کیا عمران خان نے قرنطینہ سے باہر آنے میں جلدی کر دی؟

وزیر اعظم عمران خان کی ایک تصویر شبلی فراز اور سینیٹر فیصل جاوید نے شیئر کی ہے جس میں عمران خان کو اپنی میڈیا ٹیم کے بیچ میں بیٹھا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ 

(تصویر: سینیٹر شبلی فراز/ ٹوئٹر)

وزیر اعظم عمران خان کی ایک تصویر شبلی فراز اور سینیٹر فیصل جاوید نے شیئر کی ہے جس میں عمران خان کو اپنی میڈیا ٹیم کے بیچ میں بیٹھا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

عمران خان نے عام دس روپے والا ماسک پہن رکھا ہے، جب کہ ان کے ملاقاتیوں میں صرف ایک شخص کے منہ پر کے این 95 ماسک ہے، باقیوں نے عام کپڑے کے ماسک لگائے ہوئے ہیں۔

مقامی میڈیا پر چلنے والی خبروں کے مطابق قرنطینہ میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس ہوا ہے جس میں شبلی فراز، فیصل جاوید، ذلفی بخاری، یوسف بیگ مرزا اور اعظم خان  نے شرکت کی ہے۔ 

اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، کرونا کے پھیلاؤ اور ویکسنیشن کے عمل پر تبادلہ خیال ہوا۔

یاد رہے کہ 20 مارچ کو وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت فیصل سلطان نے اعلان کیا تھا کہ عمران خان کو کرونا ہو گیا ہے۔

68 سالہ عمران خان نے اس سے صرف دو روز قبل کرونا کی چینی ساختہ سائنو فارم ویکسین لگوائی تھی۔ عمران خان کے قریبی ساتھیوں نے کہا تھا کہ انہیں معمولی بخار اور کھانسی کی علامات ہیں۔ اس کے بعد عمران خان قرنطینہ میں چلے گئے تھے۔

بعد میں ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے بارے میں کہا گیا تھا کہ انہیں بھی کرونا ہو گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کرونا مثبت آنے کے صرف پانچ دن بعد کیا وزیرِ اعظم لوگوں سے میل جول رکھ سکتے ہیں؟ کہیں وہ ایسا کر کے لوگوں کو خطرے میں تو نہیں ڈال رہے؟

اس بارے میں خود پاکستان کی سرکاری ہدایات کیا کہتی ہیں؟

حکومتِ پاکستان کی منسٹری نیشنل ہیلتھ سروسز نے اپنی ویب سائٹ covid.gov.pk پر کرونا کے مریضوں کی قرنطینہ کے بارے میں ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے، جس کا عنوان ہے: Guidelines Home Quarantine during COVID 19 Out-break

اس ہدایت نامے میں مشورہ دیا گیا ہے کہ کب قرنطینہ ختم کیا جائے۔

’پہلی بار علامات ظاہر ہونے کے کم از کم دس دن کے بعد۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگر امریکہ کی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول کی قرنطینہ ختم کرنے کی ہدایات دیکھی جائیں تو صورتِ حال مزید واضح ہو کر سامنے آتی ہے:

’پہلی بار علامات ظاہر ہونے کے دس دن بعد اور بغیر دواؤں کے بخار ختم ہونے کے 24 گھنٹے بعد۔‘

اس کے علاوہ عالمی ادارۂ صحت نے بھی اس سلسلے میں ہدایات جاری کی ہیں۔

ان میں لکھا ہے کہ کرونا مریضوں کو علامات ظاہر ہونے کے دس دن بعد جبکہ علامات ختم ہونے کے کم از کم مزید تین دن بعد قرنطینہ سے نکلنا چاہیے۔

عمران خان کی اس تصویر اور ملاقات سے ظاہر کہ ان کی علامات ختم ہو چکی ہیں، لیکن ابھی ان کی علامات ظاہر ہوئے صرف پانچ دن گزرے ہیں۔ اس لیے خود ان کی اپنی حکومت کی جاری کردہ ہدایات کی روشنی میں انہیں قرنطینہ توڑنے کے لیے ابھی کم از کم مزید پانچ دن انتظار کرنا چاہیے تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ