پراپرٹی کاروبار پر کھڑی معیشت اور اسلم کے مسائل

وکیلوں کے دھکے کھانے اور اپنے جیسے مزید متاثرین سے ملاقاتیں کرنے کے بعد اسلم کو علم ہوا کہ ملک کی بڑی ہاؤسنگ سکیمیں بھی اسی فراڈ میں ملوث ہیں لیکن ان کا طریقہ ورادت زیادہ پروفیشنل ہے۔

(اے ایف پی)

اسلم کے پاس دو کروڑ روپے سرمایہ تھا۔ وہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ یہ رقم کس کاروبار میں لگائی جائے۔ ابھی وہ اس کشمکش میں مبتلا تھا کہ اس نے ٹی وی پر خبر دیکھی کہ حکومت نے کنسٹرکشن ایمنسٹی سکیم جاری کر دی ہے۔

اس نے جب اپنے دوست سے پوچھا کہ کنسٹرکشن ایمنسٹی سکیم کیا ہے تو اس نے بتایا کہ جو بھی شخص پراپرٹی میں سرمایہ لگائے گا اس سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ رقم کہاں سے آئی۔ وہ سوچنے لگا کہ میرا دو کروڑ روپیہ بھی سفید ہو جائے گا اور کاروبار بھی شروع ہو جائے گا۔

دفتر سے گھر پہنچنے تک وہ یہ فیصلہ کر چکا تھا کہ اس نے ریئل سٹیٹ کے کاروبار میں پیسہ لگانا ہے۔ اگلے دن سے اس نے مختلف ہاوسنگ سوسائیٹز کا وزٹ شروع کر دیا۔ ایک اسکیم میں اسے پلاٹ کا ریٹ مناسب لگا۔ کیش میں پلاٹ خریدا اور فائل ہاتھ میں تھام کو خوشی خوشی گھر روانہ ہو گیا۔ بیوی بچوں کو جا کر خوشخبری سنائی کہ کم ریٹ پر اچھا پلاٹ حاصل کر لیا ہے۔ لیکن یہ خوشی زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکی۔

اگلے دن جب وہ اپنے ہم زلف کے پاس گیا تو اس نے بتایا کہ یہ سوسائٹی تو ایل ڈے اے سے منظور شدہ ہی نہیں ہے۔ اسلم نے پوچھا کہ وہ کیا ہوتا ہے۔ ہم زلف نے آسان الفاظ میں بتایا کہ اگر تم اس جگہ پر گھر بناؤ گے تو حکومت کسی بھی وقت اس گھر کو گرا کر زمین قبضے میں لے سکتی ہے۔ کیونکہ حکومت نے اس جگہ پر گھر بنانے کی اجازت نہیں دے رکھی۔ اسلم کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ وہ فوراً سوسائٹی کے دفتر پہنچا جہاں اسے بتایا گیا کہ ایل ڈی اے میں منظوری کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔ جلد ہی منظور ہو جائے گی۔

اس معاملے کو ابھی دس دن بھی نہیں گزرے تھے کہ اسلم کو دوست نے بتایا کہ تم نے جو پلاٹ لیا تھا اس پر مکان تعمیر ہو رہا ہے۔ وہ فوراً جگہ پر پہنچا تو علم ہوا کہ وہ پلاٹ تین اور لوگوں کو بھی بیچا جا چکا ہے۔ وہ سوسائٹی کے دفتر پہنچا تو اسے کہا گیا کہ آپ کو اس سے بہتر پلاٹ کسی اور بلاک میں دیں گے۔ چار ماہ وہ دفتر کے چکر لگاتا رہا لیکن کوئی حل نہیں نکلا۔ اسے نے تھانے میں درخواست دی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ وہ پھر ایف آئی اے چلا گیا جہاں کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ پھر اس نے نیب میں درخواست دے دی۔ جہاں معاملہ ابھی تک زیرالتوا ہے۔ اسلم نے اپنی حیثیت کے مطابق ایک معمولی وکیل کی خدمات حاصل کی ہیں اور اس فکر میں مبتلا ہے کہ ریاست اسے انصاف لے کر دے گی یا نہیں۔ اسی کشمکمش میں اس نے ٹی وی دیکھا تو حکومتی کامیابیوں کی خبریں چل رہی تھیں۔  اسلم مزید کن مسائل کا شکار ہوا اس کا ذکر میں آگے چل کر کرتا ہوں۔ پہلے ایک نظر حکومتی دعووں پر بھی ڈال لیتے ہیں۔

اگر حکومتی اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو سیمینٹ سیکٹر کے پاس اس کی استعداد سے زیادہ آرڈرز موجود ہیں۔ پاکستان میں تعمیراتی شعبے کی ترقی کا اندازہ سیمنٹ کے فروخت سے لگایا جاتا ہے۔ جنوری 2021 میں سیمنٹ کی فروخت پچھلے سال جنوری 2020 کے مقابلے میں 16.28 فیصد بڑھی ہے۔ مقامی سیمنٹ کی سیل میں 23.67 فیصد اضافہ ہوا ہےاور برآمدات میں 14 فیصد کمی ہوئی ہے۔ برآمدات میں کمی کی وجہ کپیسٹی سے زیادہ مقامی آرڈرز میں اضافہ ہونا ہے۔

استعداد بڑھانے کے لیے اربوں روپوں کی مشینری درآمد کرنا پڑی ہے۔ اینٹوں کی ڈیمانڈ بھی بڑھ چکی ہے جس کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں بھی 36 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ بھٹا مالکان آرڈرز پورے کرنے سے قاصر ہیں۔ اگر بجری ریت کی بات کی جائے تو ڈیمانڈ زیادہ ہونے کے باعث تقریباً 30 فیصد سے زائد قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ کنسٹرکشن کو صنعت کا درجہ دیا گیا۔ 40 سے زیادہ شعبوں میں ترقی دیکھی جا رہی ہے۔ دسمبر میں ایمنسٹی ختم ہو رہی تھی جسے توسیع دے دی گئی ہے۔ 186 ارب روپے کے تعمیراتی منصوبے رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ تقریباً 116 ارب روپے کے منصوبے پائپ لائن میں ہیں۔

منصوبوں کی تعداد میں اس قدر تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کہ صرف کراچی شہر میں 250 سے زیادہ منصوبے وقت کی قلت کے باعث منظوری کے مراحل میں ہیں۔ روزگار بڑھ رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہزار گز کے ایک پلاٹ پر کمرشل مارکیٹ تعمیر کرنے میں سات سو سے زیادہ لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔ ہزاروں پراجیکٹس کی تعمیر لاکھوں نوکریاں پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہے۔ صرف پنجاب میں اڑھائی لاکھ سے زائد روزگار پیدا ہونے کی توقع ہے۔ لینڈ ریکارڈ کو ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے تاکہ مقامی سطح کے علاوہ بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے خریدوفروخت میں آسانی پیدا ہو سکے۔

اس کے علاوہ بینکنگ سیکٹر نے بھی تعمیرات کے شعبے کو سپورٹ کیا ہے۔ پاکستان میں کنسٹرکشن سیکٹر کو قرض دینے کی شرح ایک فیصد سے بھی کم تھی جسے اب بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سٹیٹ بینک نے بینکوں کو پابند کیا ہے کہ تعمیرات کے شعبے کو قرض دینے کی شرح کو پانچ فیصد تک لائیں۔

اس کے علاوہ حکومت نے ڈسکاؤنٹ ریٹ اور آسان شرائط پر عوام کو گھروں کے لیے قرض دینے کی سہولت بھی بینکوں کے ذریعے مہیا کی ہے۔ حکومت نے کمرشل بینکوں کو پابند کیا ہے کہ نیا پاکستان ہاوسنگ پراجیکٹس کے تحت قرض درخواست کو ایک ماہ کے اندر نمٹا کر سرکار کو رپورٹ کی جائے۔ اس کے علاوہ پچھلے ہفتے قرض کی رقم میں اضافہ اور شرائط کو مزید آسان کر کے بھی عوام کو سہولت دی جا رہی ہے۔

لیکن اسلم کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات میرے لیے بے معنی ہیں۔ مجھے ان پر اس وقت یقین آئے گا جب میری ڈوبی ہوئی رقم واپس ملے گی۔ اگر حکومت کے عام آدمی کو دیے گئے آسان قرض کی رقم ایک ہاؤسنگ سکیم کا مالک لوٹ لیتا ہے تو اس قرض کا کیا فائدہ؟

سچ یہ ہے کہ اب اس کا سرمایہ تقریباً ڈوب چکا ہے لیکن دل میں ابھی بھی ایک امید باقی ہے کہ شاید حکومت اس سمیت لاکھوں لوگوں کی داد رسی کرے اور ان کی رقم واپس مل جائے۔ پاکستان کا قانون تو ایسے معاملات میں سود سمیت رقم کی واپسی کا یقین دلاتا ہے، بلکہ نیب کے قانون میں درج ہے کہ متاثرین کی رقم میں وقت کے حساب سے شرح سود کا اضافہ کر کے ملزم سے رقم وصول کی جائے اور متاثرین کو دی جائے۔

پاکستان میں قانون بنا دیا جاتا ہے لیکن عمل درآمد نہ ہونے کے باعث بہترین قوانین بھی اپنی حیثیت کھو چکے ہیں۔

اب میں اسلم کے مسائل کی طرف واپس آتا ہوں۔ اس نے وکیل سے پوچھا کہ کیااس کے پیسے واپس مل جائیں گے۔ پہلے وکیل امید دلاتا رہا۔ لیکن بارہا اصرار پر اس نے سچ بتا دیا۔ وکیل نے کہا کہ اوّل تو سکیم کا مالک قانونی حربے استعمال کر کے نیب کی گرفتاری سے بچ جائے گا۔ اگر پکڑا بھی گیا تو نیب کے پلی بارگین قانون کے مطابق ٹوٹل فراڈ کا تقریباً چوتھا حصہ دے کر آزاد ہو جائے گا۔ یعنی کہ اوّل تو تمہیں کچھ ملنا نہیں اور اگر کچھ ملا بھی تو صرف 20 لاکھ روپے ملیں گے اور وہ بھی کئی سالوں بعد۔ باقی 80 لاکھ تو تم ڈوبے ہی سمجھو۔

اسلم کے لیے یہ خبر مایوس کن تھی اور حیران کن بھی۔ وہ گھر جاتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ یہ کیسا ملک ہے جہاں لوگ سینہ تان کر دھڑلے سے فراڈ کرتے ہیں اور ان کا احتساب کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ حکومتی وزرا عوام پر احسان کرنے کے انداز میں ٹی وی پر آکر کہتے ہیں کہ کنسٹرکشن ایمنسٹی اسکیم نے 40 سے زیادہ صنعتوں کو چلا دیا ہے لیکن اس مسئلے پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں کہ حکومت کی ناک کے نیچے ہزاروں کی تعداد میں غیر قانونی سوسائٹیاں کام کر رہی ہیں، جہاں لاکھوں عوام کی زندگی بھر کی جمع پونجی کو لوٹا جا رہا ہے لیکن ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔

وہ سوچ رہا تھا کہ بہت سے لوگوں کو ابھی تک اندازہ نہیں ہوا کہ ان کے ساتھ فراڈ ہو چکا ہے اور نیب بھی شاید اس لیے ان کے خلاف ایکشن لینے سے قاصر ہے کہ اس سے ریئل اسٹیٹ کے کاروبار کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور ممکن ہے کہ موجودہ حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے کے بعد نیب ریئل سٹیٹ کے فراڈ پر ہاتھ ڈالے، اس وقت تک کافی دیر کو چکی ہو گی اور بہت سے معصوم لوگ فراڈ کا شکار ہو چکے ہوں گے۔ اگر ادارے فوری کارروائی کریں تو مزید لوگوں کی جمع پونجی ضائع ہونے سے بچائی جا سکتی ہے۔

اس دوران ایمنسٹی سکیم کے ماہر وکیل سے ملاقات ہوئی تو اسلم کو یہ بھی معلوم ہوا کہ جس ایمنسٹی کو حاصل کرنے کے لیے اس نے دو کروڑ روپیہ لگایا تھا وہ رہائشی گھروں کے لیے نہیں تھی بلکہ کمرشل پراجیکٹس کے لیے تھی۔ اس نے جب یہ خبر پراپرٹی میں سرمایہ لگانے والے عام لوگوں سے شیئر کی تو وہ مزید حیران ہوا کہ انھیں بھی اس بات کا علم نہیں تھا۔ کیونکہ حکومت کی طرف سے اشتہارات میں اسے مبینہ طور پر جان بوجھ کر کنفیوز رکھا گیا تھا۔ جب اس نے ایک کمرشل پراجیکٹ بنانے والے سے پوچھا کہ تم یہ عمارت کیوں بنا رہے ہو تو اس نے بتایا کہ مجھے اس پر ایمنسٹی ملے گی۔ لیکن جب اس نے پوچھا کہ کیسے ملے گی۔ تو وہ بھی طریقے سے لاعلم تھا۔

اس نے کہا کہ جب سال بعد ٹیکس ریٹرن جمع کرواؤں گا تو حکومت کو بتا دوں گا کہ یہ پیسہ ایمنسٹی کے تحت لگایا ہے۔ لہٰذا اسے وائٹ تصور کیا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسلم اور اس کا دوست آج تک یہ نہیں جانتے کہ ایمنسٹی حاصل کرنے کے لیے پراجیکٹ شروع کرنے سے پہلے حکومت کو بتانا پڑتا ہے۔ شرائط پوری ہونے کے بعد ایمنسٹی کی منظوری ملتی ہے۔ اس کے بعد آپ ہراجیکٹ شروع کریں گے تو ایمنسٹی ملے گی۔ ایسا نہیں ہے کہ جب دل چاہا پراجیکٹ شروع کر لیا اور جب دل چاہا ایمنسٹی کلیم کر لی۔ اسے معلوم ہوا بہت سے لوگ ایمنسٹی کے چکر میں دھڑا دھڑ پیسہ لگا رہے ہیں لیکن اکثریت اس کی اصل روح سے ناواقف ہے۔

وکیلوں کے دھکے کھانے اور اپنے جیسے مزید متاثرین سے ملاقاتیں کرنے کے بعد اسلم کو علم ہوا کہ ملک کی بڑی ہاؤسنگ سکیمیں بھی اسی فراڈ میں ملوث ہیں۔ لیکن ان کا طریقہ ورادت زیادہ پروفیشنل ہے۔ وہ سب سے پہلے سوسائٹی کا ایک بلاک ایل ڈی اے، سی ڈی اے یا کے ڈی اے سے منظور کرواتے ہیں۔ اس کے بعد اشتہار جاری کرتے ہیں جس پر جلی حروف سے لکھا ہوتا ہے گورنمٹ سے منظور شدہ۔ لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ صرف ایک بلاک منظور ہے۔ الفاظ کے ہیر پھیر سے عوام کو دھوکہ دیا جاتا ہے اور ایک بلاک منظور کروانے کے بعد 10 بلاکس بغیر منظوری کے بیچ دیتے ہیں۔

اسی دوران وہ احتیاطاً سرکار کے نام مزید بلاکس کی منظوری کے لیے درخواست بھی جمع کروا دیتے ہیں۔ جب کوئی متاثرہ شخص اپنا کیس لے کر آتا ہے تو اسے وہ درخواست دکھا دی جاتی ہے کہ سرکار دیر کر رہی ہے۔ جلد ہی معاملہ حل ہو جائے گا۔

اسلم کی کہانی جیسی کہانیاں روز سامنے آ رہی ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ حکومت ان پر کان دھرنے کو تیار نہیں۔ اہل اقتدار سے گزارش ہے کہ موجودہ متاثرین کے معاملات کو سنجیدہ لیں اگر لاپرواہی برتی گئی تو آنے والے دو سالوں میں کنسٹرکشن اور رئیل سٹیٹ میں فراڈ سے متاثر ہونے والوں کی تعداد ایمنسٹی سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد سے بڑھ سکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت