پاکستان کپ: جس میں خوب چوکے چھکے برسے

پاکستان کپ  کے سنسنی خیز مقابلوں کا اختتام خیبرپختونخوا کی فائنل میں سینٹرل پنجاب کے خلاف فتح سے ہو گیا ہے۔

ٹورنامنٹ کے 33 میچز میں جہاں بلے بازوں نے چھکے چوکوں کی برسات کی وہیں بولرز نے بھی خوب وکٹیں گرائیں (پی سی بی)

پاکستان کپ  کے سنسنی خیز مقابلوں کا اختتام خیبرپختونخوا  کی فائنل میں سینٹرل پنجاب کے خلاف فتح سے ہوا گیا ہے۔

ٹورنامنٹ کے 33 میچز میں جہاں بلے بازوں نے چھکے چوکوں کی برسات کی وہیں بولرز نے بھی خوب وکٹیں گرائیں۔

ان میچز میں کل  17783 رنز بنے اور جبکہ  498 وکٹیں گریں۔ بلے بازوں نے کراچی سٹیڈیم کی وکٹ کا خوب فائدہ اٹھایا ا ور  460 چھکے  اور 1538 چوکے لگائے۔

اس ٹورنامنٹ کے اعداد و شمار کے حوالے سے مزید بات کریں تو خیبرپختونخوا  اور بلوچستان کی ٹیمیں سب سےبڑا مجموعہ بنانے والی ٹیمیں رہیں۔ 12 جنوری کو کھیلے گئے ایونٹ کے ایک میچ میں خیبرپختونخوا نے 378 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف 8 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔

دو ہفتوں بعد خیبرپختونخوا نے بلوچستان کے خلاف پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 369 رنز بنائے اور پھر کامیابی سے اس کا دفاع بھی کیا۔ان دونوں ٹیموں کے درمیان مذکورہ پہلے میچ میں کل 755 رنز بنے جبکہ دوسرے میچ میں 717 رنز بنے۔

دلچسپ طور پر خیبرپختونخوا کی ٹیم ایونٹ کے کم سکورننگ میچز میں بھی نمایاں رہی ہے۔ خیبرپختونخوا نے ناردرن کو ایک میچ میں 112 پر ڈھیر کرکے چھ  وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔

23 دنوں پر مشتمل ایونٹ میں مجموعی طور پر 29 سنچریاں بنیں، جہاں سندھ کے خرم منظور اور خیبرپختونخوا کے صاحبزادہ فرحان نے تین، تین سنچریاں بنائیں۔

سینٹرل پنجاب کے طیب طاہر نے ایونٹ میں سب سے زیادہ رنز بنائیں۔ انہوں نے ایک سنچری اور چھ نصف سنچریوں کی مدد سے 666 رنز  سکور کیے۔ سندھ کے خرم منظور 655 رنز بناکر دوسرے اور سدرن پنجاب کے مختار احمد 597 رنز بناکر تیسرے نمبر پر رہے۔

اسی طرح بلوچستان کے عمران فرحت نے 499، خیبرپختونخوا کے صاحبزادہ فرحان نے 487 اور سدرن پنجاب کے شان مسعود نے 472 رنز بنائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صہیب مقصود کی 130 رنز کی اننگز میں سب سے زیادہ  دس چھکے شامل تھے جبکہ آصف علی کی 127 رنز کی اننگز میں 98 رنز صرف باؤنڈریز سے حاصل کیےگئے تھے، انہوں نے اس اننگز میں 17 چوکے اور پانچ چھکے لگائے تھے۔

ٹورنامنٹ میں بولرز کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو خیبرپختونخوا کے سپنر آصف آفریدی نے ایونٹ میں سب سے زیادہ 25 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے ایونٹ کے ایک میچ میں ہیٹ ٹرک بھی کی تھی۔ ایونٹ کے فائنل میں بھی انہوں نے پانچ کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھا کر خیبرپختونخوا کو چیمپئن بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ایونٹ میں 19 وکٹیں حاصل کرنے والے زاہد محمود کو پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی سکواڈ میں شامل کرلیا گیا ہے۔ عثمان قادر نے ایونٹ میں 17، احمد بشیر  نے 16 اور محمد عمر نے 15 وکٹیں حاصل کیں۔

ایونٹ میں پانچ مرتبہ ایسا موقع آیا  جب کسی بولر نے ایک اننگز میں پانچ  وکٹیں حاصل کیں۔ اس میں آصف آفریدی نے دو مرتبہ جبکہ عثمان قادر، عماد بٹ اور عمر خان نے ایک ،ایک مرتبہ یہ اعزاز حاصل کیا۔

ناردرن کے آلراؤنڈر حماد اعظم کو ایونٹ میں 443 رنز اور 13 وکٹیں حاصل کرنے پر پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا اعزاز دیا گیا۔

وکٹوں کے پیچھے 13 شکار کرنے پر سندھ کے اعظم خان کو ٹورنامنٹ کا بہترین وکٹ کیپر قرار دیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ