کرونا میں مبتلا رہنے کے بعد دیگر سائیڈ ایفیکٹس جن کا سامنا ممکن ہے

تحقیق کے مطابق بعد از کرونا سب سے زیادہ رپورٹ کی جانے والی علامات میں تھکاوٹ، سانس لینے میں مشکل،جوڑوں اور سینے میں درد سمیت کھانسی شامل ہیں۔

(فائل فوٹو- اے ایف پی)

سنٹرفار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) کی تحقیق کے مطابق جوں جوں کرونا کے زیادہ کیس زیر مشاہدہ آئے ہیں، دیکھا جا رہا ہے کہ کووڈ۔19 سے پھیپھڑوں سمیت متعدد دیگر جسمانی اعضا بھی متاثر ہوتے ہیں۔

اگرچہ بہت سے مریض  کووڈ۔19 کے مرض سے چھٹکارا حاصل کر لیتے ہیں اور ان کی صحت بحال ہو جاتی ہے لیکن اس کے باوجود بعض مریضوں کے جسم میں ایسی علامات موجود ہو سکتی ہیں جو مرض کی شدت سے سے نکلنے کے بعد کئی ہفتے یا مہینے تک برقرار رہیں۔

حتیٰ کہ انفیکشن کا شکار ہونے والے وہ افراد جو ہسپتال داخل نہیں ہوتے یا جن کے جسم میں معمولی علامات ظاہر ہوتی ہیں ہو سکتا ہے کہ انہیں مستقل یا دیر سے ظاہر ہونے والی علامات کا سامنا کرنا پڑے۔

مرض کے بارے میں مزید جاننے کے لیے جاری اس تحقیق کو مکمل ہونے میں کئی سال لگیں گے۔

سی ڈی سی یہ جاننے کے لیے تحقیق کر رہا ہے کہ یہ علامات کتنی عام ہیں؟اور کن لوگوں میں ان کی موجودگی کاامکان سب سے زیادہ ہے؟ نیز کیا یہ علامات بالآخر غائب ہو جائیں گی یا نہیں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تحقیق کے مطابق بعد از کرونا سب سے زیادہ رپورٹ کی جانے والی علامات میں تھکاوٹ، سانس لینے میں مشکل،جوڑوں اور سینے میں درد سمیت کھانسی شامل ہیں۔

زیادہ عرصے تک براقرار رہنے والی جو علامات بتائی گئی ہیں ان میں سوچنے اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری جسے (بعض اوقات دماغ میں چھائی دھند) کہا جاتا ہے، ڈپریشن، پٹھوں اور سر میں درد، وقفے وقفے سے ہونے والا بخاراورسانس یا دل کی دھڑکن میں تیزی شامل ہیں۔

زیادہ سنگین اورلمبے عرصے تک جار ی رہنے والی علامات جو بظاہر عام نہیں ہیں ان میں انسانی جسم  کے مختلف نظاموں کا متاثر ہونا شامل ہے۔

ان نظاموں میں دل کی شریانوں کانظام، دل کے پٹھوں کی سوزش، پھیپھڑوں کی کارکردگی میں بے ضابطگیاں، گردوں کو پہنچنے والا نقصان، جلد پر سرخ نشانات، بالوں کا گرنا، سونگھنے اورچکھنے کی حس کے مسائل، نیند میں خرابی، توجہ مرکوز کرنے میں مشکل، یادداشت کا مسئلہ، بے چینی،اورمزاج میں تبدیلیاں شامل ہیں۔

طویل عرصے تک جاری رہنے کے حوالے سے ان اثرات کی اثر پذیری ابھی معلوم نہیں کی جا سکی۔

(اس رپورٹ میں سی ڈی سی کی معاونت شامل ہے)

زیادہ پڑھی جانے والی صحت