ہمارے خواب سچ کہاں ہوتے

بھلا ہم اس کی جرات کیسے کریں کہ دنیا میں آئے دن جو واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں ان کے ہوتے ہوئے نیند آ جائے اور ہم خواب دیکھنے لگیں۔

مجھے ویسے خوابوں میں بھٹکنے کی عادت ہے۔ اسی لیے ان کے ذریعے دیگر ممالک پہنچ جاتی ہوں (کینوا)

یہ تحریر آپ یہاں مصنفہ کی آواز میں سن بھی سکتے ہیں


خواب وہ لوگ دیکھتے ہیں جنہیں نیند آتی ہے۔

بھلا ہم اس کی جرآت کیسے کریں کہ دنیا میں آئے دن جو واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں ان کے ہوتے ہوئے نیند آ جائے اور ہم خواب دیکھنے لگیں۔

ہم نے اکثر وہی ڈراونے خواب دیکھے ہیں جو معروف مصنفہ میری شیلے نے 1816میں دیکھے تھے جس کے پس منظر میں انہوں نے پہلا سائنس فکشن ’فرینکنسٹین‘ ناول لکھا تھا۔

اگر ہماری آنکھ لگ بھی جاتی ہیں تو ہم برف پوش وادی میں پہنچ جاتے ہیں جہاں آج کل سر شام ہی ڈراونی آوازیں سنائی  دے رہی ہیں جو بعض مرتبہ نمازیوں کو مسجدوں یا باہر جانے سے روکتی ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ میری شیلے کے ہزاروں ’فرینکنسٹین‘ کشمیر کی وادی میں پہنچے ہیں اورمظلوم لوگوں کی نیندیں چرا رہے ہیں۔

یہ ایک اور حربہ ہے خوف پیدا کرنے کا۔ اس وجہ سے لوگ زیادہ تر راتوں کو بیدار رہتے ہیں اور خواب دیکھنے سے کتراتے ہیں۔

تھامس ایڈیسن کو یاد کرنے کا زمانہ ہی نہیں رہا جنہوں نے بےشمار خوابوں کے نتیجے میں ایسا بلب ایجاد کردیا تھا جس نے دنیا کو تاریکی سے نجات دلائی تھی۔ کاش ایسا بلب بھی بنایا ہوتا جو مظلوم قوموں کی تاریکی کو مٹاتا تاکہ اس کی آڑ میں جنوں اور بھوتوں کا ہوا کھڑا کر کے آبادیوں کو خوف زدہ کرنے کی نوبت نہ آتی۔

لیکن امریکی بھی آج کل ہماری صف میں شامل ہوگئے ہیں۔

سنتالیس فیصد لوگوں نے صدر ٹرمپ کے اس خواب کو حال ہی میں حقیقت میں بدلنے کی کوشش کی تھی جو وہ اکثر نیند میں بڑ بڑاتے رہتے تھے کہ امریکہ میں ایسا کوئی مائی کا لال پیدا نہیں ہوا ہے جو انہیں 2025 سے پہلے وائٹ ہاؤس چھوڑنے پر مجبور کر دے۔ کسے معلوم تھا کہ خواب کی تعبیر اتنی بری نکلے گی کہ اپنی مدت کے خاتمے سے چند روز قبل پہلے ہی وائٹ ہاؤس کو الوداع کہنے کا خطرہ پیدا ہو جائے۔

اس وقت 53 فیصد امریکی اس سوچ میں پڑے ہیں کہ بائیڈین بننے کا خواب بھی نہیں دیکھنا چاہیے جنہیں کرسی خالی رکھنے کے لیے فوج بلانی پڑی۔ خود امریکیوں کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ کیا وہ کیپٹیل ہل کا منظر دیکھ رہے ہیں یا عراق میں صدام حسین کے محل کو گرانے کا۔ اس وقت ٹرمپ کے ہزاروں مداح شکلیں بدل بدل کر ان کرسیوں پر براجمان ہو رہے تھے جن پر بیٹھنے کے لیے 50 سے 60 سال تک کی سیاسی ’تپسیا‘ کرنی پڑتی ہے۔

بھلا ہو نینسی پیلوسی کا کہ جس نے رینجرز کو طلب کر کے بایڈین کی کرسی بچائی۔ ان کی شاید ہی کسی نے تعریف کی کیونکہ امریکہ کے ڈی این اے میں مرد عورت کے بیچ جنسی تفریق اتنی رچی بسی ہوئی ہے کہ اس کی زد میں ہیلری کلنٹن بھی آئیں جب وہ صدارتی دوڑ میں شامل ہوئی تھیں۔

ابھی اس ڈراونے خواب سے چھٹکارا نہیں ملا ہے بلکہ اب سب کی نظریں 20 جنوری پر مرکوز ہیں کہ اگر ٹرمپ نے اس بار انسانی لباس میں جنگلی جانوروں کو بھیجنے کا خواب دیکھا تو دنیا میں ایک نئی روایت کی بنیاد پڑے گی۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ خفیف سی امریکی چھینک باقی دنیا میں بھونچال پیدا کرتی ہے۔

ویسے زمانہ کچھ بدل گیا ہے۔ اب لوگ زیادہ تر چینی چھینک سے پریشان ہوتے ہیں جس کو دنیا میں جاری موجودہ بحران اور تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔

ہم جیسے پچھڑے اور پہاڑوں پر رہنے والے لوگ ایسا خواب دیکھنے سے بھی گھبراتے ہیں جو بھارت کے وزیر اعظم نے اس دور سے پالا ہوا ہے جب وہ جھولا لے کر ہندوتوا کی تپسیا میں آر ایس ایس کے تربیتی مراکز پر جایا کرتے تھے۔ کہتے ہیں وہ خواب میں ہمیشہ خود کو مہاراجہ اشوک کے تخت پر براجمان دیکھتے ہیں جنہوں نے جنگی فتوحات سے ہندوستان کی سرحدوں میں وسیع و عریض توسیع کی تھی۔

اسی خواب کو ان کے گرو گول والکر نے بھی دیکھا اور آر ایس ایس کے موجودہ پردھان موہن بھاگوت بھی اسی خواب کو پلکوں پر سجائے ہوئے ہیں۔ اسی خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے وزیراعظم قندھار سے لے کر سماترا تک ایک وسیع ترین ہندو راشٹر بنانے کے اپنے مشن پر رواں دواں ہیں۔ اس کے لیے وزیراعظم صاحب ٹیگور کی سی داڑھی، بوودھ بکھشووں کا جھولا اور اپنے سوشل میڈیا پروگرام ’من کی بات‘ سے اپنے خواب میں رنگ بکھیرنے لگے ہیں۔

نجومی یہ کہنے سے قاصر ہیں کہ وزیراعظم کو اگر ٹیگور کا خطاب دیا گیا تو کیا بنگالی انہیں اگلے انتخابات میں جتوائیں گے اور کیا مودی کے مقابل میں مورچہ بند آخری اپوزیشن لیڈر ممتا بینر جی کو خاموش کر دیا جائے گا؟ مگر مودی کی ’من کی بات‘ سن کر یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ خود کو مہاراجہ اشوک کا ’پنر جنم‘ یعنی دوسرا روپ منوانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عمران خان نے کئی بار اپنے خواب کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا ہے لیکن میں اس پر کچھ نہیں کہنا چاہتی کیونکہ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس پر صرف مولانا طارق جمیل یا مولانا منیب الرحمن ہی بات کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ میں بس نیند کا بہانہ کرتے کبھی سوچتی رہتی ہوں کہ 1400 سال پہلے کے اس دور میں کتنی جاہلیت رہی ہوگی؟

عوام کی سوچ بدلنے میں کتنی مشکلات آئی ہوں گی؟

اگر عمران خان نوکری دینے، سڑکیں بنانے اور اداروں کو مضبوط بنانے کے وعدوں پر ہی اکتفا کرتے شاید اس ملک کا کچھ بھلا ہوتا جس کو بیشتر سیاست دانوں نے محض مال غنیمت کے طور پر ہی سمجھ رکھا ہے۔ کوئی تو نیک بندہ ہوتا جو اپنے وزیراعظم سے کہتا کہ وہی خواب دیکھا کریں جس کو پورا کرنے کی ہمت ہو کیونکہ سیاست کرکٹ تو ہے نہیں کہ کوئی ایک آدھ نرم بال پر چھکا بھی مار دیں۔

مجھے ویسے خوابوں میں بھٹکنے کی عادت ہے۔ اسی لیے ان کے ذریعے دیگر ممالک پہنچ جاتی ہوں۔

دراصل میں نے جو خواب دیکھنے کی جرت کی ہے وہ میں نے غلط وقت پر دیکھا ہے۔ سہ پہر میں، جی ہاں میں اپنی کھڑکی سے لندن کی سنسان سڑک پر دور دور نظریں دوڑاتی ہوں اور سوچتی ہوں کہ کرونا (کورونا) وائرس جب ختم ہو جائے گا اور پروازیں بحال ہو جائیں گی تو میں کشمیر پہنچوں گی۔ سبھی قومی دھارے اور حریت کے بچے گچھے رہنماؤں سے ملاقات کروں گی، ان کے سامنے عرضی ڈالوں گی کہ کشمیر کی شناخت کے لے متحد اور اکٹھے ہو جائیں۔

اس قوم کے نوجوانوں کو موت کے پنجوں میں جانے سے روکیں، بچوں کی تعلیم کا کوئی طریقہ نکالیں، عورتوں کو دس لاکھ فوجی نظروں سے بچانے کے لیے کوئی حکمت عملی ترتیب دیں، گھریلو تجارت اور زمین کو بچانے کے لیے کوئی منصوبہ بنائیں مگر ذہن خوف سے کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ کرونا کی وجہ سے نہیں بلکہ خوف اس بات کا ہے کہ کیا کشمیری سیاست دان میری بات سنیں گے اور کیا قوم کو بچانے کے آگے اپنی انا پر قابو پائیں گے؟

لہذا میں اس خواب کو ذہن میں ہی دفن کر دیتی ہوں۔

مایوس ہو کر ریڈیو سننے لگتی ہوں جس میں بورس جانسن کی شدید تنقید کی جا رہی ہوتی ہے۔ انہوں نے کرونا بندشوں کے باوجود جسمانی ورزش کے لیے سائیکل پر لمبی دوڑ لگائی ہے۔ جب سے انہیں کرونا ہوا ہے تب سے وہ یہ خواب دیکھنے لگے ہیں کہ وہ کیسے اپنا وزن کم کریں۔ ماہر نفسیات سگمنڈ فرائڈ نے خوابوں پر کتنا کچھ لکھا ہے کاش وزن کم کرنے کے خواب کا تجزیاتی نسخہ بھی بتایا ہوتا تاکہ کرونا میں مبتلا موٹے لوگوں کو کچھ تو فائدہ ہوتا۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ