بائیڈن کی توثیق: ٹرمپ نے اقتدار کی پرامن منتقلی کا عندیہ دے دیا

صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ وہ الیکشن کے نتائج سے متفق نہیں، تاہم پھر بھی 20 جنوری کو اقتدار کی منظم منتقلی عمل میں آ جائے گی۔

6  جنوری 2021 کی اس تصویر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک حامی  ہاؤس کے باہر امریکی پرچم لیے کھڑا ہے (تصویر: اےا یف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی مرتبہ اعلان کیا ہے کہ 20 جنوری کو منظم انداز میں اقتدار کی منتقلی ہو جائے گی۔

ٹرمپ نے گذشتہ دو ماہ تک الیکشن نتائج ماننے سے انکار اور ووٹر فراڈ کے بے بنیاد الزامات عائد کرنے کے بعد پہلی مرتبہ اقتدار کی پرامن منتقلی کی بات کی ہے۔ انہوں نے اقتدار کی پر امن منتقلی کا اعلان جمعرات کو کانگریس کی جانب سے الیکٹورل ووٹ کی گنتی مکمل ہونے اور نتیجتاً نو منتخب صدر جو بائیڈن کی کامیابی کی توثیق ہونے کے بعد کیا۔

ٹرمپ کی جانب سے شکست تسلیم کرنے سے ایک دن پہلے ان کے مشتعل حامی اقتدار کی پرامن منتقلی روکنے کے لیے دارالحکومت واشنگٹن میں کیپٹل ہل پر چڑھ دوڑے تھے، جس کے نتیجے میں بد نظمی اور ہلڑ بازی کے غیر معمولی واقعات پیش آئے۔

ٹرمپ کے سوشل میڈیا ڈائریکٹر نے ٹوئٹر پر صدر کا ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا: ’اگرچہ میں الیکشن کے نتائج سے متفق نہیں اور حقائق میرے ساتھ ہیں، پھر بھی 20 جنوری کو اقتدار کی منظم منتقلی عمل میں آئے گی۔‘ ٹرمپ کا ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ کمپنی نے امریکی جمہوریت پر حملے کا جواز دینے پر مبنی پیغامات پوسٹ کرنے کے بعد بلاک کر رکھا ہے۔

بدھ کو مشتعل مظاہرین کے کیپیٹل ہل کی عمارت پر دھاوے کے بعد کانگریس کی کارروائی روک دی گئی تھی، تاہم بعد میں صورت حال قابو میں آنے پر اسے دوبارہ شروع کیا گیا۔ امریکی صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن نے کُل 306 جبکہ ٹرمپ نے 232 ووٹ حاصل کیے تھے۔

اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق میٹرو پولیٹن پولیس کے سربراہ رابرٹ جے کونٹی کا کہنا تھا کہ کیپٹل ہل کی حدود میں مظاہرے میں چار افراد ہلاک ہوئے جبکہ 52 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

امریکی نائب صدر مائیک پینس نے کانگریس اجلاس کے موقعے پر کہا کہ ’اب جب اس چیمبر میں دوبارہ اکھٹے ہوئے ہیں تو دنیا ہماری جمہوریت کی طاقت اور برداشت کا مظاہرہ دیکھے گی۔ جنہوں نے آج کیپیٹل میں افراتفری مچائی آپ جیت نہیں سکے۔ تشدد کبھی نہیں جیت سکتا، آزادی ہمیشہ فتح یاب ہوتی ہے اور یہ ابھی بھی عوام کا نمائندہ ایوان ہے۔‘

بائیڈن نے امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں صدر ٹرمپ کے حامیوں کی ہنگامہ آرائی کو ’بغاوت‘ قرار دیا۔ انہوں نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ آگے بڑھیں اور تشدد کو مسترد کریں۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب کیپٹل ہل میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس جاری تھا جس کا مقصد جو بائیڈن کی الیکٹورل کالج میں جیت کی باقاعدہ تصدیق کرنا تھا۔

مظاہرین کی جانب سے امریکی جمہوریت کی علامت پر قبضہ کر لیا گیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بندوق بردار سرکاری اہلکاروں نے آنسو گیس کے دھویں میں قانون سازوں کو عمارت سے منتقل کیا اور مظاہرین کو عمارت سے نکالنے کی کوششیں تین گھنٹے تک جاری رہیں۔

یہ مظاہرین عمارت کے ہالز اور اس میں موجود دفاتر میں دندناتے پھرتے رہے جو کہ کافی حیران کن مناظر تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کیپیٹل ہل کی بلڈنگ پر دھاوے اور الیکشن نتائج کی توثیق کو روکنے کی کوشش کے دوران ایک خاتون سینے پر گولی لگنے سے ہلاک ہو گئیں۔

صدر ٹرمپ نے بھی ہلاکت کے اعلان کے وقت ہی ٹوئٹر پر ان فسادات کا الزام ’اپنی بڑی فتح‘ کو ’ان سے چھیننے‘ والوں پر عائد کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ایسی چیزیں اور واقعات تب ہی ہوتے ہیں جب آپ ایک بڑی انتخابی فتح کو ایک برے اور بھدنے انداز میں ان محب الوطنوں سے چھیننے کی کوشش کرتے ہیں جنہیں ایک طویل عرصے تک برے سلوک کا نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

تاہم ان مظاہروں کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے بے بنیاد دعوؤں کو ہٹانے کی غرض سے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر اور فیس بک دونوں ہی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اکاؤنٹس عارضی طور پر بند کر دیے ہیں۔

کیپیٹل پولیس نے صدر ٹرمپ کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے حامیوں کی جانب سے سکیورٹی انتظامات کی خلاف ورزی کرنے اور عمارت میں زبردستی داخلے کے بعد عمارت کو مکمل طور پر بند کر دیا تھا۔

عالمی رہنماؤں کے مذمتی پیغامات

دنیا بھر کے مختلف ممالک کی جانب سے امریکی کیپیٹول بلڈنگ پر مظاہرین کی ہنگامہ آرائی مذمت کی جا رہی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ’امریکی کانگریس میں دکھائی دیے جانے والے بدترین مناظر‘ کی مذمت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ دنیا بھر میں جمہوریت کے لیے کوشاں رہتا ہے اور اب یہ ضروری ہے کہ وہاں بھی پرامن اور مناسب انداز میں اقتدار کی منتقلی ہو سکے۔‘

برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب نے بھی اپنی ٹویٹ میں تشدد کو مسترد کرتے ہوئے قانونی طریقے سے اقتدار کی منتقلی پر زور دیا۔

یورپی یونین کی جانب سے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’امریکی جمہورت پر حملہ‘ قرار دیا گیا۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل کا اپنی ٹویٹ میں کہنا تھا کہ ’دنیا کی نظروں میں امریکی جمہوریت آج محاصرے میں دکھائی دے رہی ہے۔‘

فرانس کے وزیر خارجہ جین ویس لے ڈریان نے بھی اسے جمہوریت پر ایک حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی جب کہ جرمن وزیر خارجہ ہیکو ماس نے صدر ٹرمپ کے حامیوں پر زور دیا کہ وہ جمہوریت کو قدموں تلے روندنے سے باز رہیں۔

کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے بھی اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیا، جبکہ آسٹریلوی وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے ان ’مایوس کن مناظر‘ کی مذمت کی ہے۔

امریکی اتحادیوں پر مشتمل تنظیم نیٹو اور نیوزی لینڈ، نیدرلینڈز، یونان، آئرلینڈ، ترکی، آسٹریا، چیک ری پبلک، ڈنمارک، سپین اور کئی ممالک نے بھی اس واقعے پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ