جنوبی افریقہ ٹیسٹ سیریز: تابش خان کاانتظار ختم، سکواڈ میں شامل

چیف سیلیکٹر محمد وسیم نے چھ ریجنل ٹیموں کے کوچز کے مشورے سے ٹیسٹ سکواڈ منتخب کیا ہے جس میں بڑے ناموں کی بجائے ان نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا ہے جو تسلسل سے ڈومیسٹک کرکٹ میں بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ یہ ایک مثبت سوچ ہے جس سے کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھے گا۔

جنوبی افریقہ کے ساتھ آئندہ ہفتوں میں شروع ہونے والی ٹیسٹ سیریز کے لیے چیف سیلیکٹر محمد وسیم نے 20 رکنی سکواڈ کا جمعے کو اعلان  کردیا، جس میں توقع کے مطابق کئی نئے کھلاڑی شامل کیے گئے ہیں کیونکہ نیوزی لینڈ کے ساتھ گذشتہ سیریز میں ٹیم کی یکسر ناکامی نے سیلیکٹرز کو مجبور کردیا تھا کہ کچھ نئے کھلاڑی لائے جائیں اور ناکام سینیئر کھلاڑی ڈراپ کردئیے جائیں۔

سکواڈ کی قیادت  بابر اعظم کے ہاتھوں میں ہے، جو گذشتہ سیریز میں انگلی میں چوٹ کے باعث شرکت نہیں کرسکے تھے اور کپتانی کا بوجھ محمد رضوان نے اٹھایا تھا۔

اوپنرز

ٹیم کے ریگولر اوپنر شان مسعود جگہ بنانے میں ناکام رہے جو گذشتہ چار ٹیسٹ میں بالکل ناکام رہے تھے جبکہ ایک اور اوپنر امام الحق بھی دستیاب نہیں ہیں۔

سیلیکٹرز نے عابد علی کے ساتھ عبداللہ شفیق اور عمران بٹ کو رکھا ہے۔ عبداللہ شفیق ٹی ٹوئنٹی سکواڈ کا حصہ تھے لیکن ان کی ٹیسٹ ٹیم میں شمولیت حیرت انگیز ہے، جبکہ عمران بٹ مڈل آرڈر بلے باز کی حیثیت سے نیوزی لینڈ کے دورے پر تھے لیکن کھیل نہیں سکے۔ اب ان کی جگہ بنانے کے لیے بحیثیت اوپنر لایا گیا ہے۔ اگرچہ عمران بٹ کی ڈومیسٹک کرکٹ میں بہت اچھی کارکردگی رہی ہے، تاہم مناسب ہوتا اگر کسی ریگولر اوپنر کو موقع دیا جاتا۔

مڈل آرڈر

اظہر علی اور فواد عالم تو پہلی ترجیح تھے جو سکواڈ میں شامل ہیں لیکن حارث سہیل ڈراپ کردئیے گئے۔

پشاور کے کامران غلام کو ان کی قائد اعظم ٹرافی میں شاندار کارکردگی پر مڈل آرڈر میں رکھا گیا ہے جبکہ ان کے ساتھ کراچی کے سعود شکیل اور لاہور کے سلمان علی آغا بھی جگہ پانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ سعود شکیل تو خیر مستحق تھے لیکن سلمان علی کی شمولیت ایک احسن امر ہے۔ دونوں بلے باز قائد اعظم ٹرافی میں بالترتیب سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی ہیں۔

فہیم اشرف اور محمد نواز آل راؤنڈرز کی حیثیت سے شامل ہیں۔

بولنگ سکواڈ

سب سے اہم تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ سینیئر بولر محمد عباس کو ڈراپ کردیا گیا ہے جبکہ ان کے ساتھ نسیم شاہ اور سہیل خان بھی فارغ ہوگئے ہیں۔

کافی سالوں سے ڈومیسٹک کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹ حاصل کرنے والے کراچی کے تابش خان کا انتظار بالآخر ختم ہوگیا ہے اور36 سال کی عمر میں وہ ٹیسٹ ڈیبیو کی دہلیز پر پہنچ گئے ہیں۔ ان کے لیے پچھلے دنوں کراچی میں شائقین نے مظاہرہ بھی کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حسن علی کی بھی واپسی ہوئی ہے، وہ ایک سال سے ٹیم سے باہر تھے تاہم اب مکمل فٹ ہوکر واپس آگئے ہیں جبکہ حیرت انگیز طور پر حارث رؤف کو شامل کیا گیا ہے جو طویل دورانیے کی کرکٹ میں اب تک کچھ خاص کارکردگی نہیں دکھاسکے ہیں۔

سپن بولنگ میں سندھ کے نعمان علی کو بالآخر چانس مل گیا ہے۔ ان کے ساتھ پشاور کے آف سپنر ساجد خان کی قسمت بھی جاگ گئی ہے۔ دونوں میں سے ایک بولر تو ضرور ڈیبیو کریں گے۔

یاسر شاہ کو شاید آخری دفعہ موقع دیا گیا ہے کیونکہ ان کی کارکردگی دن بدن زوال پذیر ہے۔

چیف سیلیکٹر محمد وسیم نے چھ ریجنل ٹیموں کے کوچز کے مشورے سے ٹیم منتخب کی ہے جس میں بڑے ناموں کی بجائے ان نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا ہے جو تسلسل سے ڈومیسٹک کرکٹ میں بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ یہ ایک مثبت سوچ ہے جس سے کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھے گا۔

ماضی میں کھلاڑی کارکردگی سے زیادہ پسند و ناپسند پر منتخب ہوجاتے تھے۔

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دوٹیسٹ سیریز کے سلسلے میں پہلا ٹیسٹ 26 جنوری سے کراچی میں شروع ہو رہا ہے، جس کے لیے مہمان ٹیم جمعے کی رات پہنچ گئی ہے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ