وہ جنہیں ووٹ ڈالنا نہ آیا

سینیٹ الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے دوران اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے سرزد ہونے والی غلطیوں پر ایک نظر۔

وزیر مملکت شہریار آفریدی نے بیلٹ پیپر پر ہندسہ درج کرنے کی بجائے اپنے دستخط کردیے ۔ (فائل تصویر: یوٹیوب سکرین گریب)

پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں بدھ کو ایوان بالا یعنیٰ سینیٹ انتخابات کے چرچے رہے اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے متعلقہ ایوانوں میں اپنے اپنے ووٹ کاسٹ کیے۔

تاہم ووٹ ڈالنے کے اس عمل کے دوران عوام کے نمائندوں سے بہت سی غلطیاں بھی ہوئیں۔

سب سے پہلی غلطی وزیر مملکت شہریار آفریدی نے کی اور بیلٹ پیپر پر ہندسہ درج کرنے کی بجائے اپنے دستخط کر دیے۔

بعدازاں انہوں نے پریزائیڈنگ افسر کو خط لکھ کر دوبارہ ووٹ کاسٹ کرنے کی ‏درخواست کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ طبعیت ناساز ہونے کی بنا پر وہ الیکشن تیاری سے متعلق پارٹی میٹنگ میں ‏نہیں جا سکے تھے۔

شہریار آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ ’پریزائیڈنگ آفیسر اور عملے نے بھی درخواست کے باوجود ووٹ ڈالنے سے متعلق رہنمائی نہ کی، جس پر میں ‏نے بیلٹ پیپر پر ہندسہ درج کرنے کی بجائے دستخط کردیے لہذا مجھے دوبارہ ووٹ کاسٹ کرنے کی ‏اجازت دی جائے۔‘

تاہم ریٹرنگ افسر نے شہریار آفریدی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں دوبارہ ووٹ ڈالنےکی اجازت نہ دی۔

یہ رپورٹس بھی سامنے آئیں کہ وزیراعظم نے شہریار آفریدی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ایم این اے ہیںِ آپ کو ‏ایسی غلطی نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار عبداللہ جان کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری سے بھی بیلٹ پیپر پر مارکنگ کرتے ہوئے کوئی غلطی سرزد ہوئی لیکن انہوں نے چونکہ اسے بیلٹ بکس میں نہیں ڈالا تھ، لہذا انہیں نیا بیلٹ پیپر دے دیا گیا۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے نجی نیوز چینل جیو نیوز سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ وزیراعظم عمران خان کا ووٹ بھی مسترد ہوا، تاہم اس دعوے کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔

پشاور سے انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار انیلا خالد کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کے ایک رکن نے کوریج کرنے والے صحافیوں کو بتایا کہ 13 ارکان ایسے تھے، جنہیں بیلٹ پیپر کے حوالے سے معلوم نہیں تھا اور انہیں دوبارہ بیلٹ پیپرز دیے گئے۔ اس کے علاوہ بھی کچھ دیگر واقعات رونما ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈپینڈنٹ اردو کے کراچی سے نامہ نگار امر گرڑو کے مطابق سینیٹ انتخابات کے دوران موبائل فون لانے پر پابندی کے باجود سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی رہنما خرم شیر زمان کے پاس سے موبائل فون نکلا، جس کے بعد دیگر کئی ارکان سے جسمانی تلاشی بھی لی گئی۔

دوسری جانب صحت کے مسائل اور علالت کے باعث سات اراکین سندھ اسمبلی نے خود اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا، بلکہ ان کا ووٹ کسی اور رکن نے کاسٹ کیا۔

ایم پی اے پروین قائم خانی علالت کے باعث وہیل چیئر پر اسمبلی پہنچیں اور کہا کہ وہ خود ووٹ کاسٹ نہیں کرسکتیں، جس پر الیکشن کمیشن کی اجازت پر ان کا ووٹ ارباب لطف اللہ نے کاسٹ کیا جبکہ علی نواز مہر کا ووٹ شبیر بجارانی نے کاسٹ کیا۔ مراد علی شاہ سینیئر نے کہا کہ ان کی نظر کمزور ہے، تو ان کا ووٹ گھنوراسران نے کاسٹ کیا۔

ادھر ووٹنگ سے پہلے جناح ہسپتال میں زیر علاج ایم پی اے حلیم عادل شیخ کو اسمبلی لانے والی بکتر بند گاڑی ہسپتال نہیں پہنچی، جس کے باعث انہیں اسمبلی آنے میں دیر ہوئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان