سینیٹ الیکشن سے متعلق وائرل ویڈیو: کئی سوالات جواب کے منتظر

سینیٹ الیکشن 2018 کی اس وائرل ہونے والی ویڈیو پر کوئی بھی بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جبکہ جو بیانات اب تک سامنے آئے ہیں، انہوں نے مزید سوالوں کو جنم دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں تحریک انصاف کے سابق ایم پی اے عبید اللہ مایار  نظر آرہے ہیں۔ (سکرین گریب)

سینیٹ الیکشن 2018 کی وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد خیبر پختونخوا میں وزیر قانون سلطان محمد خان کو فارغ کرتے ہوئے کل شام سے ہی انہیں سرکاری امور سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی خیبر پختونخوا حکومت نے پاکستان پیپلز پارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کی طرح اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ان دو سینیٹرز کو بھی فارغ کردیں، جن کی خاطر ووٹ خریدے گئے۔

اس حوالے سے صوبائی معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے سے وزیراعظم عمران خان کی اوپن بیلٹنگ کے حوالے سے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ ملکی نظام کی درستگی کے لیے شفافیت کتنی ضروری ہے۔

اس حوالے سے تنقید پر کہ وزیراعظم عمران خان اس لیے اوپن بیلٹنگ کی بات کر رہے ہیں کہ انہیں خود اپنے اراکین اسمبلی پراعتبار نہیں ہے اور وہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے آئین میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں،کامران بنگش نے جواب دیا: 'اگر اسی نکتے کو بنیاد بنا دیا جائے تو بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے مابین جو میثاق جمہوریت ہوا تھا، جس میں انہوں نے اوپن بیلٹنگ پر اتفاق کیا تھا، تو کیا اس کی وجہ بھی ان کا اپنے لوگوں پر اعتبار کا نہ ہونا تھا؟ دراصل ہمارا نصب العین ملکی نظام کی درستگی کرنا ہے تاکہ ایوان بالا میں حقداروں کو موقع مل سکے۔'

اس بیان کے برعکس اپوزیشن اور عوامی حلقوں میں بحث ہو رہی ہے کہ یہ ویڈیو ایک ایسے وقت میں بے نقاب ہوئی ہے جب تحریک انصاف حکومت اوپن بیلٹنگ کے حق میں بات کرتے ہوئے صدارتی ریفرنس بھیج کر سپریم کورٹ کی رہنمائی حاصل کر رہی ہے، لہذا افواہیں گردش میں ہیں کہ یہ ویڈیو تحریک انصاف کے پاس پہلے سے موجود تھی اور انہوں نے موقع دیکھ کر اس کو لیک کیا ہے۔

یہ بھی کہا جارہا ہے کہ عمران خان کے پاس اگر یہ ویڈیو موجود تھی تو پھر بھلا کیسے انہوں نے سابق وزیر قانون سلطان محمد خان کو کابینہ کا حصہ بنایا۔

2018 میں اپنی پارٹی کے 20 لوگ نکالتے وقت عمران خان نے بڑے وثوق سے کہا تھا کہ ان کے پاس پکے ثبوت ہیں کہ کس نے ووٹ بیچا ہے۔ مذکورہ ویڈیو میں بھی وہی چہرے ہیں، جن کو ووٹ بیچنے کے الزام میں نکالا جا چکا ہے۔

اس حوالے سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے ایک موجودہ رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 'کل کی ویڈیو ایک ٹریلر ہے جب کہ اس ویڈیو کا بقیہ حصہ آنا ابھی متوقع ہے۔'

انہوں نے کہا کہ اگر ویڈیو غور سے دیکھی جائے تو اس میں بحریہ ٹاؤن کی علامت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بحریہ ٹاؤن میں ہی کوئی جگہ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا: اس ویڈیو میں ایک بااثر شخصیت کو بھی دیکھا جا سکتا ہے، جن کا نام لینے سے میڈیا کترا رہا ہے۔'

اگر یہی کڑیاں ملائی جائیں اور یہ کہا جائے کہ یہ ویڈیو عمران خان کے پاس پہلے سے موجود تھی تو وہ سلطان محمد خان کے حوالے سے کیوں خاموش رہے؟

اس حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت کے معاون خصوصی برائے اطلاعات نے بتایا کہ انہیں نہیں معلوم ویڈیو کہاں سے آئی ہے البتہ وزیر آعظم کو نکالے گئے 20 افراد سے متعلق یقینی اطلاع خود پارٹی کے اندر سے ملی تھی، جسے بعد ازاں ووٹوں کی گنتی نے صحیح ثابت کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ 'تحریک انصاف کے سابق ایم پی اے عبید اللہ مایار کے بیانات بھی دروغ گوئی پر مبنی ہیں کیونکہ نہ تو یہ سپیکر ہاؤس ہے اور نہ ہی ویڈیو میں نظر آنے والے لوگوں کا سپیکر ہاؤس آنا جانا تھا۔'

بقول کامران بنگش: 'جن لوگوں کی پانچ سالہ کارکردگی پہلے ہی اچھی نہیں تھی اور ان کے اپنے حلقوں سے جیتنے کا کوئی امکان نہیں تھا، ان کو ہی تحریک انصاف الیکشن کے لیے کروڑوں روپے بھلا کیوں دیتی؟ یہ ایک ذاتی رہائش گاہ ہے، جہاں ان لوگوں کو پیسے دیے گئے اور پھر خود پیپلز پارٹی نے ہی ثبوت کے طور پر ویڈیو بھی بنائی۔'

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی نگہت اورکزئی نے اس ویڈیو کو رد کرتے ہوئے اسے حکمران جماعت تحریک انصاف کی جانب سے ایک 'سازش' قرار دیا ہے۔

کامران بنگش کے بیانات کے ردعمل میں نگہت اورکزئی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ 'یہ ایک ٹمپرڈ ویڈیو ہے، جسے ایڈیٹنگ کرکے موجودہ شکل دی گئی ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی ہارس ٹریڈنگ پر یقین نہیں رکھتی اور نہ ہی انہیں سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی کے ان چار پانچ ارکان کی حمایت درکار تھی جو ویڈیو میں نظر آرہے ہیں۔

بقول نگہت اورکزئی: 'پی ٹی آئی کو اپنے نمائندوں پر اعتبار نہیں ہے اور ملک میں رواں سیاسی حالات کے تناظر میں وہ آئین میں کسی ترمیم کی صلاحیت بھی کھوچکے ہیں، لہذا عمران خان کی حکومت نے اپنی اوپن بیلٹنگ والی بات منوانے کے لیے پہلے صدارتی آرڈیننس کا سہارا لیا اور اب اس ویڈیو کو سامنے لاکر عدالت عظمیٰ پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ ان کے حق میں فیصلہ آجائے۔'

نگہت اورکزئی کے مطابق تحریک انصاف نے اپنے اس ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے اپنے ہی ارکان کو قربانی کے بھینٹ چڑھا دیا۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنے سینیٹرز کے خلاف کسی قسم کی تادیبی کاروائی کا ارادہ نہیں رکھتی اور نہ ہی اس ویڈیو کے مصدقہ ہونے پر یقین رکھتی ہے۔

ویڈیو کے حوالے سے  پیدا ہونے والے سوالات

یہ ویڈیو، جو بظاہر دو حصوں میں تقسیم ہے، میں دو مختلف مقامات دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک حصے میں ایک لاؤنج ہے، جس میں میز کے اوپر نوٹوں کے بنڈل رکھے گئے ہیں اور جنہیں پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی بیگوں میں ڈالتے جارہے ہیں جبکہ دوسرے حصے میں ایک دفتر میں پیپلز پارٹی کےایم پی اے محمد علی شاہ باچاسگریٹ کے کش لگاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور ان کے سامنے بھی نوٹوں کے بنڈل نظر آرہے ہیں۔ 

اس ویڈیو کے حوالے سے کئی سوالات جواب کے منتظر ہیں لیکن ان پر کوئی بھی بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جبکہ جو بیانات اب تک سامنے آئے ہیں، انہوں نے مزید سوالوں کو جنم دے دیا ہے۔ جیسے کہ ویڈیو ریکارڈ کس نے کی تھی؟ اور اتنا عرصہ خاموش رہنے کے بعد ایک ایسے وقت میں یہ ویڈیو کیوں لیک کی گئی جب کہ سینیٹ الیکشن میں بہت کم وقت رہ گیا ہے اور اوپن بیلٹ کا طریقہ کار اپنانے کی بات بھی ہو رہی ہے۔ مزید یہ کہ اس ویڈیو کو لیک کرنے سے کس کو کیا فائدہ یا نقصان ہوگا؟

ایک سوال یہ بھی ہے کہ ویڈیو اتنا عرصہ سنبھال کر رکھنے  والے اگر اتنے ہی اصول پسند اور ایماندار تھے تو وہ خیبر پختونخوا کے فارغ کر دیے جانے والے وزیر قانون کے حوالے سے تین سال تک خاموش کیوں رہے جب کہ وہ بھی اس ویڈیو میں صاف نظر آرہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ آیا قومی احتساب بیورو (نیب) اس بدعنوانی کے خلاف کارروائی کا آغاز کرے گا؟ یا تحریک انصاف کی حکومت اپنی صفوں میں موجود بدعنوان عناصر اور سیاست میں استعمال ہونے والی رقوم کے حوالے سے تحقیقات شروع کرنے کے لیے نیب کو مینڈیٹ دے گی؟

خیبر پختونخوا کا نیا وزیر قانون کون ہوگا؟

لیک ہونے والی ویڈیو کے بعد وزیر قانون کے مستعفی ہوتے ہی خیبر پختونخوا اسمبلی میں ابھی سے چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں اور قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ کون اس قلمدان کا زیادہ اہل ہے۔

بیرسٹر سلطان  محمد خان کے حوالے سے نہ صرف تحریک انصاف بلکہ اپوزیشن کا بھی ماننا ہے کہ وہ ایک قابل وزیر تھے۔ جن کو نہ صرف قانونی داؤ پیچ کا علم تھا بلکہ وہ پارلیمانی امور پر بھی عبور رکھتے تھے۔

کامران بنگش نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وزیر قانون کا عہدہ سنبھالنے کے لیے دو شرائط ہیں، جن میں کسی امیدوار کا ایڈوکیٹ ہونا اور  پارلیمانی امور پر بھی مہارت رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں ان کی جماعت میں پانچ ارکان اسمبلی وکالت کی تعلیم رکھتے ہیں، جن میں ایڈووکیٹ فضل شکور خان،  ایڈووکیٹ خالد خان، ایڈووکیٹ پیر فدا، ایڈووکیٹ ہمایون خان اور ایڈووکیٹ عائشہ بانو شامل ہیں۔

کامران بنگش نے کہا کہ ان میں زیادہ اہمیت اس امیدوار کو دی جائے گی، جو مندرجہ بالا شرائط کے ساتھ ایک اچھا متکلم اور معاملہ فہم ہونے جیسی خصوصیات بھی رکھتا ہو۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست