وزیر اعظم عمران خان باآسانی اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب

عمران خان نے کھلی رائے شماری کے ذریعے 178 ووٹ حاصل کیے۔ مریم نواز نے اپنے ردعمل میں الزام عائد کیا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کو بنکر بنا کر بندوق کی نوک پر 16 ووٹ حاصل کیے گئے۔

(تصویر بشکریہ پی ٹی آئی ٹوئٹر)

وزیر اعظم عمران خان ہفتے کو پارلیمان میں اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو گئے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق گذشتہ بدھ کو سینیٹ میں ایک اہم نشست سے ہاتھ دھونے کے بعد ان کو قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا تھا۔

آج ووٹنگ سے قبل پارلیمنٹ کے باہر ہنگامہ آرائی ہوئی، جس دوران مقامی ٹی وی چینلز پر سابق وزیر داخلہ اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما احسن اقبال پر جوتا پھینکے جانے کا واقعہ دکھایا گیا۔

عمران خان نے 340 نشستوں پر مشتمل قومی اسمبلی میں کھلی رائے شماری کے ذریعے 178 ووٹ حاصل کیے جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت حزب اختلاف کی دیگر بڑی جماعتوں نے اس ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم پر اعتماد کے حوالے سے قرارداد پیش کی۔ ایوان کی کارروائی شروع ہونے پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پانچ منٹ تک ایوان میں گھنٹیاں بجا کر ارکان کی حاضری یقینی بنائی، جس کے بعد ایوان کے تمام دروازے بند کردیے گئے تاکہ کوئی رکن باہرجاسکے نہ کوئی باہرسے اندرآئے ۔

سپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم پراعتماد کی قرارداد پڑھنے کے بعد ارکان سے کہا کہ اس کے حق میں ووٹ ڈالنے کے خواہش مند شمارکنندگان کے پاس ووٹ درج کروا دیں۔ تمام اراکین کا ووٹ درج ہونے کے بعد سپیکر نے رائے دہی مکمل ہونے کا اعلان کیا۔ 

وزیر اعظم نے بطور پارٹی چیئرمین پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی کو خط لکھا تھا، جس میں کہا گیا کہ آج دوپہر سوا 12 بجے ہال اور چیمبر کے دروازے بند ہو جائیں گے، ارکان اس سے پہلے پہلے اسمبلی میں پہنچ جائیں۔

خط میں تنبیہ کی گئی تھی کہ پارٹی کا جو رکن غیر حاضر رہا، اس کے خلاف آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت ایکشن لیا جا سکتا ہے، عدم حاضری کی صورت میں رکن کےخلاف نااہلی کی کارروائی شروع کی جائے گی۔

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایک خط کے ذریعے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو وزیر اعظم عمران خان کے حق میں اعتماد کے ووٹ کے نتائج سے آگاہ کر دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ایوان کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔

یاد رہے کہ صدر نے عمران خان کو آئین کے آرٹیکل 91(7) کے تحت قومی اسمبلی سے ایوان کا ووٹ حاصل کرنے کی ہدایت کی تھی، جس کی کامیابی کی صورت میں وزیر اعظم آئندہ چھ ماہ کے لیے عدم اعتماد کے خلاف محفوظ ہو جاتا ہے۔

اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ایک بار پھر حزب اختلاف کی جماعتوں اور ان کی قیادت پر ’قومی دولت کو لوٹنے‘ کا الزام دہرایا۔

انہوں نے کہا: ’یہ دہائیوں کی تاریکی تھی جس کو دونوں پارٹیوں نے قومی اداروں کو برباد کرنے کے لیے استعمال کیا۔‘

انہوں نے ارکان اسمبلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے احساس تھا کہ حفیظ شیخ کے سینیٹ میں ہارنے پر آپ سب کو دل سے تکلیف ہوئی۔ مجھے آپ میں ایک ٹیم نظر آئی اور ہماری یہ ٹیم مضبوط ہوتی جائے گی کیونکہ اللہ قرآن میں کہتا ہے کہ میں تمہارے ایمان کو بار بار آزماؤں گا۔‘

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ جب آپ مشکل وقت سے نکلتے ہیں تو اور مضبوط ہوجاتے ہیں، بڑا انسان بننے کے لیے مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کوئی جماعت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب وہ مشکل وقت سے گزرتی ہے، آج میں اپنی جماعت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ آپ اس مشکل وقت سے نکلے ہیں۔

 

’ہمیں کبھی یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان کیوں بنا تھا کیونکہ جب قوم اپنے نظریے سے پیچھے ہٹتی ہے تو وہ مرجاتی ہے۔‘

عمران خان نے کہا کہ ’ہماری قیادت کو پتہ ہونا چاہیے کہ پاکستان ایک بہت بڑا عظیم خواب تھا، پاکستان کا خواب دیکھنے کی وجہ یہ تھی کہ ہم نے دنیا کو مثال دینی تھی کہ اصل میں ایک اسلامی ریاست کیا ہوتی ہے اور اس کی بنیاد مدینہ کی ریاست پر تھی جو دنیا کی تاریخ کی پہلی فلاحی ریاست بنی تھی۔‘

بعد ازاں سینیئر اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے پارلیمنٹ کے باہر پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اعتماد کے ووٹ کو ’غیر قانونی اور غیر آئینی‘ قرار دیتے ہوئے کہا یہ حکومت عوام کو دھوکہ دے رہی ہے۔

’وزیر اعظم نے بندوق کی نوک پر اعتماد کا ووٹ لیا‘

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے ردعمل میں الزام عائد کیا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کو بنکر بنا کر بندوق کی نوک پر 16 ووٹ حاصل کیے گئے۔

انہوں نے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اتنی گھبرائی ہوئی تھی کہ 16 ارکان قومی اسمبلی کے ساتھ ایک، ایک بندہ مقرر کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی جب حزب اختلاف میں تھی تب بھی پارلیمنٹ میں غنڈہ گردی کرتی تھی اور اب جعلی ہتھکنڈوں سے سلیکٹ ہو کر حکومت میں آنے کے بعد بھی اسی رویے پر قائم ہے۔

’پارلیمنٹ کے باہر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے ن لیگی رہنماؤں پر حملے پر مجھے کوئی تعجب نہیں کیونکہ ان کا اخلاقیات یا جمہوریت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ آج پاکستان کی ہر ماں اور بیٹی کا سر شرم سے جھک گیا۔’ن لیگ خیراتی جماعت نہیں ہے اور جو کچھ آج ہوا ہے ہم اسے کبھی نہیں بھولیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ حکومت کے دن گنے جا چکے کیوں کہ ’سکیورٹی کے حصار میں آنے والوں کی سکیورٹی اب بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومت کی سیاسی موت واقع ہوچکی اب صرف تجہیز و تکفین باقی ہے کیوں کہ عوام ان کا محاسبہ اورمحاصرہ کرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ آنےوالے دنوں میں حکومت کا جانا ٹھہر گیا ہے۔ بس اب تو یہ صبح گئے کہ شام گئے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ حکومت ایک سیٹ کی مار ہے۔ یوسف رضا گیلانی ایک سیٹ کیا جیتے، ان کے دماغی توازن ہل کر رہ گئے اور وہ پاگل پن کا شکار ہوگئے ہیں۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس موقعے پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عمران خان یوسف رضا گیلانی کی طرح اپنے ارکان کو عزت دیتے تو آج یہ نہ ہوتا۔’میں وزیراعظم صاحب سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کو گیلانی صاحب سے سیکھنا چاہیے تھا۔‘

اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد عمران خان کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ وزیراعظم پارلیمان میں کھڑے ہو کر گالیاں نکالتے ہیں۔

پارلیمنٹ کے باہر ہونے والے ہنگامہ آرائی پر پی پی پی رہنما نے کہا کہ عمران خان نے اس حملے کی  مذمت کی اور نہ ہی افسوس کا اظہار کیا۔ ’ہمیں اس واقعے کی مذمت کرنا چاہیے اور پیپلزپارٹی کا کارکن کسی خاتون پر ہاتھ نہیں اٹھاتا۔ اس کے علاوہ نوازشریف، زرداری اور فضل الرحمٰن کے کارکن ایسی روایت نہیں اپناتے۔ حکومتی ارکان جمہوریت پسند ہیں اور نہ  سیاست دان۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ فیصلہ ہم کریں گے کہ سپیکر کو کب ہٹانا ہے کیوں کہ آپ کو پارلیمان کی سپورٹ ہے نہ ہی عوام کی۔‘

پی ڈی ایم کے آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے بلاول نے کہا کہ ’کب، کہاں اور کس کے خلاف عدم اعتماد ہوگا یہ فیصلہ پی ڈی ایم کرے گی۔‘ بلاول بھٹو نے کہا کہ سینیٹ کی ایک سیٹ نے اس کٹھ پتلی نظام کو بے نقاب کردیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے آج سکھر میں اعتماد کے ووٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے واضح طور پر کہا کہ صدر اگر سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم اکثریت کھو بیٹھے ہیں تو وہ پارلیمان کا اجلاس طلب کرسکتے ہیں۔

’اس کے برعکس جعلی وزیر اعظم نے ایک سمری کے ذریعے اجلاس طلب کیا۔ اس طرح کے اجلاس سمری بھیج کر طلب نہیں کیے جا سکتے اور یہ سب ایک ڈرامہ ہے۔ ہم آج کے اسمبلی اجلاس کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی ہم اس نام نہاد اعتماد کے ووٹ کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ اعتماد کا ووٹ نہیں تھا۔

’ہم جانتے ہیں کہ کون سی ایجنسیوں نے پوری رات اسمبلی ممبران کی نگرانی کی۔ ہمیں معلوم ہے کس نے ہر ممبر کے دروازے کھٹکٹائے تاکہ اس بات کا یقین کیا جا سکے کہ وہ اجلاس میں موجود ہوں۔‘

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے آج اسمبلی کے سیشن کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا تھا جس کی وجہ سے اپوزیشن بینچز خالی نظر آئیں ماسوائے جماعت اسلامی کے واحد ایم این اے مولانا عبدالاکبر چترالی اور پی ڈی ایم رہنما محسن داوڑ کے، جنھوں نے آج کے سیشن میں حصہ لیا۔

محسن داوڑ نے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں الزام لگایا کہ پی ٹی آئی نے آج اپنے جو نمبرز بتائے اور دکھائے، اتنے ارکان ہاؤس میں موجود نہیں تھے، اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان