کئی کھلاڑیوں کے بلے مرمت کرنے والے ملتان کے ’بیٹ کے انجینیئر‘

ملتان کے علی عمر پیشے سے تو انجینیئر ہیں مگر بلے بنانے کے شوق کو پورا کرتے کرتے بلے بنانے اور ان کی مرمت کے لیے مشہور ہوگئے ہیں۔

کرکٹ بیٹ بنانے کے ماہر علی عمر نے سہیل مقصود ،عامر یامین، سلمان بٹ، ہاشم آملہ، کامران غلام اور ذیشان اشرف سمیت کئی کھلاڑیوں کے بیٹ کی مرمت کی ہے۔

ملتان کی سبزازار کالونی کے رہائشی علی عمر انجینیئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بلے سازی کی طرف آئے اور بلے بنانے کے شوق کو پورا کیا۔ اب علی عمر نہ صرف پاکستان میں بلکہ پاکستان سے باہر بھی ’بیٹ کے انجینیئر‘ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

علی عمر نے بتایا کہ ملتان میں جب نیشنل ٹی ٹوئنٹی ہو رہا تھا تو اس دوران سلمان بٹ، جو کہ پاکستانی ٹیم کے کپتان بھی رہ چکے ہیں، کا بیٹ خراب ہوا تو انہوں نے پوچھا کہ ملتان میں ایسا کوئی بندہ ہے جو ان کے بیٹ کو ٹھیک کر سکے۔

 

’تو اس طرح انہیں میرا بتایا گیا اور پھر میں ہوٹل گیا جہاں ٹیم ٹھہری ہوئی تھی۔ میں وہاں سے بیٹ لے آیا اور صیحح کر کے دیا۔‘

علی عمر نے مزید کہا: ’بعد میں سلمان بٹ نے بتایا کہ یہ بیٹ ہاشم آملہ کا تھا اور انہیں گفٹ ملا اور بعد میں یہ بیٹ سہیل مقصود کو دے دیا گیا۔‘

علی عمر کے مطابق بیٹ کو پلیئر کی سوچ کے مطابق بنانا پڑتا ہے کہ انہیں کہاں کتنے پاؤنڈ کا ویٹ چاہیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جس طرح لوگوں کو  سیروتفریح کا شوق ہوتا ہے یا سکے جمع کرنے کا اسی طرح علی کو بلے بنانے کا سوق تھا۔ ’گھر والوں کا دباؤ پڑھائی کی طرف تھا کیونکہ میرا ایک بھائی ڈاکٹر تھا تو گھر والے چاہتے تھے کہ میں انجینیئر بنوں۔ میں انجینیئرنگ کی ڈگری حاصل کی تاہم میرا بلا سازی کا شوق ختم نہیں ہوا اور ڈگری کے بعد ملازمت بھی کی اور اس کے بعد اپنے شوق کو پورا کرنے کی ٹھانی اور آج اس مقام پر ہوں۔‘

علی عمر کے مطابق ایک وہ وقت آیا کہ ہم ٹیپ بال سب سے خوبصورت بنانے لگےاور پاکستان میں سب سے زیادہ کرکٹ بھی ٹیپ بال کی ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’ہارڈ بال کو بنانا سب سے مشکل آرٹ ہے کیونکہ ہارڈ بال بہت بھاری ہوتی ہے اور اگر ہارڈ بال سے بیٹ کو نقصان ہو تو دوبارہ اسے اس طرح بنانا ہوتا ہے کہ پھر وہاں سے نہ ٹوٹے، اور مجھے خوشی ہے کہ اب میرا نام ہارڈ بال میں بننا شروع ہو گیا ہے۔‘

علی عمر نے خود تو کسی ملک کا سفر نہیں کیا تاہم ان کے بنائے گئے بیٹ سعودی عرب، دبئی، جرمنی اور امریکہ میں ریگولر جا رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ