کراچی: سفاری پارک کی ’ملکہ‘ کی ایڑی متاثر

ملکہ نامی ہتھنی کے پاؤں کی جلد اور ایڑیاں مبینہ طور پر مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے پھٹ گئیں۔

ملکہ کی ایڑھی (انڈپینڈنٹ اردو)

کراچی کے سفاری پارک میں پاکستان کا واحد ہاتھی کا جوڑا موجود ہے۔ اسے دیکھنے اور اس سے پیار کرنے ناصرف کراچی بلکہ ملک بھر سے بچے اور بڑے آتے ہیں۔

یوں کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ملکہ اور سونو نامی ہاتھی کراچی سفاری پارک کی شان ہیں لیکن آج کل ملکہ ہتھنی کی طبعیت کچھ خراب ہے کیونکہ اس کی ایڑیاں بظاہر خشکی سے پھٹ گئی ہیں۔

زخمی پاؤں کی وجہ سے ملکہ کو چلنے پھرنے میں دشواری کا سامنا ہے، ویسے تو وہ اپنے وسیع پنجرے میں چلتی پھرتی متحرک نظر آتی ہے لیکن اس کے قدم بوجھل دکھائی دیتے ہیں۔

بالاج اور اریبہ حیدر آباد سے کراچی اپنے ماموں کے گھر آئے ہیں۔ ہاتھیوں کو دیکھنے کے شوق کی وجہ سے وہ ضد کرکے اپنی فیملی کے ساتھ کراچی سفاری پارک آئے جو یونیورسٹی روڈ پر  گلستان جوہر میں واقع ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ان بچوں نے بتایا کہ سونو نے ان کے ہاتھ سے 12 کیلے کھا لیے پر ملکہ نے بس دو کھیرے ہی کھائے۔ ’یوں لگ رہا ہے کہ ملکہ کی طبیعت ٹھیک نہیں۔‘

سفاری پارک میں ہاتھیوں کی دیکھ بھال کے لیے تین ملازم موجود ہیں۔ ان میں سے ایک نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ سردی کے موسم میں ہاتھی کے گھومنے پھرنے کے ایریا میں بھالو مٹی ڈالی جاتی تھی جس پر ہاتھیوں کو چلنے میں کوئی دقت نہی ہوتی تھی۔ ’اس جگہ چھوٹے پتھر بھی ہیں پر اب  کی بار بھالو مٹی نہی ڈلوائی گئی، ہاتھی کے پنجرے کا فرش سخت ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ رات میں ہاتھیوں کے پاؤں میں زنجیر ڈال کر انہیں پنجرے میں باندھا جاتا ہے کیونکہ کبھی کبھار رات کے وقت یہ ہاتھی شور مچاتے ہیں اور پنجرے سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ دونوں افریقی ہاتھی کراچی سفاری پارک میں پچھلے 16 سال سے موجود ہیں، انہیں یہاں ایک سال کی عمر میں لایا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یونیورسٹی روڈ پر ہی جانوروں کی دیکھ بھال کا ایک کلینک ہے۔ یہاں ڈاکٹر محمد عثمان احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ موسم سرما میں جانورں کی دیکھ بھال بہت ضروری ہے، خصوصی طور پر وہ جانور جن کا انسانوں سے سامنا رہتا ہو یعنیٰ پالتو جانور یا سفاری ایریا میں رکھے جانے والے جانور۔

ہاتھیوں کی صحت سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ان کی جلد دیکھنے میں موٹی اور سخت ہوتی ہے لیکن موسم سرما میں اگر انہیں تیل یا کوئی چکنی کریم وقتاً فوقتاً نہ لگائی جائے تو یہ پھٹ جاتی ہے۔ ’ایسا بھی ہوتا ہے کہ جلد میں گہرائی تک کٹ لگ جاتے ہیں اگر کوئی نوکیلی یا سخت چیزسے پاؤں ٹکرا جائے تو پھر پاؤں زخمی بھی ہوسکتے ہیں اور خون بھی رس سکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ناریل کے تیل یا پھر چکنی کریم  ہاتھی کے جسم پر لگائی جائے یا ویزلین کی زیادہ مقدار زخمی جگہ پر لگائی جائے تاکہ پھٹی جلد اپنی اصلی حالت میں آ سکے۔‘

ڈائریکٹر سفاری پارک آفتاب قائم خانی نے ہتھنی کی صحت کے حوالے سے بتایا کہ موسم کی تبدیلی کی وجہ سے جلد پھٹ گئی ہے، باقی کوئی مسئلہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملکہ کا معائنہ ڈاکٹر سے کروا لیا گیا ہے اور ہاتھیوں  کے پنجرے میں سوکھی گھاس بھی ڈال دی گئی ہے جبکہ ان کے پلے ایریا میں مٹی بھی ڈلوا دی جائے گئی۔

انہوں نے بتایا کہ وہ چھٹیوں پر تھے اور جمعرات کو ہی دفتر جوائن کیا ہے، سفاری پارک کے عملے اور ڈاکٹرز کے ساتھ جمعے کو میٹنگ بھی رکھی ہے، مزید آگاہی اس میٹنگ کے بعد دیں گے۔

کراچی یونیورسٹی کے شعبے زولوجی سے ہاتھیوں کی بیماریوں پر پی ایچ ڈی کرنے والے احمر ماجد کا کہنا تھا کہ ہاتھی کی پھٹی جلد کے علاج کے لیے انہیں رسیلے پھل کھلانے چاہییں اور ساتھ ہی پانی کا استعمال بھی بڑھا دینا چاہیے۔

کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے ترجمان علی حسن ساجد کا کہنا تھا کہ سردیوں میں جانوروں کی جلد متاثر ہوتی ہے البتہ ملکہ کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے اور وہ جلد صحت یاب ہو جائیں گی۔

یاد رہے کہ ہاتھی کی اوسط عمر 70 سال ہوتی ہے مگر کچھ ہاتھی 70 سال سے بھی  طویل عمر پاتے ہیں۔ ہاتھی کی کھال ایک انچ موٹی ہوتی ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات