پاکستان سے برطانیہ کے لیے پروازوں کا سیلاب امڈ آیا

پاکستان میں ہزاروں برطانوی شہریوں کی موجودگی اور ریڈ لسٹ سے نکلنے کے لیے کسی ٹائم فریم کے نہ ہونے سے ٹریول ایجنٹوں نے ان افراد کو پاکستان سے نکالنے کے لیے اضافی چارٹرڈ طیاروں کی خدمات حاصل کی ہیں۔

پاکستان میں ہزاروں برطانوی شہریوں کی موجودگی اور ریڈ لسٹ سے نکلنے کے لیے کسی ٹائم فریم کے نہ ہونے سے ٹریول ایجنٹوں نے ان افراد کو پاکستان سے نکالنے کے لیے اضافی چارٹرڈ طیاروں کی خدمات حاصل کی ہیں۔ (فائل تصویر: اے ایف پی)

برمنگھم کے ہوائی اڈے پر اس سے پہلے ایسی ہلچل کم ہی دیکھنے میں آئی ہے اور پولینڈ سے رجسٹرڈ بوئنگ 737 طیاروں کا ایک بیڑا براستہ ماسکو اسلام آباد سے مغربی مڈلینڈز پہنچ رہا ہے۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے برمنگھم ہوائی اڈے پر آنے والی پولش فضائی کمپنی ’انٹر ایئر‘  کے تینوں طیارے یہاں لینڈ کرنے والی غیر معمولی پروازوں میں شامل ہیں، کیوں کہ جمعے کی صبح  چار بجے تک برطانوی شہری ’ریڈ لسٹ‘ میں شامل ممالک سے برطانیہ آ سکتے ہیں۔

برطانیہ نے کرونا (کورونا) کی وبا کے تناظر میں تین دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کو بھی اپنی ’ریڈ لسٹ‘ میں شامل کر رکھا ہے۔

ڈیڈ لائن کے بعد برطانیہ پہنچنے والے مسافروں کو قرنطینہ کے لیے ہوٹل میں 11 راتوں کے کرائے کی مد میں 1750 پاؤنڈ کی ادائیگی کرنا ہوگی۔ جمعے کی صبح چار بجے سے پہلے وہ پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے اپنے گھروں کو جاسکتے ہیں جہاں انہیں دس روز (یا اس سے کم، اگر پانچ دن کے بعد لیا جانے والا کرونا ٹیسٹ منفی آ جائے تو) ’سیلف آئیسولیشن‘ میں گزارنے ہوں گے۔

اس ڈیڈ لائن کے بعد طلب اور کرایوں میں اضافہ ہوا ہے اور برٹش ایئرویز، ورجن اٹلانٹک اور پاکستانی فضائی کمپنی پی آئی اے نے اضافی نان سٹاپ پروازوں کا آغاز کردیا ہے۔

پاکستان میں ہزاروں برطانوی شہریوں کی موجودگی اور ریڈ لسٹ سے نکلنے کے لیے کسی ٹائم فریم کے نہ ہونے سے ٹریول ایجنٹوں نے ان افراد کو پاکستان سے نکالنے کے لیے اضافی چارٹرڈ طیاروں کی خدمات حاصل کی ہیں۔

’ہائی فلائی‘ مالٹا کی جانب سے آپریٹ کیے جانے والے ایئر سینیگال کے ایئربس اے 330 طیارے نے گذشتہ ہفتے پانچ بار اسلام آباد اور مانچسٹر کے مابین پروازیں چلائی ہیں۔

ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈ 24‘ کے مطابق پورے ہفتے یہ طیارہ عام طور پر مقامی وقت کے مطابق صبح چار بجے پاکستانی دارالحکومت سے روانہ اور صبح آٹھ بجے مانچسٹر پہنچتا رہا۔

ڈیڈ لائن کے قریب آنے کے بعد مزید طیارے لائے جارہے ہیں اور بلغاریہ، آئس لینڈ اور سپین کی ہوائی کمپنیوں کے طیارے پاکستان سے اس ایئر لفٹ آپریشن میں شامل ہو رہے ہیں۔

بلغاریہ کی ’گلیو ایئر‘ کا ایک اور A330 طیارہ اسلام آباد سے صوفیہ کے راستے برمنگھم پہنچ رہا ہے جبکہ آئس لینڈئر نے پاکستانی دارالحکومت سے ہیتھرو تک بوئنگ 767 طیارے چلائے ہیں۔

اسی طرح ہسپانوی کیریئر ’واموس ایئر‘ کا ایک چارٹر طیارہ اسلام آباد سے لندن سٹینسٹڈ کے لیے شیڈول ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان پروازوں کے لیے آخری نشستیں تقریبا تین لاکھ پاکستانی روپے یا 14 سو پاؤنڈ میں فروخت ہو رہی تھیں۔

دیگر سروسز لاہور سے ہیتھرو اور مانچسٹر تک چل رہی ہیں لیکن قطر ایئر ویز کی لندن جانے والی شیڈولڈ پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔

دی انڈپینڈنٹ کے اندازے کے مطابق برطانوی حکومت کے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کے اعلان کے بعد سے پاکستان سے ہفتے میں کم از کم 30 اضافی پروازیں چلائی گئی ہیں، جن میں عام تعداد کے علاوہ 5000 سے 7000 کے قریب اضافی مسافروں کی آمد بھی شامل ہے۔

اس کے مقابلے میں ریڈ لسٹ میں شامل ہونے والے دیگر تین ممالک بنگلہ دیش، کینیا اور فلپائن سے آنے والے افراد کی تعداد کم ہے۔

ان میں سے بہت سارے مسافر ترکی جیسے تیسرے ممالک کے شہروں کے ذریعے برطانیہ پہنچیں گے لیکن دبئی، ابو ظہبی اور دوحہ کے روایتی راستوں کا استعمال ممکن نہیں ہے کیونکہ متحدہ عرب امارات اور قطر پہلے ہی ریڈ لسٹ میں شامل ہیں۔

برطانیہ آنے والے تمام افراد کو طیاروں میں سوار ہونے سے پہلے کرونا کے منفی ٹیسٹ کے ثبوت فراہم کرنا ہوں گے اور برطانیہ پہنچنے کے بعد ان کے دو اور آٹھ دنوں کے دوران مزید ٹیسٹ لیے جائیں گے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا