننگز میں کسی بھی طرح ٹیسٹ لیول کے بلے باز نظر نہیں آئے ۔

حوصلوں اور تجربے کا آمیزہ لیے ہوئے اظہر علی ایک طرف سے مزاحمت کر رہے تھے لیکن ان کی قوت برداشت بھی جواب دیتی جارہی تھی کیونکہ کائل جیمیسن کی گیندیں میزائیل کی مانند جسم کے قریب سے گزر رہی تھیں ۔

پہلی اننگز میں ایک بہت اچھی اننگز کھیلنے والے اظہر علی ہمت کرکے 37 رنز تک پہنچ گئے تھے مگر جیمیسن کا لیگ سائڈ بولنگ کامنصوبہ کامیاب ہوا اور اظہر علی کئی بار بچنے کے بعد ایک باؤنسر سے نہ بچ سکے اور کیچ آؤٹ ہوگئے ۔

کپتان رضوان نے کچھ بہادری دکھانے کی کوشش کی مگر ایک سیدھی گیند نے بلے اور پیڈ کے درمیان ایسا راستہ ڈھونڈا کہ وکٹ اڑا دی۔

یہ کائل جیمیسن کی اننگز میں پانچویں اور میچ میں دسویں وکٹ تھی۔

کیا بولر ہے جیمیسن بھی! ہر گیند نئی قوت اور توانائی کے ساتھ سامنے والے کے ہوش اڑادیتی ہے ۔

فواد عالم نے کچھ مزاحمت کی  مگر ٹرینٹ بولٹ کے جال میں پھنس گئے 16 رنز پر وہ ٹیلر کو سلپ میں کیچ دے گئے۔

فہیم اشرف نے قدرے بہتر بیٹنگ کی اور 28 رنز بنائے لیکن وہ بھی جییمیسن کا نشانہ بنے ۔

آخر میں ظفر گوہر نے ٹی ٹوینٹی انداز میں بیٹنگ کرکے تماشائیوں کو تو محظوظ کیا لیکن وہ بھی سکور  186 رنز تک لے جاسکےانھوں نے 37 رنز بنائے۔

اس طرح پاکستان ایک اننگز اور 176 رنز سے دوسرا ٹیسٹ ہار گیا ۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیوزی لینڈ کی طرف سے کائل جیمیسن نے 48 رنز دے کر 6 وکٹ لیے جبکہ میچ میں وہ 11 وکٹ حاصل کرنے والے بولر بن گئے انھیں زبردست بولنگ پر میچ کے بہترین کھلاڑی کا انعام دیا گیا۔

کین ولیمسن ڈبل سنچری بناکر سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

قرنطینہ کی بے ضابطگیوں سے شروع ہونے والا صبر آزما دورہ بالاآخر اپنے اختتام کو پہنچا لیکن جاتے جاتے کئی سوالات کھڑے کرگیاہے۔

پاکستان ٹیم کی سیلیکشن اور کوچنگ پر سخت تنقید کی جارہی ہے کیونکہ پوری ٹیم کی کارکردگی بیحد خراب رہی۔   تیز باؤنسی وکٹ پر جہاں کیوی بولرز خطرناک بولنگ کررہے تھے وہاں پاکستانی بولرز یکسر ناکام رہے۔ شاہین شاہ آفریدی نے اگرچہ بہتر بولنگ کی لیکن ان کے علاوہ کوئی بھی بولر درست بولنگ نہ کرسکا۔      

بیٹنگ ہمیشہ کی طرح مایوس کن رہی ۔ اوپنرز حسب دستور ناکام رہے جبکہ مڈل آرڈر بھی کچھ نہ کرسکا۔ فواد عالم کی ایک سنچری اور اظہر علی کی ایک نروس نائنٹیز اننگز کے علاوہ کوئی بلے باز نصف سنچری بھی نہ کرسکا ۔

بیٹنگ میں محمد رضوان اور فہیم اشرف نے نصف سنچریاں بناکر سہارا دیا مگر کشتی پار نہ لگا سکے ۔

کپتانی کا بوجھ اٹھانے میں قائم مقام محمد رضوان ناکام نظر آئے وہ بولرز کو درست استعمال نہ کرسکے اور کیپنگ بھی غیر معیاری نظر آئی۔ انھیں جلد بازی میں کپتان بنا کر بورڈ نے ان کے ساتھ ناانصافی کی ہے ۔

ٹیم مینیجمنٹ مکمل ناکام نظر آتی ہے۔ بولنگ کوچ وقار یونس بولرز کو کوئی پلان دینے میں ناکام رہے۔ نو بال کا مسئلہ ایک بار پھر سراٹھا رہا ہے جس کے لیے وقار نے کوئی پلاننگ نہیں کی ۔

بیٹنگ کوچ یونس خان کا کردار بھی نظر نہیں آیا، باؤنسی پچوں پر پاکستانی بلے باز جس قدر اس سیریز میں ناکام نظر آئے اس سے بیٹنگ کا مستقبل مخدوش نظر آتا ہے۔

کوچ کی حیثیت سے مصباح الحق اب پوری طرح فیل ہو چکے ہیں۔  ان کی کوچنگ میں یہ تیسری سیریز شکست ہے لیکن اس سے زیادہ تشویش کی بات ان کی منصوبہ بندی کا فقدان ہے وہ ایک اچھے بلے باز ہونے کے باوجود ٹیم کی بیٹنگ نہیں سدھار سکے ہیں۔

کیا پی سی بی ان پے درپے شکستوں پر مینیجمنٹ کی تبدیلی کا سوچ رہی ہے ؟ 

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ