سیاسی بلوغت یا سیاہی

حکومت ہی کو ملک میں سیاسی بلوغت اور برداشت کی فضا کو پروان چڑھانا اور قائم کرنا چاہیے جبکہ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے کارکنوں کو رہنماؤں کے عشق میں اندھا نہ ہونے کی تربیت دیں۔

شہباز گل (ٹوئٹر اکاونٹ)

پاکستانی سیاست میں بارہا سنا جاتا رہا ہے کہ ملک اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے۔۔۔

اکثر اس نازک دور سے مراد ملک میں سیاسی عدم استحکام کی صورت حال ہوتی ہے۔

آج کل بھی کچھ ایسا ہی نازک دور چل رہا ہے۔

لیکن اس باریہ نازک صورت حال ملک کی سیاست میں پنپنے والے عدم برداشت کے ماحول کی وجہ سے ہے۔

اس وقت پاکستانی سیاست کا مہور بیان بازی، الزام تراشی، ذاتی حملوں اور گالم گلوچ سے بڑھ کر پرتشدد کارروائیوں جیسے سنگین عمل تک آن پہنچا ہے۔

سیاسی اختلاف اب ذاتی اختلافات میں بدلتے جا رہے ہیں۔

سیاسی عدم برداشت کا یہ ماحول گذشتہ چند سالوں سے انتہائی تیزی سے پروان چڑھا۔

ایک واقع سپریم کورٹ میں پیش آیا جو جسٹس افتخار چوہدری کی برطرفی کا معاملہ عروج پر تھا۔

پھر گذشتہ انتخابات سے صرف چار ماہ قبل مارچ ہی کے مہینے میں پہلے سابق وزیرخارجہ خواجہ آصف پر سیاہی پھینکی گئی۔ جس کے ٹھیک ایک ہفتے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف پر جوتا پھینکا گیا اور پھر سابق وزیر داخلہ احسن اقبال پر جان لیوا حملہ کیا گیا۔

یہ واقعات خطرے کی گھنٹیاں بجانے کے لیے کافی ہونے چاہیے تھے۔

سیاسی قیادت کو ان واقعات سے سبق لے لینا چاہیے تھا۔ تاہم بدقسمتی سے سیاسی اختلافات کو ذاتی اختلاف اور دشمنیوں میں بدلنے کی روایت کو لگام نہیں ڈالا جاسکا۔

اس حکومت کے دور میں تو ان اختلافات کی آگ کو مزید ہوا دی جاتی رہی۔ ہر سیاسی مخالف یا تو چور ڈاکو ٹہرایا گیا یا پھر اس سیاسی حریف کے خلاف ایسا بیانیہ بنایا گیا جس کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان بھی عدم برداشت کی فضا تشویش ناک حد تک قائم ہوتی گئی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سیاسی مخالفین پر ذاتی حملے، چرب اور نازیبا زبان عام سی بات بن چکی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اور اب اس خوفناک زبان کے اظہار پر عمل پرتشدد کارروائیوں کی صورت میں سامنے آتا دکھائی دے رہا ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ سیاسی مخالفین پر ہونے والے حملوں کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے مذمت تو کی جاتی ہے تاہم ان کارروائیوں کو جائز قرار دینے کے لیے تاویلیں بھی تیار کی جاتی ہیں۔

حال ہی میں وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کی کارروائی کے دوران پارلیمان کے باہر تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، مریم اورنگزیب، احسن اقبال اور مصدق ملک پر ہونے والے حملے نے اس عدم برداشت کے انتہا تک پہنچ جانے کا ایک اور ثبوت دیا۔

لیکن بدقسمتی سے حکومتی جماعت کی جانب سے اس حملے کو بھی سیاسی مخالفت کی آڑ میں جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی رہی۔

ملک میں سیاسی اور اخلاقی برتری کی ذمہ داری حکومت اور سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے۔ حکومت ہی کو ملک میں سیاسی بلوغت اور برداشت کی فضا کو پروان چڑھانا اور قائم کرنا چاہیے جبکہ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے کارکنوں کو رہنماؤں کے عشق میں اندھا نہ ہونے کی تربیت دیں۔

تاہم جب حکومت ہی کی جانب سے اس عمل کے برخلاف اقدامات ہوں تو پھر وہ ہی ہوتا ہے جو وزیر اعظم کے معاون شہبازگل کے ساتھ ہوا۔

لاہور ہائی کورٹ میں پیشی کے دوران شہباز گل پر ہونے والے حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ایسا عمل ناصرف سیاسی بلوغت کے لیے زہر قاتل ہے وہیں معاشرے کی اخلاقی گراوٹ اورجمہوری نظام کے لیے بھی سنگین خطرات لاحق ہونے کا باعث بنے گا۔

ایسی صورت حال میں حکومت اور اپوزیشن کو فوری طور پر مل کر بیٹھنا ہوگا اور باہمی اختلافات کو ذاتی اختلافات میں بدلنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے ہوں گے۔

ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ