وزیرِ اعظم صاحب، شکار اور قصور وار میں فرق سمجھیں

اس سے قبل 2005 میں فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو کے دوران پوچھے گئے سوال پر کہا تھا کہ ’آپ کو پاکستانی ماحول کو سمجھنا ہو گا ۔۔۔ یہ پیسے بنانے کا ایک طریقہ ہے۔

(پکسابے)

وزیر اعظم کا کام بہت مشکل اور یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ چوبیس گھنٹے ہی کا ہے۔

ایک طرف حکومت کو خوش اسلوبی سے چلانا تو دوسری جانب حزب اختلاف کے داؤ پیچ کا مقابلہ کرنا یا اس سے پہلے کہ اپوزیشن اپنی چال چلے تو ان کو قومی احتساب بیورو کے چکروں میں ڈال دینا۔

وزیر اعظم کا ایک ایک لفظ، ایک ایک جملہ تنقیدی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کو ہر بات سوچ سمجھ اور ناپ تول کر کرنی ہوتی ہے کیونکہ اگر یہ کہا جائے کہ ان کو اپنی ذاتی رائے دینے کا حق نہیں رہتا تو مبالغہ آرائی نہیں ہو گی۔

ان کے منہ سے نکلا ہوا ہر فقرہ ان کی رائے نہیں بلکہ حکومتی پالیسی ہوتی ہے۔ وہ کسی ایک جماعت کی نمائندگی نہیں کر رہے ہوتے بلکہ ایک ملک کی کر رہے ہوتے ہیں اور پاکستان میں 22 کروڑ عوام کی۔

وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں عوام سے رابطہ جوڑنے کے لیے لائیو ٹی وی سیشنز کرنے شروع کیے جن میں وہ عوام کے سوال سنتے ہیں اور ان کے جوابات دیتے ہیں۔ اسی کوشش میں گذشتہ ہفتے ایک کالر نے ملک میں بڑھتے ہوئے ریپ کیسز کے حوالے سے سوال کیا تو وزیر اعظم صاحب نے کہا کہ ’اگرچہ ریپ کے بارے میں حکومت نے سخت قوانین بنائے ہیں لیکن ایسے جرائم کے بڑھنے کی وجوہات کو بھی دیکھنا ہو گا اور ان میں سے ایک وجہ فحاشی کا پھیلنا ہے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا، ’ہر انسان میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ خود کو روک سکے۔۔۔ آپ معاشرے میں جتنی فحاشی بڑھاتے جائیں گے تو اس کے اثرات ہوں گے۔‘

اس سے قبل 2005 میں فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو کے دوران پوچھے گئے سوال پر کہا تھا کہ ’آپ کو پاکستانی ماحول کو سمجھنا ہو گا ۔۔۔ یہ پیسے بنانے کا ایک طریقہ ہے۔  بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اگر آپ نے بیرون ملک جانا ہے اور کینیڈا کا وزٹ ویزا لینا ہے یا شہریت  اور لکھ پتی بننا ہے تو اپنا ریپ کروا لیں۔‘

فوجی آمر پر بھی ملک اور دنیا میں اتنی ہی تنقید ہوئی جتنی کہ منتخب وزیر اعظم عمران خان پر ہو رہی ہے۔ کینیڈا کے اس وقت کے وزیر اعظم پال مارٹن نے مشرف کے اس بیان پر تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے پاکستانی صدر جنرل مشرف سے اس بارے میں بات کی ہے اور یہ بات واضح کی کہ اس قسم کے بیانات ناقابل قبول ہیں اور خواتین کے خلاف تشدد ایک ایسا داغ ہے جو تمام انسانیت کو داغدار کر دیتا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے پاس کوئی ایسی تحقیق موجود ہو جس میں اس بات کے شواہد ملے ہوں کہ ریپ کا تعلق فحاشی سے ہے۔ اگر ایسا ہے تو حکومت کو چاہیے کہ اس تحقیق کو منظر عام پر لایا جائے۔

لیکن جو حقائق پوری عوام کےسامنے ہیں وہ یہ ہیں کہ پاکستان میں روزانہ 11 ریپ کیسز رپورٹ کیے جاتے ہیں اور پچھلے چھ سالوں میں تقریباً 22 ہزار ریپ کیس رپورٹ کیے گئے ہیں۔  ان میں محض 77 کیسز میں سزا ہوئی ہے جو کہ کُل تعداد کا 0.3 فیصد بنتا ہے۔ گذشتہ چھ سالوں میں کل کیسوں کی تعداد کا 12 فیصد میں عدالت میں چالان پیش کیے گئے۔

اور یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ریپ کیسز کی یہ تعداد اصل تعداد کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے کیونکہ سماجی دباؤ اور پولیس میں رپورٹ کرانے سے تفتیشی عمل تک اور ریپ سے متاثرہ خاتون کو ہی مورد الزام ٹھہرانے سے عدالت میں ہر طرح کے سوالات کے باعث زیادہ تر خواتین ریپ رپورٹ کرنے سے ہچکچاتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے علاوہ جو بات ایک حقیقت ہے وہ یہ ہے کہ وزیر اعظم صاحب نے کسی تحقیق کے حوالے سے بات نہیں کی بلکہ مغربی محقق ان کو ’ریپ مِتھ‘ (Rape Myth) کا نام دیتے ہیں۔

برطانوی تنظیم ’ریپ کرائسس‘ کے مطابق اس مِتھ یا گڑھی ہوئی کہانی یا بیانیے  کے باعث ریپ، جنسی تشدد اور جنسی ہراسانی سے متاثر ہونے والوں کے لیے یہ امر بہت دشوار ہو جاتا ہے کہ وہ کسی سے اپنے آپ پہ ہونے والے ستم کے بارے میں بات کر سکیں یا مدد لے سکیں۔ متاثرہ افراد اپنے آپ ہی کو قصور وار ٹھہراتے ہیں یا کسی سے بات نہیں کرتے کہ کیونکہ وہ سوچتے ہیں کہ کوئی ان پر یقین نہیں کرے گا۔

عالمی سطح پر جو عام طور پر ریپ متِھ یا بیانیے سامنے آئے ہیں ان میں سرِ فہرست وہ بیانیہ ہے جو وزیر اعظم صاحب نے بھی پیش کیا۔ اور وہ ہے خواتین جس طرح کا لباس پہنتی ہیں اور جو رویہ اختیار کرتی ہیں وہ سیکس کو دعوت دیتی ہیں۔ دیگر بیانیوں کے مطابق جو عورت نہ کہے تو اس کا مطلب ہاں ہوتا ہے، خواتین کا ریپ انجان لوگ کرتے ہیں، اگر خواتین چاہے تو ریپ ہونے سے بچ سکتی ہیں، خواتین طاقتور یا امیر لوگوں کے خلاف ریپ کا الزام ان سے بدلہ لینے کے لیے لگاتی ہیں، ریپ کرنے والے یا تو پاگل ہوتے ہیں یا جانور، ریپ کرنے والے ہم جیسے نہیں ہوتے۔

اور یہی وہ بیانیے ہیں جن کے باعث خواتین اپنے آپ کو قصوروار ٹھہراتی ہیں اور سوچتی ہیں کہ مجھے ایسا کرنا چاہیے تھا، مجھے یہ نہیں کرنا چاہیے تھا، اگر ایسا کرتی تو شاید یہ نہ ہوتا، میں اس کی مستحق ہوں،  میں نے اس کو ریپ یا جنسی ہراسانی کرنے دی۔

وزیر اعظم صاحب وہ 22 ہزار جیتے جاگتے انسان جنھوں نے ہمت کی اور ریپ کے کیس درج کرائے بہت باہمت ہیں۔ اپنے ساتھ ہوئی جنسی زیادتی کو پبلک میں لانا جی گردے کی بات ہے اور وہ بھی ایسے معاشرے میں جہاں ان کے اپنے گھر والے شاید ان پر یقین نہ کریں اور الٹا ان کو ہی ذمہ دار قرار دیں۔ ریپ، جنسی ہراسانی اور تشدد ایسے فعل ہیں جن کے اثرات زندگی بھر کے لیے متاثرہ افراد متاثر کر دیتے ہیں۔ ان 22 ہزار لوگوں کو گھڑی ہوئی کہانیوں کی بنا پر مسترد نہ کریں۔

اس لیے ہماری وزیرِ اعظم عمران خان سے درخواست ہو گی کہ وہ جرم کے شکار اور قصوروار میں فرق سمجھیں۔ ورنہ کل کو کہیں عورت کے ہنسنے پر بھی پابندی نہ لگ جائے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ